top of page
رت جگے
عنبرین مشہدی
اے شبِ تنہائی کے مسافر!!
خوابیدہ چراغوں کی لو تلے سورج چمکانےکے سپنوں کی اجازت نہیں ہے۔۔
ٹمٹماتی روشنی کے موہوم سی زندگی والے تارے !
اندھیر نگری کی مسافتوں میں تیرا پڑاؤ کتنا طویل ہے!
کتنی سیڑھیاں ابھی تکھے شہابِ ثاقب کے مرتبے پہ فائز کرنے کو درکار ہیں؟
شمعِ نیم سحر تیری لو سے شاعرِ نا امید کب تلک استعارہ مانگے گا؟
بے بہا نوری مسافروں اور پگڈنڈیوں کے درمیاں سے ہوتے ہوئے
جب قاب و قوسین پہ تیری نمائندگی کر دی گئی،
تو آج پاتال کی گہرائیوں میں تیرے قدموں کی چاپ کیوں ہے۔۔
اے اندھیرے نگری میں بھٹکنے والی روح
سو جا! کہ سحر کی وادی دور ہے
اور دیے کی لو محدود ہے۔۔
bottom of page
