امی کا انمول خزانہ
Palak Naz

کہانی ایک ایسے گھر کی ہے
جہاں رشتوں کی بنیاد خون سے نہیں،
محبت اور قربانی سے رکھی گئی تھی۔
باپ کے انتقال کے بعد
سوتیلے بچوں نے ماں سے
باپ کی راکھ تک دینے سے انکار کر دیا،
اور مطالبہ کیا کہ
وہ تمام جائیداد ان کے حوالے کر دے۔
حالانکہ گھر کے تمام اخراجات
ہمیشہ باپ ہی اٹھاتا رہا،
اور اس کے پاس اپنے نام پر کچھ بھی نہ تھا—
سوائے ایک چھوٹے سے ڈبے کے،
جس میں بچوں کے ٹوٹے ہوئے دودھ کے دانت
ناموں اور تاریخوں کے ساتھ
محفوظ کیے گئے تھے۔
ماں نے انصاف کے لیے دروازہ کھٹکھٹایا،
اور عدالت نے معاملہ ثالثی کے لیے بھیج دیا—
مگر کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں
جو عدالتیں نہیں،
دل اور وقت کرتے ہیں.
قانون ایک مضبوط حصار ہے،
جو مادی دولت کی نگہبانی کرتا ہے؛
مگر اصل، بے مول خزانے
اکثر میزانِ عدل اور دستِ قضا سے پرے
ایک ایسی دنیا میں بسیرا کرتے ہیں
جہاں کوئی فیصلہ رسائی نہیں پا سکتا۔
تم نے گمان کیا کہ اس کے ہاتھوں میں
سونا چاندی جھلک رہا ہے،
مگر تم یہ نہ جان سکے
کہ اس چھوٹے سے صندوق میں
وہ کیا شے تھی جسے وہ
اپنی جان سے بھی بڑھ کر عزیز رکھتی تھی—
وہی ننھے دانت،
جنہیں تم نے بے وقعت سمجھ کر ٹھکرا دیا تھا۔
ہر دودھ کا دانت
بچپن کی ایک روشن یاد تھا،
ایک ایسا لمحہ
جو وقت کی گرد میں کھو کر
کبھی واپس نہیں آتا۔
وہ ماں کی محبت،
اس کی خاموش عقیدت کی علامت تھے۔
شاید وہ اس کے خون سے نہ تھی،
مگر اس نے اپنی ہر خواہش میں
اپنی روح انڈیل دی،
اور اس کے گھر کی حفاظت کو
اپنا فرض بنا لیا…
اور اب؟
جب محبت کا بندھن ٹوٹ چکا ہے،
تو وہ چاہے تو اس بھاری یاد کو
چھوڑ سکتی ہے،
مگر کیا وہ اپنی باقی زندگی کا سفر
سکون اور وقار کے ساتھ
مکمل کر پائے گی؟
وہ فیصلہ جس تک قانون نہیں پہنچ سکتا،
ضمیر اور وقت کے سپرد کرنا ہوگا۔
میں سوچتی ہوں،
کیا وہ بچے جو اتنی آسانی سے
ان رشتوں کو توڑ دیتے ہیں،
اس ڈبے میں رکھے دانتوں کی خاموش نظر کو
برداشت کر سکیں گے؟
میں یہ بھی سوچتی ہوں،
کیا ان کے دلوں میں کبھی
سچے پچھتاوے یا احساسِ جرم کی
ہلکی سی چبھن بھی جاگے گی؟
یا وہ صرف اس چیز کا ماتم کریں گے
جو انہیں نہ مل سکی—
اور یہ کبھی نہ سمجھ سکیں گے
کہ انہوں نے کتنا قیمتی پیار کھو دیا؟
