top of page

دسمبر کا فلسفہِ غم

Ovais

مظلوم مہینہ یا اردو ادب کا سازشی آلہ؟

"دسمبر اور اداسی کا فلسفہ: اردو ادب میں راہِ فرار اور جذباتی ناتوانی کا نفسیاتی جائزہ۔"

دسمبر۔ آہ! یہ لفظ سنتے ہی آپ کے دل میں ایک ٹھنڈی سی لہر اٹھی ہو گی، آنکھوں میں دھند کا منظر گھوم گیا ہو گا، اور یادوں کے صندوق سے بچھڑے محبوب کی تصویر نکل کر سامنے آ گئی ہو گی۔ ایسا کیوں ہوا؟ کیا دسمبر کا بائی ڈیفالٹ فنکشن (Default Function) اداسی، ہجر اور پچھتاوا ہے؟ یا ہم نے، خاص طور پر ہمارے خطے کے شاعروں اور ادیبوں نے، اس غریب مہینے کو "سالانہ غم برانڈ ایمبیسیڈر" کا عہدہ زبردستی سونپ دیا ہے؟


میں بطور ایک غیر جانبدار مشاہد، یہ اعلان کرتا ہوں کہ دسمبر ایک مظلوم مہینہ ہے! اس کے ساتھ اردو ادب میں وہ سلوک ہوا ہے جو کسی 'پراپرٹی ڈیلر' کے ساتھ بھی نہیں ہوتا۔ اسے سال کے آخر میں آنے والے تمام رنج و الم کی صفائی کا ٹھیکہ دے دیا گیا ہے۔


۱. تمہید: 'غموں کی قسطِ آخر'


دسمبر اصل میں سال کا 'فائنل نوٹس پیریڈ' ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جب زندگی سال بھر کی جمع شدہ اداسی، ناکام وعدوں اور بجٹ کی تنگی کا حساب چکانے آتی ہے۔ اور ہمارا شاعر، جو باقی گیارہ مہینوں میں سوشل میڈیا ٹرینڈز، کرکٹ میچوں اور گرمی کی شکایات میں مصروف رہا، یکدم دسمبر کی پہلی تاریخ کو 'فلسفیانہ موڈ' میں آ جاتا ہے۔


یہ سوچ کر ہنسی آتی ہے کہ اگر خدا نخواستہ دسمبر کو کسی ڈرامے میں کردار ملتا، تو وہ ہمیشہ 'غم زدہ سائیڈ ہیرو' ہوتا، جس کا واحد ڈائیلاگ ہوتا: "سال ختم ہو رہا ہے، اور تم پھر اکیلے ہو!" اگر دسمبر کو زبان مل جاتی، تو وہ اپنی پہلی تقریر میں کہتا:

"لوگو! خدا کے لیے مجھے چین سے جینے دو! تمہارے ہر ہجر، ہر ناکام عشق، اور ہر پرانے وعدے کا بوجھ میرے ناتواں کندھوں پر کیوں؟ یہ دسمبر ہے، کوئی 'آنسوؤں کا کلیکشن پوائنٹ' نہیں!"


۲. اردو شاعری کی سازش: 'بچھڑے ہوئے محبوب اور دسمبر کا ٹھیکہ'


اردو شاعری پر باقاعدہ 'سیکشن 144' لگنی چاہیے کہ وہ دسمبر کو صرف غم کے لیے استعمال نہ کرے۔ شاعروں نے دسمبر کو اپنے بچھڑے ہوئے محبوبوں کی 'مستقل رہائش گاہ' بنا دیا ہے۔ آپ سوچیے، جنوری میں نیا سال، فروری میں ویلنٹائن، مارچ میں ہولی/بسنت، اپریل میں بے وقت کی بارش، مئی/جون میں 'لُو' سے مقابلہ۔ شاعر کو غم منانے کی فرصت کہاں؟


پھر آتا ہے معصوم دسمبر، جب موسم کچھ ٹھنڈا ہوتا ہے اور شاعری میں 'کلاس' لانے کے لیے 'تنہائی' اور 'برف' کا عنصر شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک آسان "ریڈی میڈ غم کا فارمولا" ہے:

شاہکار شعر – ادھوری محبت – پرانی جیکٹ ـ دھند (نابینا پن) – دسمبر


مزاحیہ پہلو یہ ہے کہ یہی شاعر گرمیوں میں اسی محبوب سے ملنے کے لیے تڑپ رہا ہوتا ہے، مگر چونکہ مئی کی تڑپ پر شعر پڑھنے سے پسینہ آ جاتا ہے، اس لیے وہ غم کو 'فریز' کر کے دسمبر کے لیے بچا لیتا ہے۔ یہ کیسی ناانصافی ہے کہ 'درد' صرف سردی میں ہی 'رومانوی' لگتا ہے؟


۳. جغرافیائی اور موسمیاتی مغالطے: 'اے سی کا خوف اور ٹھنڈا رومانس'


ہم نے مغربی ادب سے 'سردی کی اداسی' کا کانسپٹ ادھار لیا، جہاں دسمبر میں شدید برف باری، رات کی طوالت اور ہر طرف خاموشی ہوتی ہے۔ مگر جناب! ہمارے یہاں دسمبر کا کیا حال ہے؟

یہاں دسمبر کا مطلب ہے: صبح دس بجے تک کمبل میں پڑے رہنا، دھوپ نکلنے پر چھت یا لان میں کرسی ڈال کر بیٹھنا، مونگ پھلی کھانا، اور دوپہر کو پکوڑے کھانا۔


فلسفہ کہاں ہے؟ غم کہاں ہے؟ یہ تو 'سردیوں کی بہترین تفریحی چھٹیاں' ہیں۔ اگر اس دوران کوئی شخص رو بھی رہا ہے تو اس کا تعلق پرانی یادوں سے نہیں، بلکہ اس بات سے ہے کہ اس کے حصے کی مونگ پھلیاں کسی اور نے کھا لیں۔


میں دسمبر کی وکالت کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ یہ تو دراصل 'جشن اور تقاریب' کا مہینہ ہے۔ شادی ہالز میں رقص و موسیقی کی گونج ہے، شہروں میں کرسمس اور سالِ نو کی تیاریوں کا شور ہے۔ کیا اداس لوگ شادی کے کارڈز پر تاریخ دسمبر کی لکھواتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ دسمبر تو 'نئی زندگی' کی شروعات کا مہینہ ہے۔


۴. نفسیاتی تاویلیں: 'غم کی فیشن پرستی اور وائرل اسٹیٹس'


آج کل غم منانا ایک فیشن بن چکا ہے۔ آپ چاہے اندر سے کتنے ہی خوش ہوں، اگر آپ نے دسمبر میں کوئی اداس شعر یا 'موسم کی اداسی' والا اسٹیٹس نہیں لگایا، تو آپ کو 'سطحی' سمجھا جائے گا۔ دسمبر اس 'ڈیپ فیلنگز' والے برانڈ کو برقرار رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔


یہاں معاملہ یہ ہو گیا ہے کہ لوگوں کا اصلی غم دراصل دسمبر کی سردی نہیں، بلکہ واٹس ایپ پر آنے والے بے شمار اداس اشعار ہیں جو وہ چاہ کر بھی فارورڈ کرنے سے انکار نہیں کر پاتے۔ اگر کوئی خوش آدمی دسمبر میں یہ کہہ دے کہ "مجھے تو سردی میں بہت مزہ آ رہا ہے، بہت لذیذ کھانا کھایا جا رہا ہے"، تو اس کو معاشرے سے باہر نکال دیا جائے گا۔


دسمبر نے ہمیں سکھا دیا ہے کہ خوش رہنا ایک ذاتی معاملہ ہے، مگر غمگین ہونا ایک سماجی ذمہ داری ہے۔


۵. نتیجہ: اے دسمبر بغاوت کر

آخر میں، میں دسمبر سے ایک فلسفیانہ اپیل کرتا ہوں:

"اے دسمبر! اب بس کر! تم ایک مہینہ ہو، کوئی 'شاعری کی پراپرٹی' نہیں۔ آئندہ سال سے تم اپنے آغاز میں ہی ایک پریس ریلیز جاری کرو جس میں لکھا ہو کہ: 'میں بالکل خوش ہوں، میرے پاس بچھڑی یادوں کا کوئی سٹاک نہیں ہے، اور مجھ میں غم کے انجکشن لگانا بند کیا جائے!'"


ہمیں چاہیے کہ ہم اس مظلوم مہینے کو اس کے 'غم زدہ برانڈ' سے آزاد کریں۔ چائے کی چسکی لیں، دھوپ سینکیں، اور یہ مان لیں کہ زندگی کی اداسی کسی ایک مہینے کی محتاج نہیں ہوتی۔ وہ تو 'گیارہ مہینے پہلے' بھی وہی تھی اور 'بارہویں' میں بھی وہی ہے۔

چلو، اب دسمبر کو اُس کی اپنی زندگی جینے دو!

bottom of page