top of page

ادھورے گلاب کی کہانی

گیتی آراء

وہ بچی جس کی انگلیوں میں مٹی کی خوشبو بسی رہتی تھی اور جس کے دل میں گلاب کے پودے لگانے کی ایک سادہ سی خواہش تھی، اسے بہت جلد یہ سمجھا دیا گیا کہ اس کی چاہت اس کی اپنی نہیں۔ گھر کے صحن میں جب اس نے پہلی بار ننھا سا پودا لگانے کی ضد کی تو جواب ملا کہ یہ شوق یہاں نہیں، اپنے گھر جا کر پورا کرنا، یہاں دادی کو پسند نہیں۔ وہ چپ ہو گئی، مگر خواہش اندر کہیں زندہ رہی۔ وقت بدلا، دادی چلی گئیں، مگر دیوار باقی رہی، اس بار باپ نے کہا کہ یہ فضول کام ہے، پڑھائی کرو، گھر کے کام سیکھو۔ ہر بار اس کے خواب کو کسی نہ کسی دلیل کے نیچے دبا دیا گیا، اور ہر بار اسے یہی تسلی دی گئی کہ ایک دن اس کا اپنا گھر ہوگا جہاں وہ جو چاہے کر سکے گی۔ مگر جب وہ اپنے کہلانے والے اس گھر میں پہنچی تو وہاں بھی اس کی مرضی کی کوئی جگہ نہ تھی، شوہر نے صاف کہہ دیا کہ اسے گلاب پسند نہیں، یہ سب مت لگاؤ۔ اس نے پھر خاموشی اوڑھ لی، جیسے یہی اس کی تقدیر ہو۔ سال گزرتے گئے، وہ ماں بنی، پھر ساس، مگر اس کی وہ چھوٹی سی خواہش ہر رشتے کے پیچھے کہیں دبتی چلی گئی۔


جب اس نے بڑھاپے میں ایک بار پھر ہمت کر کے مٹی کو چھوا تو بیٹے نے روک دیا کہ اس کی بیوی کو یہ سب پسند نہیں، گھر کی سجاوٹ خراب ہوتی ہے۔ یوں ایک پوری زندگی گزر گئی، ایک معمولی سی خواہش کے انتظار میں، جو کبھی پوری نہ ہو سکی۔ اور جب وہ دنیا سے رخصت ہوئی تو اس کی قبر پر وہی گلاب رکھے گئے جنہیں اگانے کا حق اسے زندگی بھر نہ ملا، اور اس لمحے بھی سوال اٹھا کہ اب ان کی کیا ضرورت ہے۔ شاید سب سے گہری، سب سے خاموش رکاوٹ یہی ہے کہ ایک عورت کی خواہش کو کبھی سنجیدگی سے لیا ہی نہیں جاتا، وہ ہمیشہ کسی اور کی پسند اور ناپسند کے تابع رہتی ہے، اور یوں اس کے خواب وقت کے ساتھ مر نہیں جاتے، بس دفن ہو جاتے ہیں، بالکل اسی کے ساتھ.

bottom of page