top of page

خاموشی کا ایک نرم گوشہ

Gia

کمرہ پرسکون تھا، شام کی ہلکی روشنی اور ریشم جیسی نرمی میں لپٹا ہوا۔ وہ اپنی میزِ سنگھار کے پاس بیٹھی تھی، یا شاید کسی کونے کی میز پر، ایک ایسی جگہ جو صرف اس کی تھی، نرم اور مانوس۔


اس کے ہاتھ میں تھاما ہوا گلابی سنہری قلم مدھم روشنی میں آہستہ سے چمک رہا تھا، صفحے پر یوں رکا ہوا جیسے کچھ سن رہا ہو۔


اس کی انگلیاں، نفاست سے سنواری ہوئی اور موتی جیسے ہلکے چمکدار رنگ میں ڈھلی، آہستگی اور ٹھہراؤ سے چل رہی تھیں۔ وہ کچھ لکھ رہی تھی، نہ کسی کام کے لیے، نہ کسی مجبوری میں، بلکہ جیسے سانس لینے کے لیے۔


ہر لفظ جیسے سوچ سمجھ کر چنا گیا ہو، جیسے وہ بہت دیر سے کہے جانے کا منتظر ہو۔ نہ یہ مکمل ڈائری تھی، نہ پوری شاعری، بس ایک نرم سا احساس جو لکھا جانا چاہتا تھا۔


بالوں کی ایک لٹ اس کے چہرے پر آ گری، مگر اسے خبر نہ ہوئی۔ اس کے ہونٹ ہلکے سے کھلے تھے، وہی کیفیت جب دل کہیں اور مصروف ہو، کچھ یاد کرتے ہوئے، کچھ سوچتے ہوئے، یا شاید کسی انجانی خواہش میں۔


اس کا دوپٹہ کندھے سے سرک کر ایک طرف پڑا تھا، جیسے وہ بھی بھلا دیا گیا ہو۔


وہ کچھ مکمل یا بے عیب بنانے کی کوشش میں نہیں تھی۔ وہ صرف لکھ رہی تھی، تاکہ یاد رکھ سکے، یا خود کو ہلکا کر سکے، یا کسی ایسے احساس کو تھام لے جو لفظوں کے بغیر بیان نہیں ہو سکتا۔

bottom of page