top of page

خاموشی کا اقرار

Gia

کچھ خاموش ہیں ہم

جیسے دعا لبوں تک آ کر ٹھہر جائے


کوئی شکوہ نہیں

کوئی طلب بھی نہیں

بس ایک نرم سا احساس ہے

جو تمہارے نام سے بندھا ہوا ہے


ہم نے لفظوں کو روکا نہیں

وہ خود رک گئے

جب دل نے کہا

محبت کو آواز کی ضرورت نہیں


تم قریب ہو

یا بہت دور

اس کا حساب ہم نے چھوڑ دیا


بس ایک یقین ہے

کہ جو سچ ہوتا ہے

وہ کہے بغیر بھی رہتا ہے


یہ خاموشی

کوئی خلا نہیں

یہ وہ جگہ ہے

جہاں تم بسے ہوئے ہو

bottom of page