top of page

غزل

راکب

بھرا ہے تیروں سے ترکش، مثال کوئی نہیں

مگر یہ دکھ ہے، نشانے پہ فی لحال کوئی نہیں


ہزاروں شعر مرے حرف و صوت میں ہیں قید

سنے جو درد سے، ایسا ملال کوئی نہیں


میں اپنی فکر کی خوشبو لٹاؤں کس پہ یہاں

کہ اس دیار میں میرا غزال کوئی نہیں


کمان تان کے بیٹھا ہوں فن کی راہوں میں

پر اس ہنر کا یہاں اب کمال کوئی نہیں


لکھے ہیں میں نے جو صفحوں پہ خونِ دل سے ابھی

پڑھے جو شوق سے، وہ لازوال کوئی نہیں

bottom of page