top of page

کالو

میر فاری

ماں کے چہرے کی جھریوں جیسا یہ مٹی گارے کا بنا ٹھکانہ

جسے کالو کی ماں اپنے ہاتھوں سے لیپا پوتی کرتی تھی جب تک زندہ رہی اپنی ممتا بھری آغوش میں دونوں کو سمیٹے رکھا __ ماں کے جاتے ہی اس میں بھی ڈاڑریں پڑ گئ______ کالو کے سپاٹ چہرے کے خد و خال جیسی _____

سامنے دیوار کی ٹیک سے ٹکا 'یہ شیشہ جو کالو کے قد سے بھی بڑا ' روز ہی تو مجھے مجھ سے ملاتا ہے اور پھر میں دیکھتا ہوں کہتا ہوں اس سے ' اپنے آپ سے ____

کب تک ایسے لبادے میں زندگی کے دکھوں کو گھسیٹتا رہونگا ' میرے

قدموں میں تو چپل بھی میرے ناپ کی نہیں اور نا تن ڈھانپنے کو

کوئ اعلیٰ ترین سوٹ بوٹ ٹائ __ اس زمانے کی کوئ شے پہ میرا کوئ حق نہیں __ ڈیجٹل زمانے کی ترقی میری کیوں نہیں ؟؟

میں اسی طرح ننگ دھڑنگ ہاتھوں میں دوسروں کا بوجھ لئے

کب تک اپنی لڑائ خود سے لڑتا رہونگا ___

پیدا ہونے سے اب تک تو بھوک ننگ سے تن تنہا ہی لڑتا آ رہا ہوں

بابو بن بھی گیا __ تو کون مجھے ایسے حلیہ میں برداشت کرے گا

دیوقامت شیشے کے سامنے خود کو بابو بنے دیکھ کر خود سے ہی سوال جواب کرتے ہوئے کالو رک سا گیا " اتنے میں کانوں میں صاحب کے ڈرائیور کی حقارت بھری رعب دار آواز گونجی ______

اوئے کااالوو !!

جلدی باہر آ صاحب کا بیگ اور لیپ ٹاپ تو دے جا

bottom of page