top of page

معاشرتی زوال، مردانہ نفسیات اور خول میں لپٹے انسان: ایک تلخ مشاہدہ

Ovais

تحریر: اویس


میں جب بھی گھر کی دہلیز پار کرتا ہوں اور اس سماج کی حقیقتوں میں قدم رکھتا ہوں، تو کانوں میں پڑنے والی پہلی آواز اکثر کسی گالی کی ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جو ہمارے معاشرے کی رگوں میں زہر بن کر دوڑ رہا ہے۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ یہ ماں بہن کی گالیاں کسی دشمنی کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اکثر "بغیر کسی بات کے" اور بے تکلفی کے نام پر دی جاتی ہیں۔ مردوں کی محفلوں (Guy Talk) کے موضوعات اس قدر غلیظ ہو چکے ہیں کہ وہاں فحش نگاری (Porn)، عورت کی تذلیل اور گھٹیا باتوں کے سوا کچھ نہیں ملتا۔


ایک تخلیقی اور حساس ذہن جب ان مشاہدات سے گزرتا ہے تو وہ صرف آوازیں نہیں سنتا، بلکہ اس زوال کی گہرائیوں کو ناپتا ہے۔


ہر شعبہِ زندگی میں سرایت کرتی ہوئی گراوٹ

یہ اخلاقی دیوالیہ پن صرف سڑکوں اور چوراہوں تک محدود نہیں، بلکہ اس نے زندگی کے ہر مرحلے اور ہر محکمے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے:


سکول اور تعلیمی ادارے: جہاں سے شعور کی ابتدا ہونی چاہیے، وہاں لڑکوں کو غنڈہ گردی (Bullying) اور طاقت کا جھوٹا رعب سکھایا جاتا ہے۔

دفاتر اور ورک پلیس: یہاں مردانہ انا (Male Ego) دفتری سیاست، اقربا پروری اور خواتین کے استحصال کی شکل میں نظر آتی ہے۔

مدرسے اور مذہبی ادارے: یہ سب سے تلخ حقیقت ہے جس پر بات کرنے سے معاشرہ کتراتا ہے۔ وہ جگہیں جنہیں روحانیت اور پاکیزگی کا مرکز ہونا چاہیے تھا، وہاں بند کمروں میں فحش مواد (Porn) کا بے تحاشا استعمال ایک کھلی اور بھیانک حقیقت بن چکا ہے۔


نفسیاتی طور پر یہ اس بات کی غمازی ہے کہ مذہب بھی ان لوگوں کو "انسان" بنانے میں ناکام رہا ہے۔ مذہب اب محض ایک ظاہری خول، ایک رسم یا دکھاوا بن کر رہ گیا ہے، جبکہ اندر وہی ہوس، فرسٹریشن اور اخلاقی گراوٹ پل رہی ہے۔ جب تربیت کی بنیاد میں منافقت ہو، تو کوئی بھی عقیدہ انسان کو بدل نہیں سکتا۔


جرائم کی ابتدا اور مردانہ نفسیات

اگر ہم تاریخ، سماجیات اور نفسیات کا گہرا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ہونے والے زیادہ تر جرائم کی بنیاد، ڈیزائن یا شروعات مردوں ہی کی طرف سے ہوئی ہے۔ جنگیں، قتل و غارت، معاشی استحصال اور ہوس کی آگ؛ ان سب کے پیچھے وہی مردانہ ذہنیت کارفرما ہے جو طاقت کے نشے میں اندھی ہے۔ اگرچہ اس دنیا میں انتہائی اعلیٰ ظرف اور بہترین انسان بھی موجود ہیں، لیکن بحیثیتِ مجموعی، مردانہ گروہوں نے جس طرح دنیا کا امن اور اخلاقی نظام تباہ کیا ہے، وہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔


شہری شعور (Civic Sense) کا جنازہ اور ڈیجیٹل درندگی

گلیوں سے لے کر انٹرنیٹ کی وسیع دنیا تک، مردوں کی اکثریت شہری شعور (Civic Sense) اور اخلاقیات (Ethics) سے مکمل طور پر ناواقف ہے۔ سڑک پر کچرا پھینکنا، ٹریفک قوانین توڑنا یا کسی کو ہراساں کرنا ان کے نزدیک کوئی برائی ہی نہیں۔

آن لائن دنیا میں یہ رویہ درندگی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر گالی گلوچ اور نفرت کا بازار گرم ہے۔ فحش نگاری کی صنعت جس نے آج انتہائی بھیانک اور متشدد شکل اختیار کر لی ہے، وہ مکمل طور پر مردانہ مانگ (Demand) اور ان کی مسخ شدہ نفسیات کی پیداوار ہے۔


حساسیت کو عیب سمجھنا: ایک نفسیاتی جبر

اس معاشرے کا ایک اور بڑا نفسیاتی المیہ یہ ہے کہ یہاں "اچھا انسان" ہونا بھی ایک جرم ہے۔ اگر کوئی مرد حساس ہے، اسے کسی کے دکھ پر رونا آتا ہے، وہ نرم لہجے میں بات کرتا ہے، یا وہ تہذیب اور اصولوں (Norms) کا پابند ہے، تو اسے سب سے زیادہ طعنے دوسرے مردوں کی طرف سے ہی سننے کو ملتے ہیں۔

• "تم تو لڑکیوں کی طرح رو رہے ہو"

• "تم میں تو مردانگی ہی نہیں"

یہ وہ زہریلے جملے ہیں جو مرد خود دوسرے مردوں کی تذلیل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ ایک اچھے اور حساس انسان کو شرمندہ (Shame) کر کے اسے بھی اپنے جیسا بے حس اور درندہ بننے پر مجبور کرتے ہیں۔


میرا مشاہدہ اور ایک آزاد فرد کی حیثیت سے میرا انتخاب

سقراط کا ایک مشہور قول ہے کہ "ایک غیر جانچ شدہ زندگی جینے کے قابل نہیں"۔

میں نے جب ان گلیوں میں، محفلوں میں اور اداروں میں مردوں کو اس غلاظت میں غرق دیکھا، تو مجھے احساس ہوا کہ شعور کتنی بڑی نعمت ہے۔ اگر میں اپنا دماغ استعمال نہ کرتا، اگر میں نے ادب، فلسفے اور شاعری سے اپنا رشتہ نہ جوڑا ہوتا، تو آج میں بھی اسی بھیڑ کا حصہ ہوتا۔ میں نے خود کو ایک ہجوم سے الگ کر کے ایک آزاد اور انفرادی اکائی (Independent Individual Entity) کے طور پر پہچانا۔ میری سوچ، میری کتابیں اور میرا قلم وہ ڈھال ہیں جنہوں نے مجھے اس معاشرتی زوال کا حصہ بننے سے بچائے رکھا۔


یہ مضمون کسی کی تضحیک نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے تاکہ ہم دیکھ سکیں کہ ہم بحیثیتِ مجموعی کہاں کھڑے ہیں۔ انسان بننا ایک شعوری عمل ہے، جو کسی روایتی محفل یا محض ظاہری خول سے حاصل نہیں ہوتا۔

bottom of page