top of page

عکسِ برعکس

Ovais

لوگ کیا کہیں گے؟

عکسِ برعکس: لوگ کیا کہیں گے؟

یہ کہانی ہے معاشرے کے بنے بنائے سانچوں کو توڑنے والے چار نوجوانوں کی، جو اپنی شناخت کی تلاش میں "لال کوٹھی" کے سائے تلے متحد ہوتے ہیں۔ جب ایک سابق سرکاری افسر، ایک باغی فنکارہ، ایک خوفزدہ انفلوئنسر اور ایک تخلیقی مصور کے راستے ملتے ہیں، تو وہ خوف اور کرپشن کے خلاف ایک ایسی خاموش بغاوت کا آغاز کرتے ہیں جو "لوگ کیا کہیں گے؟" کی زنجیروں کو ہمیشہ کے لیے کاٹ دیتی ہے۔ یہ سچائی، محبت اور خود شناسی کا ایک سنسنی خیز سفر ہے۔

عکسِ برعکس

لوگ کیا کہیں گے؟

باب اول: "لوگ کیا کہیں گے" کا الارم


صبح کے ساڑھے چھ بجے تھے، لیکن ارمغان کے کمرے کا ماحول کسی وار زون (War Zone) سے کم نہ تھا۔ لاہور کی ہوا میں ابھی وہ خنکی باقی تھی جو فجر کے فوراً بعد محسوس ہوتی ہے، مگر ارمغان کے کمرے کی دیواریں تپ رہی تھیں۔ وہ تپش سورج کی نہیں، بلکہ ان توقعات کی تھی جو اس چھوٹے سے کمرے میں حبس پیدا کر رہی تھیں۔


ارمغان نے تکیہ اپنے کانوں پر پوری قوت سے دبایا، مگر اسے پتہ تھا کہ اس گھر کی دیواریں آواز نہیں، بلکہ صرف جذبات روکنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ باہر ہال میں اس کی والدہ، بیگم زاہدہ، فون پر اپنی کسی دور کی بھابھی سے محاذ آرائی میں مصروف تھیں۔ ان کا لہجہ ایسا تھا جیسے وہ کسی بین الاقوامی معاہدے پر بحث کر رہی ہوں۔


"جی ہاں بھابھی! ارمغان تو بس اب جوائننگ دینے ہی والا ہے۔ آپ کو تو پتہ ہے، سی ایس ایس (CSS) افسر کی ذمہ داریاں اتنی ہوتی ہیں کہ لڑکے کو سانس لینے کی فرصت نہیں ملتی۔ ابھی کل ہی ڈپٹی کمشنر صاحب کا فون آیا تھا۔۔۔"


بیگم زاہدہ کی آواز میں وہ خاص قسم کا فخر تھا جو صرف اس وقت آتا ہے جب آپ کا بیٹا معاشرے کے بنائے ہوئے 'کامیابی کے معیار' پر پورا اتر رہا ہو۔ ارمغان نے چھت کے سست رفتار پنکھے کو گھورتے ہوئے ایک لمبی اور بوجھل آہ بھری۔ اس کی میز پر ہسٹری، پولیٹیکل سائنس اور انٹرنیشنل ریلیشنز کی موٹی موٹی کتابیں ایسے ترتیب سے سجی تھیں جیسے کسی قبرستان میں کتبے لگے ہوں۔ یہ کتابیں اس کے لیے علم کا ذریعہ نہیں، بلکہ وہ بیڑیاں تھیں جنہوں نے اس کے خوابوں کو جکڑ رکھا تھا۔


اسے 'ارمغان دی افسر' بننے کا کوئی شوق نہیں تھا۔ اسے تو بس خاموشی چاہیے تھی، پہاڑوں کی دھندلی صبحیں چاہیے تھیں، اور وہ کیمرہ چاہیے تھا جو الماری کے سب سے نچلے خانے میں پرانی چادروں کے نیچے دبا پڑا تھا۔ اسے تو بس یہ جاننا تھا کہ اگر وہ 'بیوروکریٹ' نہ بنے تو وہ کیا ہے؟ لیکن اس کے گھر میں 'انفرادیت' (Individuality) ایک ایسا مہنگا برانڈ تھا جسے خریدنے کی اجازت کسی کو نہیں تھی۔ یہاں سب کو ایک ہی سانچے میں ڈھلنا تھا: یا تو ڈاکٹر، یا انجینئر، یا پھر سرکاری افسر۔ اس کے علاوہ جو کچھ تھا، وہ 'آوارگی' کہلاتا تھا۔


وہ بستر سے اٹھا، واش بیسن کے سامنے کھڑا ہوا اور ٹھنڈے پانی کے چھینٹے اپنے چہرے پر مارے۔ آئینے میں اسے ایک ایسا شخص نظر آیا جس کی آنکھوں کے نیچے ہلکے تھے اور چہرے پر ایک عجیب سی بیزاری۔


"ارمغان صاحب، آج آپ کا پہلا دن ہے اس بڑے جھوٹ کا جو آپ کو ساری زندگی بولنا ہے۔" اس نے گیلے چہرے کے ساتھ خود سے سرگوشی کی۔


اچانک اس کے فون کی سکرین روشن ہوئی اور ایک مخصوص 'ٹنگ' کی آواز آئی۔ یہ کوئی عام واٹس ایپ نوٹیفکیشن نہیں تھا۔ ایک گمنام نمبر سے میسج تھا:

"کیا آپ بھی وہی کر رہے ہیں جو سب چاہتے ہیں؟ یا وہ، جو آپ کی روح چاہتی ہے؟ اگر 'لوگ کیا کہیں گے' کا شور سنتے سنتے تھک گئے ہیں، تو 'دی ان مولڈنگ ایجنسی' (The Un-molding Agency) میں خوش آمدید۔ کلک کریں اور خود کو ڈھونڈیں۔"


ارمغان کی انگلیاں رک گئیں۔ اسے لگا جیسے کسی نے اس کے دل کے اندر جھانک کر یہ الفاظ لکھے ہوں۔ کیا یہ کوئی ہیکر تھا؟ یا کوئی نیا آن لائن فراڈ؟ مگر اس وقت وہ اتنا اکتا چکا تھا کہ اسے فراڈ بھی حقیقت سے بہتر لگ رہا تھا۔


اسی وقت، لاہور کے ایک پرانے اور تنگ گلیوں والے علاقے میں، جہاں بجلی کی تاریں آپس میں گتھم گتھا ہو کر کسی قدیم معمے کا منظر پیش کرتی تھیں، ایک خستہ حال عمارت کی دوسری منزل پر زندگی الگ ہی رنگ میں رقص کر رہی تھی۔


یہ زویا کا سٹوڈیو تھا۔ ایک ایسا کمرہ جہاں ترتیب نام کی کوئی چیز نہیں تھی، مگر وہاں ایک عجیب سا سکون تھا۔ دیواروں پر پینٹ کے دھبے تھے، کہیں کسی پرانی فلم کا پوسٹر لگا تھا تو کہیں ادھوری پینٹنگز۔ زویا اپنی کافی کا بڑا سا مگ تھامے، پاؤں کرسی پر رکھے لیپ ٹاپ کی سکرین پر جمی ہوئی تھی۔ اس کے بکھرے ہوئے بال اور آنکھوں کی چمک بتا رہی تھی کہ وہ گزشتہ کئی گھنٹوں سے سوئی نہیں ہے۔


اس نے ابھی ابھی 'بلک میسجز' (Bulk Messages) کا بٹن دبایا تھا۔ اس نے ایسے دس لوگوں کو نشانہ بنایا تھا جن کے بارے میں اس کی 'تحقیق' بتاتی تھی کہ وہ اپنی زندگی کے اس موڑ پر ہیں جہاں وہ بس ٹوٹنے والے ہیں۔


"چلو بھئی،" زویا نے کافی کا ایک گھونٹ بھرتے ہوئے مسکرا کر کہا۔ "آج دیکھتے ہیں کہ کتنے 'اچھے بچے' اپنی قید سے بھاگنے کی جرات کرتے ہیں۔"


زویا کے لیے یہ کوئی بزنس نہیں تھا، یہ ایک مشن تھا۔ وہ خود اس راستے سے گزر چکی تھی جب اس کے والد نے اسے 'بزنس ایڈمنسٹریشن' پڑھنے پر مجبور کیا تھا اور اس نے عین فائنل ایگزام والے دن یونیورسٹی کے بجائے آرٹ گیلری کا رخ کر لیا تھا۔ اس دن سے وہ اپنے گھر والوں کے لیے 'پاگل' تھی، مگر اپنی نظر میں وہ پہلی بار 'زندہ' ہوئی تھی۔


اس کے سٹوڈیو کی دیوار پر کالے رنگ سے بڑے حروف میں لکھا تھا:

'لوگ کیا کہیں گے؟' دنیا کا وہ سب سے بڑا جھوٹ جو قبر تک انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔

زویا نے لیپ ٹاپ بند کیا اور کھڑکی سے باہر دیکھا۔ نیچے گلی میں ایک دودھ والا چیخ رہا تھا، ایک بچہ سکول جانے کے لیے رو رہا تھا، اور دو خواتین دیوار کے ساتھ کھڑی کسی تیسری کی برائی کر رہی تھیں۔ زندگی اپنے پورے عروج پر تھی، مگر کتنی میکانکی (Mechanical) تھی۔

"آج کا دن دلچسپ ہونے والا ہے،" اس نے خود سے وعدہ کیا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ اس کا بھیجا ہوا ایک میسج ارمغان جیسے 'پرفیکٹ بیٹے' کی زندگی میں وہ طوفان لانے والا ہے جو سب کچھ بدل کر رکھ دے گا۔


ارمغان نے فون میز پر رکھا، مگر اس کی نظریں وہیں جمی رہیں۔ باہر ہال میں اب بیگم زاہدہ ناشتے کی میز پر برتنوں سے شور مچا رہی تھیں، جو کہ اس بات کا سگنل تھا کہ 'صاحبزادے' اب باہر تشریف لائیں۔


اس نے گہری سانس لی، اپنی استری شدہ قمیض کے بٹن بند کیے اور کمرے سے باہر نکل آیا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ یہ اس کی پرانی زندگی کا آخری عام دن ہے۔ ایڈونچر، تھرل اور شاید... اپنی اصلیت سے پہلی ملاقات، اس کا انتظار کر رہی تھی۔


باب دوم: فلٹر کے پیچھے چھپی زندگی

جب شہر کے دوسرے کونے میں ارمغان اپنی خاموش بغاوت کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، اسی وقت گلبرگ کے ایک پرتعیش بنگلے میں دانیا اپنے تیسرے 'رِنگ لائٹ' (Ring Light) کے سامنے کھڑی تھی۔ اس کا کمرہ کسی شو روم کا منظر پیش کر رہا تھا؛ مہنگے برانڈز کے جوتے، میک اپ کا ڈھیر اور دیواروں پر لگی بڑی بڑی تصویریں، لیکن ان سب کے درمیان دانیا کی اپنی شخصیت کہیں گم تھی۔


"ہائے گائز! ویلکم بیک ٹو مائی لائف،" دانیا نے اپنے فون کے کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے ایک مصنوعی مگر دلکش مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ "آج میں آپ کو دکھاؤں گی کہ میری 'مارننگ روٹین' کتنی پرفیکٹ ہوتی ہے۔"


حقیقت یہ تھی کہ دانیا پچھلے دو گھنٹوں سے صرف اس 'نیچرل لک' (Natural Look) کو پانے کی کوشش کر رہی تھی جسے وہ اپنے لاکھوں فالورز کو 'قدرتی' کہہ کر بیچنے والی تھی۔ اس نے ابھی تک ناشتہ نہیں کیا تھا کیونکہ اس کا ناشتہ جو کہ ایواکاڈو ٹوسٹ اور ایک فینسی کافی پر مشتمل تھا صرف تصویر کھینچنے کے لیے تھا۔ وہ ٹھنڈا ہو چکا تھا اور اس کا ذائقہ اب کسی ربڑ جیسا تھا، مگر 'لوگ کیا کہیں گے' اگر اسے پتہ چلا کہ دانیا بھی عام لوگوں کی طرح پراٹھا اور چائے شوق سے پیتی ہے؟


دانیا کے لیے اس کی زندگی ایک 'پروجیکٹ' بن چکی تھی۔ ہر وہ کام جو وہ کرتی، ہر وہ جگہ جہاں وہ جاتی، اس کا مقصد سکون پانا نہیں بلکہ 'لائیکس' (Likes) سمیٹنا تھا۔ اس کی ماں، جو اکثر اس کے کمرے کے باہر سے گزرتے ہوئے ٹھنڈی آہ بھرتی تھیں، ہمیشہ کہتی تھیں: "بیٹی، کبھی تو اس شیشے کے ڈبے سے باہر نکل کر دیکھو کہ تم اصل میں کون ہو۔"


مگر دانیا کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا۔ اسے ڈر لگتا تھا کہ اگر اس نے فلٹر ہٹا دیا، تو شاید پیچھے کچھ بھی نہ بچے۔


اسی دوران، دانیا کی سکرین پر بھی وہی گمنام نوٹیفیکیشن چمکا:

"کیا آپ کی زندگی واقعی اتنی ہی رنگین ہے جتنا آپ کا انسٹاگرام فیڈ؟ یا آپ بھی کسی کیمرے کے پیچھے قید ہیں؟ 'دی ان مولڈنگ ایجنسی' آپ کو اصلیت سے ملوانا چاہتی ہے۔"


دانیا کا دل زور سے دھڑکا۔ اس نے غصے سے فون بیڈ پر پٹخ دیا۔ "کون ہے یہ بدتمیز؟" اس نے بڑبڑایا۔ مگر پھر، تجسس اس کے غصے پر غالب آگیا۔ اس نے دوبارہ فون اٹھایا اور اس میسج کو غور سے پڑھا۔ اسے ایسا لگا جیسے کسی نے اس کے اس 'پرفیکٹ ماسک' میں چھید کر دیا ہو۔


اسی شام: 'دی ان مولڈنگ ایجنسی' کا خفیہ ٹھکانہ

زویا اپنے سٹوڈیو میں اکیلی نہیں تھی۔ اس کے سامنے چچا جمشید بیٹھے تھے، جو اپنی ساٹھ سالہ زندگی میں پہلی بار کسی ایسی لڑکی سے بات کر رہے تھے جو ان کی عمر کا لحاظ کیے بغیر انہیں 'بوڑھا' نہیں بلکہ 'انسان' سمجھ رہی تھی۔


"بیٹا، لوگ ہنسیں گے،" چچا جمشید نے لرزتی آواز میں کہا۔ ان کے ہاتھ میں گٹار بجانے والا 'پک' (Pick) تھا جسے وہ کسی قیمتی ہیرے کی طرح چھپا رہے تھے۔ "اس عمر میں موسیقی؟ میرے پوتے پوتیوں کے سامنے میری کیا عزت رہ جائے گی؟"


زویا نے میز پر جھک کر ان کی آنکھوں میں دیکھا۔ "چچا جان، عزت وہ نہیں ہوتی جو ڈر سے ملے، عزت وہ ہے جو آپ کی خوشی سے آئے۔ آپ کو گٹار بجانا ہے یا لوگوں کے طعنوں کی دھن پر ناچنا ہے؟"


چچا جمشید خاموش ہو گئے۔ زویا کا یہ 'تنز و مزاح' والا انداز ان کے لیے نیا تھا۔ وہ اس کی باتوں میں چھپے سچ سے ڈر بھی رہے تھے اور متاثر بھی ہو رہے تھے۔


"ٹھیک ہے،" چچا نے ایک گہری سانس لی۔ "میں اس ٹریک (Trek) پر چلنے کے لیے تیار ہوں، مگر شرط یہ ہے کہ وہاں کوئی مجھے 'انکل' کہہ کر میری عمر یاد نہیں دلائے گا۔"


زویا کھلکھلا کر ہنس دی۔ "وعدہ رہا! وہاں سب صرف 'انسان' ہوں گے۔"


اسی لمحے زویا کے لیپ ٹاپ پر دو نئے سگنلز آئے۔ ارمغان اور دانیا، دونوں نے ایک ہی وقت میں 'رجسٹریشن' کے لنک پر کلک کیا تھا۔ زویا کی آنکھوں میں ایک شرارت بھری چمک آئی۔


"لو جی! بیوروکریسی اور سوشل میڈیا کا سنگم ہونے والا ہے۔ اب آئے گا مزہ،" اس نے سرگوشی کی۔ اسے پتہ تھا کہ یہ سفر صرف پہاڑوں کا سفر نہیں ہوگا، بلکہ یہ ان سب کی زندگیوں کا سب سے بڑا 'تھرلر' ثابت ہونے والا تھا۔


باب سوم: فائلوں کا بوجھ اور لائیکس کی بھوک

ارمغان اپنے چمکتے ہوئے سرکاری دفتر میں بیٹھا تھا جہاں کی ہوا میں پرانی فائلوں، سستی چائے اور 'سرکاری رعب' کی ملی جلی بو رچی بسی تھی۔ میز پر لگی نیم پلیٹ پر اس کا نام بڑے بڑے حروف میں لکھا تھا: "ارمغان علی - اسسٹنٹ کمشنر (انڈر ٹریننگ)"۔


اس کے سامنے ایک ادھیڑ عمر کلرک، جسے سب 'بشیرا' کہتے تھے، فائلوں کا ایک پہاڑ رکھ کر جا چکا تھا۔


"سر! یہ پچھلے پانچ سال کے لینڈ ڈسپیوٹ (زمین کے تنازعے) کے کیسز ہیں، ذرا ان پر نظر ڈال لیں۔"


ارمغان نے ان بوسیدہ فائلوں کو دیکھا جن کے کونے مڑے ہوئے تھے اور جن پر جمی دھول شاید اس کے خوابوں پر جمی دھول سے زیادہ پرانی تھی۔ اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا جہاں دھوپ کی ایک لکیر ایک پرانے سے درخت پر پڑ رہی تھی۔ اس کا جی چاہا کہ وہ اپنا بیگ اٹھائے، اس درخت کے پاس جائے اور اس کی تصویر کھینچے، مگر باہر ہال میں بیٹھے لوگوں کا شور اور اس کے والد کی وہ نصیحت اس کے کانوں میں گونجنے لگی:


"ارمغان بیٹا، اب تم صرف میرے بیٹے نہیں ہو، تم حکومتِ وقت کے نمائندے ہو۔ تمہاری ایک ایک چال ڈھال سے وقار جھلکنا چاہیے۔"


وقار... ارمغان نے سوچا، کیا وقار کا مطلب اپنی پسند کو دفن کر کے دوسروں کی مرضی کی فائلیں پڑھنا ہے؟ اسے اس لمحے زویا کا وہ گمنام میسج یاد آیا۔ اس نے فون نکالا اور وہ لنک دوبارہ کھولا۔ وہ کوئی عام ویب سائٹ نہیں تھی، بلکہ ایک سادہ سا صفحہ تھا جس پر لکھا تھا:

"کیا آپ کی زندگی کا سکرپٹ کوئی اور لکھ رہا ہے؟"


دوسری طرف، دانیا اپنے بیڈروم کے اس 'پرفیکٹ' کونے میں بیٹھی تھی جہاں سے وہ اپنی لائیو سٹریمنگ کرتی تھی۔ اس نے ابھی ایک نئی ویڈیو پوسٹ کی تھی جس کا کیپشن تھا:

"Feeling Blessed with my New Luxury Gift!"


حالانکہ وہ مہنگا بیگ اس نے اپنی چھ مہینے کی جمع پونجی سے خود خریدا تھا تاکہ وہ اپنی 'کمپیٹیٹر' سوشل میڈیا انفلوئنسر سے پیچھے نہ رہ جائے۔


اس کے فون کی سکرین پر کمنٹس کی بارش ہو رہی تھی۔

"You look so happy, Dania!"

"Relationship goals!"

"I wish my life was as perfect as yours."


دانیا نے ایک کمنٹ پڑھا اور اس کی آنکھوں میں نمی آگئی۔ وہ پچھلے ایک ہفتے سے اپنے منگیتر سے بات نہیں کر رہی تھی کیونکہ اس نے دانیا کی ایک ایسی تصویر پوسٹ کرنے پر اعتراض کیا تھا جس میں وہ 'کچھ زیادہ ہی بولڈ' لگ رہی تھی۔


"تمہیں میری پرواہ ہے یا ان فالورز کی؟" اس نے پوچھا تھا۔


اور دانیا نے جواب دیا تھا، "یہ فالورز ہی تو میری پہچان ہیں!"


مگر اب، خالی کمرے میں بیٹھ کر اسے احساس ہو رہا تھا کہ وہ 'پہچان' کتنی کھوکھلی تھی۔ اس نے زویا کی ایجنسی کا وہ میسج کھولا اور اس پر موجود ایک سوال نامہ (Questionnaire) بھرنا شروع کیا۔ پہلا سوال ہی بڑا عجیب تھا:


"اگر کل انٹرنیٹ ختم ہو جائے، تو آپ کے پاس اپنے بارے میں بتانے کے لیے کیا بچے گا؟"

دانیا کی انگلیاں کانپنے لگیں۔ اس نے لکھنا چاہا: 'میں ایک آرٹسٹ ہوں'، مگر اس نے مٹا دیا۔ پھر لکھا: 'میں ایک اچھی بیٹی ہوں'، مگر اسے یاد آیا کہ اس نے پچھلے تین دن سے اپنی ماں سے ڈھنگ سے بات نہیں کی تھی۔ آخر میں اس نے صرف یہ لکھا: "مجھے نہیں معلوم۔"


شام ڈھل رہی تھی۔ زویا اپنے سٹوڈیو کی چھت پر کھڑی لاہور کے شور کو سن رہی تھی۔ اس کے پاس ان سب لوگوں کی ہسٹری جمع ہو رہی تھی۔ ارمغان کی فائلیں، دانیا کی مصنوعی مسکراہٹیں، اور چچا جمشید کا وہ چھپایا ہوا گٹار۔


وہ جانتی تھی کہ یہ لوگ ابھی 'تیار' نہیں ہیں۔ یہ سب معاشرے کے اس جال میں اتنے گہرے دھنسے ہوئے ہیں کہ اگر وہ ابھی انہیں نکالنے کی کوشش کرے گی تو یہ ٹوٹ جائیں گے۔ اسے ایک ایسے واقعے کا انتظار تھا جو ان کی زندگیوں میں 'تھرتھراہٹ' پیدا کر دے۔

اچانک اس کے فون پر ایک کال آئی۔ یہ اس کا وہ 'رابطہ' تھا جو شہر کے بڑے بڑے لینڈ مافیا اور ان کے سیاسی گٹھ جوڑ پر نظر رکھتا تھا۔


"زویا! تم جس علاقے میں اپنا 'ٹیکٹیکل ٹریک' (Tactical Trek) پلان کر رہی ہو، وہاں حالات بدل رہے ہیں۔ کچھ بڑے لوگ وہاں اپنی سرگرمیاں چھپانے کے لیے زمینیں صاف کر رہے ہیں۔ شاید تمہارا یہ سفر صرف 'سیلف ڈسکوری' تک محدود نہ رہے۔"


زویا کے لبوں پر ایک خطرناک مسکراہٹ آئی۔ "بہتر ہے۔ اگر زندگی میں تھوڑا 'تھرلر' نہ ہو، تو لوگ بدلتے نہیں ہیں۔ اب یہ سفر ان کے لیے صرف ایک تجربہ نہیں، بلکہ بقا کی جنگ بن جائے گا۔"


باب چہارم: ضمیر کی دستک اور گرتا ہوا جادو


ارمغان کے دفتر میں آج غیر معمولی چہل پہل تھی۔ اسسٹنٹ کمشنر کی کرسی پر بیٹھے اسے ابھی چند ہی روز ہوئے تھے کہ "نظام" نے اپنا اصلی چہرہ دکھانا شروع کر دیا۔ بشیرا کلرک ایک بار پھر ایک نئی فائل لے کر داخل ہوا، مگر اس بار اس کے لہجے میں چاپلوسی کی ایک نئی لہر تھی۔


"سر! یہ میاں مقصود صاحب کے ڈیرے کی فائل ہے۔ بس آپ کے دستخط چاہئیں، باقی سب 'سیٹ' ہو چکا ہے،" بشیرا نے فائل ارمغان کے سامنے رکھتے ہوئے معنی خیز انداز میں کہا۔


ارمغان نے فائل کھولی۔ یہ زمین کا وہی ٹکڑا تھا جہاں ایک بیوہ کی جھونپڑی کو مسمار کر کے وہاں میاں مقصود کا نیا ہاؤسنگ پراجیکٹ بننا تھا۔ میاں مقصود شہر کی ایک بااثر شخصیت تھے، جن کا نام سنتے ہی ارمغان کے والد کے ماتھے پر بھی پسینہ آ جاتا تھا۔


"بشیرا صاحب، اس بیوہ کا حق کہاں جائے گا؟ یہ تو سراسر ناانصافی ہے،" ارمغان نے فائل پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔


بشیرا نے ایک خشک ہنسی ہنسی۔ "سر! یہاں 'حق' نہیں، 'حکم' چلتا ہے۔ آپ کے والد صاحب کا بھی فون آیا تھا، وہ فرما رہے تھے کہ میاں صاحب سے تعلقات بگاڑنا مصلحت کے خلاف ہے۔"

ارمغان کے ہاتھ میں پکڑا پین رک گیا۔ اسے ایسا لگا جیسے اس کے اپنے باپ نے اس کی گردن پر ایک نادیدہ ہاتھ رکھ کر اسے جھکنے کا حکم دیا ہو۔ "مصلحت"... یہ وہ لفظ تھا جسے اس نے بچپن سے اپنے گھر میں سنا تھا۔ اس کا جی چاہا کہ وہ یہ پین توڑ دے، چیخ کر کہے کہ وہ اس 'سسٹم' کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ مگر اس کے کانوں میں معاشرے کی وہ آواز گونج رہی تھی: 'اگر میاں صاحب ناراض ہو گئے تو تمہارا کیریئر شروع ہونے سے پہلے ختم ہو جائے گا، لوگ کیا کہیں گے؟'


اسی وقت، شہر کے دوسرے حصے میں دانیا ایک ہائی پروفائل 'برانڈ لانچ' کی تقریب میں موجود تھی۔ وہاں ہر طرف کیمروں کی فلیش لائٹس تھیں اور دانیا مرکزِ نگاہ تھی۔ اس نے ایک مہنگا ڈیزائنر لباس پہن رکھا تھا اور چہرے پر وہ مسکراہٹ سجائی تھی جو اس نے کئی سالوں کی مشق سے سیکھی تھی۔


مگر آج کچھ غلط ہو گیا۔


اس کی سب سے بڑی حریف (Competitor) اور سابقہ دوست، سحر، اپنے ہاتھ میں فون لیے اس کی طرف بڑھی۔ "اوہ مائی گاڈ، دانیا! تمہاری یہ نئی تصویر تو بڑی وائرل ہو رہی ہے، مگر شاید اس وجہ سے نہیں جو تم چاہتی تھی۔"


سحر نے فون کی سکرین دانیا کے سامنے کی۔ یہ دانیا کی ایک ایسی تصویر تھی جو کسی نے چھپ کر اس وقت کھینچی تھی جب وہ اپنے گھر کی بالکونی میں بغیر میک اپ کے، بکھرے بالوں اور آنسوؤں سے بھری آنکھوں کے ساتھ بیٹھی تھی۔ تصویر کا کیپشن تھا: "فلٹر کے پیچھے کی بھیانک حقیقت—دانیا کی اصلیت کیا ہے؟"


دانیا کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ ہال میں موجود لوگ اب اسے نہیں دیکھ رہے تھے، بلکہ اپنے فونز میں وہ تصویر دیکھ کر سرگوشیاں کر رہے تھے۔ اس کی وہ 'پرفیکٹ امیج' جو اس نے خون پسینے سے بنائی تھی، ایک لمحے میں تاش کے پتوں کی طرح بکھر رہی تھی۔ اسے لگا جیسے اس کے کپڑے اتار دیے گئے ہوں، جیسے وہ سب کے سامنے ننگی کھڑی ہو۔

وہ وہاں سے بھاگنا چاہتی تھی، مگر اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کہاں جائے۔ اس نے واش روم میں پناہ لی اور آئینے میں اپنا وہ چہرہ دیکھا جس پر اب مہنگا میک اپ بھی اس کے خوف کو نہیں چھپا پا رہا تھا۔


اس نے کانپتے ہاتھوں سے اپنا فون نکالا۔ انسٹاگرام نہیں، بلکہ وہ 'گمنام میسج' کھولا جو زویا نے بھیجا تھا۔ اس نے اس لنک پر موجود چیٹ باکس میں صرف ایک جملہ لکھا:

"مجھے بچا لو، مجھے اس دنیا سے کہیں دور جانا ہے جہاں کوئی مجھے پہچانتا نہ ہو۔"


زویا، جو اس وقت اپنے سٹوڈیو میں ایک پرانے نقشے پر پنسل سے نشانات لگا رہی تھی، کے پاس ایک ساتھ دو نوٹیفیکیشن آئے۔


ایک دانیا کا تھا، اور دوسرا ارمغان کا۔ ارمغان نے صرف ایک لفظ بھیجا تھا: "کب؟"


زویا کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ آئی۔ اس نے نقشے پر 'ناران' کے قریب ایک گمنام وادی پر دائرہ لگایا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں موبائل کے سگنل نہیں آتے تھے اور جہاں 'سسٹم' کی پہنچ بہت مشکل تھی۔


"وقت آ گیا ہے،" اس نے سرگوشی کی۔


اس نے فوراً ایک گروپ میسج ٹائپ کیا:

"کل صبح پانچ بجے، ریلوے سٹیشن کے پرانے پلیٹ فارم پر۔ کوئی سوٹ کیس نہیں، صرف ایک بیگ اور وہ ہمت جو آپ نے سالوں سے چھپا رکھی ہے۔ سفر شروع ہو رہا ہے۔"


باب پنجم: ادھورا خواب اور خاموش پلیٹ فارم

صبح کے ساڑھے چار بجے تھے۔ ریلوے سٹیشن کا پرانا پلیٹ فارم نمبر 5، جو اب صرف مال گاڑیوں کے لیے استعمال ہوتا تھا، ایک عجیب سی پراسراریت میں ڈوبا ہوا تھا۔ دھند کی ایک پتلی چادر لوہے کی پٹریوں پر بچھی تھی اور کہیں دور سے کسی انجن کے سیٹی بجانے کی دھیمی آواز آ رہی تھی۔


زویا اپنی جیپ کے بونٹ پر بیٹھی، ہاتھ میں گھڑی دیکھ رہی تھی۔ اس کے پاس دانیا کھڑی تھی، جس نے ایک لمبا کوٹ پہنا ہوا تھا اور چہرے پر بڑا سا چشمہ لگایا تھا تاکہ کوئی اسے پہچان نہ سکے۔ دانیا کا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اسے اپنے کانوں میں اس کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ اس نے پہلی بار زندگی میں 'لائٹ پیکنگ' کی تھی—صرف ایک بیگ، جس میں اس کے میک اپ کٹ سے زیادہ ضروری دوائیں اور کچھ جوڑے تھے۔


تھوڑی دیر بعد چچا جمشید بھی نمودار ہوئے، ان کے کندھے پر ایک پرانا گٹار کیس تھا جسے وہ کسی ہتھیار کی طرح تھامے ہوئے تھے۔ ان کی آنکھوں میں خوف تو تھا، مگر ایک عجیب سی چمک بھی تھی۔


"باقی لوگ کہاں ہیں؟" چچا جمشید نے ہانپتے ہوئے پوچھا۔


زویا نے دوبارہ گھڑی دیکھی۔ "ایک اور ممبر کا انتظار ہے... ارمغان۔ اسے اب تک یہاں ہونا چاہیے تھا۔"


اسی وقت، ارمغان اپنے گھر کے برآمدے میں کھڑا تھا، اس کا بیگ گیراج کے اندھیرے میں چھپا ہوا تھا، مگر اس کے سامنے اس کی زندگی کی سب سے بڑی دیوار کھڑی تھی۔


اس کے والد، زاہد صاحب، کرسی پر بیٹھے اسے گھور رہے تھے۔ ان کے ہاتھ میں ارمغان کا وہی فون تھا جس پر زویا کا میسج آیا تھا۔ شاید ارمغان رات کو فون لاک کرنا بھول گیا تھا یا شاید قسمت کو اسے اتنی آسانی سے جانے نہیں دینا تھا۔


"تو یہ ہے تمہاری 'ٹریننگ'؟" زاہد صاحب کی آواز میں وہ سردی تھی جو ارمغان کی ہڈیوں تک پہنچ رہی تھی۔ "تم ایک مفرور لڑکی کے ساتھ پہاڑوں میں جا رہے ہو؟ وہ بھی اس وقت جب میاں مقصود صاحب کے کیس کی فائل تمہاری میز پر ہے؟"


"ابو، وہ فائل ایک ظلم ہے،" ارمغان نے دبی آواز میں احتجاج کرنا چاہا۔


"ظلم اور انصاف کا فیصلہ عدالتیں کرتی ہیں، ارمغان! تم ایک سرکاری افسر ہو، کوئی باغی شاعر نہیں،" زاہد صاحب کھڑے ہو گئے۔ "آج اگر تم اس گھر سے باہر نکلے، تو یاد رکھنا، تمہاری ماں کا دل پہلے ہی کمزور ہے، اور میرا وقار اس سے بھی زیادہ نازک۔ تم صرف اپنے خواب پورے نہیں کرو گے، تم اس خاندان کی لاش پر سے گزر کر جاؤ گے۔"


ارمغان کے قدم وہیں رک گئے۔ یہ وہ 'ایموشنل بلیک میلنگ' تھی جس کا اس کے پاس کوئی توڑ نہیں تھا۔ اس نے دور کہیں ٹرین کی سیٹی سنی۔ اسے پتہ تھا کہ وہ سیٹی اس کی آزادی کا آخری بلاوا ہے۔ اس نے مٹھیاں بھینچ لیں، آنکھیں بند کیں، اور اپنا سر جھکا دیا۔


وہ نہیں جا سکا!


سٹیشن پر، زویا نے ایک لمبی سانس لی اور جیپ کا انجن سٹارٹ کیا۔


"وہ نہیں آئے گا،" زویا نے سرد لہجے میں کہا۔ اس کی آواز میں غصہ کم اور دکھ زیادہ تھا۔ "کچھ لوگ قید سے اتنی محبت کرنے لگتے ہیں کہ جب دروازہ کھلے تو انہیں باہر کی روشنی سے ڈر لگنے لگتا ہے۔"


"تو کیا ہم اس کے بغیر جا رہے ہیں؟" دانیا نے پریشانی سے پوچھا۔ اسے ارمغان سے زیادہ خود پر ڈر لگ رہا تھا کہ اب وہ ان اجنبیوں کے ساتھ اکیلی ہے۔


"ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ اگر ہم ابھی نہیں نکلے تو شہر کے ناکوں پر پہرے سخت ہو جائیں گے،" زویا نے گیئر ڈالا۔ "سفر شروع ہو چکا ہے۔ ارمغان نے اپنا راستہ چن لیا، اب ہمیں اپنا راستہ دیکھنا ہے۔"


جیپ اندھیرے کو چیرتی ہوئی پلیٹ فارم سے باہر نکل گئی۔ دانیا نے پیچھے مڑ کر دیکھا، جہاں سٹیشن کی مدھم روشنی میں ارمغان کا سایہ کہیں نہیں تھا۔


مگر ٹوسٹ ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ ارمغان اپنے کمرے میں بیٹھا تھا جب اس کے فون پر (جو اب اس کی میز پر پڑا تھا) ایک نیا میسج پاپ اپ ہوا، مگر یہ زویا کا نہیں تھا۔ یہ اس کے دفتر کے ایک کلرک کا تھا:


"سر! وہ بیوہ جس کی زمین کا کیس تھا، اس نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔ میاں صاحب کے آدمیوں نے اسے زبردستی گھر سے نکال دیا ہے۔ اب معاملہ آپ کے ہاتھ سے نکل کر پولیس کے پاس چلا گیا ہے۔"


ارمغان کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ اسے احساس ہوا کہ گھر میں رہ کر 'اچھا بچہ' بننے کی قیمت کسی اور کی جان ہو سکتی ہے۔ اس نے کھڑکی کی طرف دیکھا۔ اس کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا تھا، بس اس کا راستہ بدل گیا تھا۔


باب ششم: دو محاذ، ایک جنگ


ارمغان نے اپنے کمرے کا دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ باہر ہال میں اس کی فتح کا جشن منایا جا رہا تھا، اس کے والد خوش تھے کہ بیٹا "راہِ راست" پر آگیا ہے۔ مگر ارمغان کے اندر ایک ایسا طوفان تھا جس کی آہٹ کسی کو سنائی نہیں دے رہی تھی۔


اس نے میز پر پڑی وہی سرکاری ڈائری کھولی جسے وہ اب تک بوجھ سمجھ رہا تھا۔ اس نے وہ کلرک کا میسج دوبارہ پڑھا۔ بیوہ کی خودکشی کی کوشش... میاں مقصود کا قبضہ... اور اس کے اپنے والد کی خاموش حمایت۔


"ٹھیک ہے،" ارمغان نے دانت پیتے ہوئے سوچا۔ "اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں افسر بنوں، تو اب میں وہی افسر بنوں گا جو آپ کے سسٹم کو جڑ سے ہلا دے گا۔"


اس نے اپنا لیپ ٹاپ کھولا اور انٹیلی جنس بیورو (IB) میں موجود اپنے ایک پرانے کلاس فیلو کو میسج کیا:

"حماد، مجھے میاں مقصود کے اس ہاؤسنگ پراجیکٹ کی اصل فائلیں چاہئیں۔ وہ نہیں جو ریکارڈ روم میں ہیں، بلکہ وہ جو کبھی سامنے نہیں آئیں۔"


ارمغان اب گھر سے بھاگا نہیں تھا، بلکہ وہ سسٹم کے اندر ایک 'خفیہ ایجنٹ' بن چکا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ زویا اور باقی سب ناران کی طرف نکل چکے ہیں۔ اسے ان تک پہنچنا تھا، مگر خالی ہاتھ نہیں، بلکہ اس ثبوت کے ساتھ جو ان سب کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والے 'بڑے لوگوں' کو بے نقاب کر سکے۔


وادیِ کاغان کا راستہ: ایک نیا ڈر

دوسری طرف، زویا کی جیپ ایبٹ آباد سے آگے بالاکوٹ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ سڑک بل کھاتی ہوئی پہاڑوں کے سینے پر چڑھ رہی تھی اور نیچے دریائے کنہار کا شور بڑھتا جا رہا تھا۔


جیپ کے اندر خاموشی اتنی گہری تھی کہ دانیا کو اپنی سانسیں سنائی دے رہی تھیں۔ اس نے اپنا فون نکالا، عادتاً انسٹاگرام کھولنا چاہا، مگر وہاں سگنل کے نشان غائب تھے۔ اسے ایک دم گھبراہٹ (Anxiety) کا دورہ پڑا۔


"میرا فون نہیں چل رہا،" دانیا کی آواز تھر تھرائی۔ "زویا! اگر کسی نے مجھے ڈھونڈنے کی کوشش کی تو؟ اگر میری ماں پریشان ہوئیں؟"


زویا نے سٹیرنگ پر گرفت مضبوط کی اور پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر کہا، "دانیا، اس وقت تمہاری ماں سے زیادہ تمہیں وہ لوگ ڈھونڈ رہے ہیں جن کا 'ایمیج' تم نے خراب کیا ہے۔ اور یاد رکھو، اس سڑک پر تمہارے فالورز تمہیں بچانے نہیں آئیں گے۔ اپنی ہمت خود جمع کرو۔"


چچا جمشید، جو پچھلی نشست پر گٹار کیس کو گود میں لیے بیٹھے تھے، اچانک بول پڑے:

"بیٹا، اسے ڈراؤ مت۔ دیکھو دانیا، جب میں پہلی بار اپنے گھر سے چھپ کر موسیقی سیکھنے گیا تھا، تو مجھے بھی ایسا ہی لگا تھا کہ جیسے میں مر جاؤں گا۔ مگر جب میں نے پہلا سُر چھیڑا، تو مجھے پتہ چلا کہ زندگی سگنلز میں نہیں، سانسوں میں ہوتی ہے۔"


دانیا نے چچا کی طرف دیکھا۔ ان کے جھریوں بھرے چہرے پر ایک اطمینان تھا۔ اسے تھوڑی ہمت ملی۔ مگر ابھی وہ ہمت پوری طرح بحال بھی نہیں ہوئی تھی کہ زویا نے اچانک زور سے بریک لگائی۔


جیپ ایک جھٹکے سے رکی۔ سامنے سڑک پر پتھر گرے ہوئے تھے—لینڈ سلائیڈنگ نہیں تھی، بلکہ ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے جان بوجھ کر راستہ روکا ہو۔


"نیچے مت اترنا،" زویا نے دبی آواز میں کہا۔ اس کی نظریں سائیڈ مرر پر جمی تھیں، جہاں پیچھے سے دو کالی گاڑیاں تیزی سے ان کی طرف بڑھ رہی تھیں۔


لاہور: ارمغان کا پہلا وار

ارمغان اس وقت اپنے دفتر میں بیٹھا میاں مقصود کے سامنے تھا۔ میاں صاحب چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے اسے سمجھا رہے تھے:

"دیکھو بھتیجے، یہ دنیا لینے دینے پر چلتی ہے۔ تم وہ فائل سائن کر دو، بدلے میں تمہیں وہ سب ملے گا جو ایک نوجوان افسر کا خواب ہوتا ہے۔"


ارمغان نے مسکرا کر فائل کی طرف دیکھا۔ اس نے پین اٹھایا، مگر سائن کرنے کے بجائے اس پر بڑے بڑے حروف میں لکھ دیا: "REJECTED - Under Investigation"۔


میاں مقصود کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ "یہ کیا بدتمیزی ہے؟"


"بدتمیزی نہیں میاں صاحب، قانون ہے،" ارمغان نے پرسکون لہجے میں کہا۔ "اور ہاں، اس زمین کے نیچے جو 'تاریخی آثار' اور 'معدنیات' دریافت ہوئی ہیں، ان کی رپورٹ میں نے ڈائریکٹ اسلام آباد بھیج دی ہے۔ اب آپ کا مقابلہ مجھ سے نہیں، وفاق سے ہے۔"


ارمغان جانتا تھا کہ اس نے اپنی موت کے پروانے پر دستخط کر دیے ہیں، مگر اسے اب ڈر نہیں لگ رہا تھا۔ اس نے سوچا، 'زویا، میں تمہارے سفر میں شامل نہیں ہو سکا، مگر میں نے یہاں تمہارے دشمنوں کا راستہ روک دیا ہے کیونکہ ان کا تعلق اسی زمین سے ہے جہاں تم جا رہی ہو۔'


باب ہفتم: دھند کے سائے اور بند گلی

وادیِ کاغان کی سنگلاخ سڑک پر خاموشی اتنی گہری تھی کہ انجن کی آواز بھی کسی شور کی طرح محسوس ہو رہی تھی۔ سامنے سڑک پر پڑے پتھروں نے زویا کے ماتھے پر پسینہ لا دیا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ قدرت کی کارستانی نہیں ہے؛ یہ پتھر بڑے سلیقے سے ایک ترتیب میں رکھے گئے تھے۔


پیچھے سے آنے والی کالی گاڑیوں کی ہیڈلائٹس دھند میں دو آنکھوں کی طرح چمک رہی تھیں۔

"زویا۔۔۔ وہ کون ہیں؟" دانیا کی آواز بمشکل اس کے حلق سے باہر نکلی۔ اس نے اپنے ہاتھ کی انگلیاں سیٹ کے چمڑے میں گاڑ دیں۔


زویا نے کچھ نہیں کہا۔ اس نے ایک نظر سائیڈ مرر میں دیکھا اور پھر اپنی جیپ کو تیزی سے ریورس گیئر میں ڈالا۔


"چچا جان! سیٹ بیلٹ مضبوطی سے تھام لیں۔ دانیا، نیچے ہو جاؤ!"


زویا نے جیپ کو ایک خطرناک موڑ پر کاٹا اور سڑک کے کنارے ایک تنگ کچی پگڈنڈی پر 

ڈال دی جو نیچے دریا کی طرف جا رہی تھی۔ یہ راستہ عام گاڑیوں کے لیے نہیں تھا، مگر زویا کی 'موڈیفائیڈ' جیپ پتھروں پر اچھلتی ہوئی نیچے اترنے لگی۔ کالی گاڑیاں سڑک پر ہی رک گئیں کیونکہ وہ اتنا بڑا رسک نہیں لے سکتی تھیں۔


کچھ دیر بعد، ایک گھنے درختوں والے جھنڈ میں جیپ چھپا کر زویا نے انجن بند کر دیا۔ "اب دم روک کر بیٹھو،" اس نے سرگوشی کی۔


اوپر سڑک پر گاڑیوں کے دروازے کھلنے اور بند ہونے کی آوازیں آئیں، پھر کچھ بھاری قدموں کی چاپ اور اجنبی زبان میں سخت لہجے کی گفتگو۔ دانیا کا فون اس کے ہاتھ میں لرز رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ وہاں سگنل تو نہیں تھے، مگر اس کے پاس ایک ایسا ہنر تھا جو اس نے 'وگنگ' کے دوران سیکھا تھا۔


لاہور: ارمغان کے گرد گھیرا

جب پہاڑوں میں دھند چھائی تھی، لاہور کی تپتی دوپہر میں ارمغان کے لیے حالات بدل رہے تھے۔ وہ اپنے دفتر سے نکل کر گاڑی کی طرف بڑھا ہی تھا کہ پولیس کی دو گاڑیاں وہاں آ رکیں۔


ایک انسپکٹر، جس کے چہرے پر ہمدردی کا جھوٹا لبادہ تھا، ارمغان کے قریب آیا۔ "ارمغان صاحب؟ معذرت چاہتے ہیں، مگر ہمیں آپ کے گھر کی تلاشی لینی ہے اور آپ کو تھانے چلنا ہوگا۔"


ارمغان نے اپنی عینک ٹھیک کی۔ "کس بنیاد پر، انسپکٹر صاحب؟"


"آپ کے خلاف شکایت موصول ہوئی ہے کہ آپ نے میاں مقصود صاحب سے 'لینڈ کلیئرنس' کے عوض بھاری رقم وصول کی ہے اور وہ رقم آپ کے گھر کے اسٹور روم میں موجود ہے۔" انسپکٹر نے ایک فائل دکھائی۔


ارمغان کے لبوں پر ایک تلخ مسکراہٹ آئی۔ میاں مقصود نے وہی پرانا مہرہ استعمال کیا تھا کردار کشی۔ اسے پتہ تھا کہ اس کے والد اس خبر سے ٹوٹ جائیں گے۔ جب وہ گھر پہنچا، تو وہاں کا منظر دہلا دینے والا تھا۔ پولیس والے الماریوں سے کتابیں نکال کر پھینک رہے تھے اور اس کی والدہ صحن میں کرسی پر بیٹھی رو رہی تھیں۔


"میں نے کہا تھا نا ارمغان!" اس کے والد کی آواز میں غصہ اور دکھ کا امتزاج تھا۔ "اس آزادی کی قیمت یہ خاندان چکائے گا؟ لوگ تھو تھو کر رہے ہیں کہ اے سی (AC) صاحب پہلے ہی دن رشوت لیتے پکڑے گئے۔"


ارمغان نے اپنے والد کی طرف دیکھا۔ اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ وہ شخص جو ساری زندگی 'وقار' کی بات کرتا رہا، وہ کتنا کمزور ہے کہ ایک جھوٹی خبر پر اپنے بیٹے سے زیادہ 'لوگوں کی باتوں' پر یقین کر رہا ہے۔


پہاڑوں کی اوٹ میں: دانیا کا 'انوکھا' ہنر

نیچے دریا کے کنارے، زویا اور چچا جمشید گاڑی سے باہر نکل کر اردگرد کا جائزہ لے رہے تھے۔ اوپر سڑک پر موجود لوگ ابھی تک وہاں موجود تھے۔


"وہ ہمیں ڈھونڈ لیں گے،" چچا جمشید نے فکر مندی سے کہا۔


دانیا، جو اب تک خاموش تھی، اچانک آگے بڑھی۔ "زویا! وہ ہمیں نہیں دیکھ پا رہے کیونکہ دھند ہے، لیکن وہ ہماری گاڑی کے ٹائروں کے نشان دیکھ سکتے ہیں۔ میرے پاس ایک آئیڈیا ہے۔"


دانیا نے اپنے بیگ سے وہ 'ایل ای ڈی لائٹس' (LED Lights) نکالیں جو وہ اپنی ویڈیوز میں چہرے پر گلو لانے کے لیے استعمال کرتی تھی، اور ساتھ ہی ایک پورٹیبل پاور بینک۔ اس نے کچھ پرانے پلاسٹک کے تھیلے اور ایک آئینہ بھی نکالا۔


"تم کیا کر رہی ہو؟" زویا نے حیرت سے پوچھا۔


"میں 'الویژن' (Illusion) پیدا کر رہی ہوں،" دانیا نے تیزی سے کام کرتے ہوئے کہا۔ اس نے لائٹس کو ایک خاص زاویے سے درختوں کے پیچھے سیٹ کیا اور آئینے کو اس طرح رکھا کہ جب اوپر سے کوئی ٹارچ مارے، تو روشنی منعکس ہو کر دوسری سمت میں جائے، جیسے وہاں کوئی گاڑی کھڑی ہو۔


اس نے ایک چھوٹا سا بلو ٹوتھ سپیکر بھی نکالا اور اس پر 'انجن کی خرابی' کی آواز لوپ (Loop) پر چلا دی جو اس نے ایک بار ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران ریکارڈ کی تھی۔


کچھ ہی دیر میں، ایسا منظر بن گیا کہ دور سے دیکھنے والے کو لگے گا کہ جیپ دریا کے دوسری طرف کسی دلدل میں پھنس گئی ہے۔


"یہ لڑکی تو جادوگر نکلی!" چچا جمشید نے دبی دبی ہنسی کے ساتھ کہا۔


زویا نے دانیا کی طرف دیکھا۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ جس لڑکی کو وہ صرف ایک 'پتلی' سمجھ رہی تھی، اس کے پاس حالات کو اپنے حق میں موڑنے کا کتنا تخلیقی طریقہ تھا۔


اوپر سڑک پر موجود شکاری دانیا کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس گئے۔ انہوں نے روشنی دیکھ کر اپنا رخ دریا کے نچلے حصے کی طرف موڑ دیا، جبکہ زویا اور اس کے ساتھی مخالف سمت میں پیدل نکلنے کے لیے تیار ہو گئے۔


باب ہشتم: یادوں کے بھوت اور بوسیدہ دیواریں


دھند اب اتنی گہری ہو چکی تھی کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ زویا، دانیا اور چچا جمشید پیدل چلتے ہوئے ایک ایسی ڈھلوان پر پہنچے جہاں دیودار کے درختوں کے پیچھے ایک پرانا، لکڑی سے بنا گیسٹ ہاؤس کھڑا تھا۔ یہ گیسٹ ہاؤس دہائیوں پرانا لگ رہا تھا؛ اس کی لکڑی کالی پڑ چکی تھی اور کھڑکیوں کے شیشے گرد سے اٹے ہوئے تھے۔


"یہ جگہ محفوظ لگتی ہے،" زویا نے دبی آواز میں کہا۔ اس نے ایک وزنی پتھر سے صدر دروازے کا زنگ آلود تالا توڑا۔ اندر داخل ہوتے ہی ایک بوجھل سی بو نے ان کا استقبال کیا پرانی لکڑی، نمی اور وقت کی بو۔


اندر ایک بڑا سا ہال تھا جس میں ایک قدیم آتش دان (Fireplace) بنا ہوا تھا۔ زویا نے تیزی سے کچھ پرانا فرنیچر اور خشک لکڑیاں جمع کیں اور آگ جلائی۔ نارنجی رنگ کے شعلوں نے جب دیواروں پر رقص کرنا شروع کیا، تو کمرے کی وحشت کچھ کم ہوئی۔


دانیا ایک کونے میں رکھی ہوئی شکستہ کرسی پر ڈھیر ہو گئی۔ اس کے وہ مہنگے بوٹ کیچڑ سے بھر چکے تھے اور اس کا چہرہ زرد تھا۔


"ہم یہاں کیوں ہیں، زویا؟" دانیا نے اچانک پوچھا۔ اس کی آواز میں اب وہ مصنوعی پن نہیں تھا، صرف ایک تھکی ہوئی لڑکی کی سچائی تھی۔ "میں تو صرف کچھ دن کے لیے 'غائب' ہونا چاہتی تھی تاکہ وہ سکینڈل ٹھنڈا ہو جائے۔ مگر یہاں تو زندگی اور موت کا مسئلہ بن گیا ہے۔"


زویا نے آگ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، "تم غائب ہونا چاہتی تھی، اور میں چاہتی تھی کہ تم 'ظاہر' ہو جاؤ۔ دانیا، جب تک انسان مشکل میں نہیں پڑتا، اسے پتہ ہی نہیں چلتا کہ اس کے اندر کیا کچھ چھپا ہے۔ آج تم نے جو روشنیوں والا آئیڈیا دیا، کیا تمہیں پتہ تھا کہ تم ایسا کر سکتی ہو؟"


دانیا خاموش رہی۔ اسے یاد آیا کہ وہ گھنٹوں آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر صرف یہ سوچتی تھی کہ وہ کیسی 'لگ رہی ہے'، کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ کیا 'کر سکتی ہے'۔


چچا جمشید نے اپنے گٹار کیس سے ہاتھ پھیرتے ہوئے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔ "بیٹا، انسان سارا جیون دوسروں کی آنکھوں میں اپنا عکس ڈھونڈتا رہتا ہے۔ میں نے ساٹھ سال گزار دیے یہ سوچ کر کہ اگر میں نے ساز اٹھایا تو محلے والے کیا کہیں گے۔ آج اس ویرانے میں، جہاں کوئی دیکھنے والا نہیں، مجھے لگ رہا ہے کہ میں پہلی بار آزاد ہوں۔"


انہوں نے تھر تھراتے ہاتھوں سے گٹار نکالا۔ ایک ہلکی سی دھن فضا میں بکھری، جو آگ کے چٹخنے کی آواز کے ساتھ مل کر ایک عجیب سا سحر پیدا کر رہی تھی۔


لاہور: قیدِ تنہائی اور ارمغان کا عزم

ارمغان اب اپنے ہی گھر کے ایک کمرے میں 'نظر بند' تھا۔ اس کے والد نے باہر سے تالا نہیں لگایا تھا، مگر ان کی مایوسی اور غصے نے ارمغان کے گرد ایسی دیوار کھڑی کر دی تھی جسے توڑنا مشکل تھا۔ اس کا فون ضبط کر لیا گیا تھا، مگر ارمغان نے ایک پرانا آئی پیڈ (iPad) نکال لیا جو وہ کبھی مطالعے کے لیے استعمال کرتا تھا۔


اس نے دیکھا کہ میاں مقصود کا میڈیا سیل سوشل میڈیا پر اس کے خلاف ایک مہم چلا رہا تھا۔ اسے 'بدعنوان' اور 'اخلاق سے گرا ہوا' ثابت کیا جا رہا تھا۔


ارمغان نے آئینے میں اپنی شکل دیکھی۔ "تو یہ ہے تمھارا 'وقار' ابا؟" اس نے سوچا۔ "ایک جھوٹی خبر نے آپ کے بیٹے کو آپ کی نظر میں گرا دیا۔"


اچانک اسے یاد آیا کہ اس نے 'دی ان مولڈنگ ایجنسی' کی ویب سائٹ پر رجسٹر کرتے وقت ایک بیک اپ ای میل دیا تھا۔ اس نے ای میل کھولی۔ وہاں زویا کا ایک پرانا میسج تھا جس میں ایک 'کلاؤڈ لنک' (Cloud Link) تھا۔


"اگر کبھی پھنس جاؤ، تو اس لنک کو کھولنا،" زویا نے لکھا تھا۔


ارمغان نے لنک کھولا تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ وہاں میاں مقصود کے کئی ہاؤسنگ پراجیکٹس کی خفیہ ویڈیوز اور دستاویزات موجود تھیں جو زویا نے اپنے ذرائع سے جمع کر رکھی تھیں۔


"زویا تم اتنی سادہ نہیں ہو جتنی لگتی ہو،" ارمغان کے لبوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ آئی۔ اسے اب سمجھ آیا کہ زویا نے اسے اس ٹریک پر کیوں بلایا تھا۔ وہ صرف اسے پہاڑ نہیں دکھانا چاہتی تھی، وہ اسے اس مافیا کے خلاف 'اسلحہ' دینا چاہتی تھی۔


ارمغان نے وہ تمام ڈیٹا ایک بین الاقوامی صحافتی ادارے کو بھیجنا شروع کر دیا، یہ جانتے ہوئے کہ صبح ہونے تک یا تو وہ ہیرو ہوگا یا پھر ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا جائے گا۔


گیسٹ ہاؤس: ایک دستک

رات کا پچھلا پہر تھا۔ آگ اب مدھم پڑ چکی تھی۔ چچا جمشید کرسی پر ہی اونگھ رہے تھے اور دانیا زویا کے کندھے پر سر رکھے سو گئی تھی۔


اچانک، گیسٹ ہاؤس کے بھاری لکڑی کے دروازے پر تین بار زور سے دستک ہوئی۔


ٹھک۔۔۔ ٹھک۔۔۔ ٹھک۔۔۔


زویا کی آنکھیں فوراً کھل گئیں۔ اس نے قریب پڑا ہوا لوہے کا راڈ اٹھایا۔ دانیا بھی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔


"کون ہو سکتا ہے؟" دانیا نے سرگوشی کی۔


دروازے کے نیچے سے ایک پرچی اندر پھینکی گئی۔ زویا نے لپک کر اسے اٹھایا۔ اس پر خون جیسے سرخ رنگ سے لکھا تھا:

"بیوروکریٹ نے جنگ شروع کر دی ہے۔ آپ کے پاس یہاں سے نکلنے کے لیے صرف دس منٹ ہیں۔ وہ آ رہے ہیں۔"


زویا کا رنگ اڑ گیا۔ ارمغان نے لاہور میں دھماکہ کر دیا تھا، اور اس کی لہریں اب یہاں پہاڑوں تک پہنچ چکی تھیں۔


باب نہم: رات کا تعاقب اور انوکھا مددگار

دروازے کے نیچے سے آنے والی وہ پرچی زویا کے ہاتھ میں لرز رہی تھی۔ "دس منٹ..." اس نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ باہر جنگل کی ہواؤں کی سائیں سائیں اب کسی کے قدموں کی چاپ جیسی محسوس ہونے لگی تھی۔


"زویا، یہ کون ہے؟ یہ ہمیں کیسے جانتا ہے؟" دانیا کی آواز میں ہسٹیریا (Hysteria) کی جھلک تھی۔


"سوالوں کا وقت ختم ہو گیا ہے، دانیا! چچا جان، اپنا گٹار اٹھائیں، ہمیں پچھلی کھڑکی سے نکلنا ہوگا،" زویا نے تیزی سے آگ پر پانی ڈالا تاکہ دھواں اور روشنی ختم ہو جائے۔ کمرہ ایک دم سیاہ ہو گیا، صرف باہر سے آنے والی چاند کی مدھم روشنی کھڑکیوں کے ٹوٹے ہوئے شیشوں سے اندر جھانک رہی تھی۔


وہ تینوں دبے پاؤں کچن کی طرف بڑھے۔ زویا نے لکڑی کی ایک پرانی کھڑکی کھولی جو براہِ راست ایک ڈھلوان کی طرف کھلتی تھی۔ جیسے ہی وہ باہر نکلے، گیسٹ ہاؤس کے سامنے والے حصے میں گاڑیوں کے رکنے اور بھاری بوٹوں کے چلنے کی آوازیں گونجیں۔


"وہ وہاں ہیں!" اوپر سے ایک کرخت آواز آئی۔ ایک تیز ٹارچ کی روشنی جنگل کے درختوں کو چیرتی ہوئی ان کے سروں کے اوپر سے گزری۔


"بھاگو!" زویا نے دانیا کا ہاتھ پکڑا۔


اندھیری ڈھلوان، نوکیلے پتھر اور جھاڑیاں یہ وہ راستہ تھا جہاں دانیا جیسی لڑکی کا چلنا ناممکن تھا، مگر خوف انسان سے وہ سب کروا لیتا ہے جو وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا۔ وہ تینوں ہانپتے ہوئے ایک گھنی جھاڑی کے پیچھے چھپ گئے۔


اچانک، ان کے پیچھے سے ایک سایہ نمودار ہوا۔ زویا نے اپنا لوہے کا راڈ گھمایا، مگر ایک مضبوط ہاتھ نے اسے ہوا میں ہی روک لیا۔


"خاموش! اگر جینا چاہتے ہو تو میرے پیچھے آؤ،" ایک گہری اور پرسکون آواز آئی۔


یہ ایک مقامی چرواہا تھا، جس نے کمبل اوڑھ رکھا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو صرف کسی تربیت یافتہ شخص کی ہو سکتی ہے۔ اس نے اشارہ کیا اور انہیں ایک تنگ غار نما راستے میں لے گیا جو بظاہر بند لگتا تھا مگر اندر سے ایک قدیم سرنگ کی طرف جاتا تھا۔


لاہور: ارمغان کا سیل فون اور خاموش بغاوت

لاہور میں ارمغان کے کمرے کا تالا آخر کار ٹوٹ گیا۔ اس کے والد، زاہد صاحب، ہاتھ میں اخبار لیے اندر داخل ہوئے۔ اخبار کی سرخی تھی: "سرکاری زمینوں پر قبضے کا بڑا سکینڈل بے نقاب نوجوان اے سی نے فائلیں میڈیا کو فراہم کر دیں"۔


"تم نے یہ کیا کیا؟" زاہد صاحب کی آواز بیٹھی ہوئی تھی۔ "تم نے میاں مقصود جیسے دشمن مول لے لیے؟ وہ تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔"


ارمغان نے اپنی ڈائری بند کی اور اطمینان سے اٹھا۔ "ابا، آپ نے کہا تھا کہ وقار لوگوں کی باتوں میں ہوتا ہے۔ میں نے آج ثابت کیا ہے کہ وقار سچ بولنے میں ہوتا ہے۔ میاں مقصود کے آدمی اس وقت ایف آئی اے (FIA) کی گرفت میں ہیں، اور وہ اب مجھے نقصان پہنچانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔"


مگر ارمغان کا دل کسی اور بات پر پریشان تھا۔ اسے پتہ تھا کہ میاں صاحب کے کچھ کارندے اب بھی شمال میں موجود ہیں، اور ان کا اصل ٹارگٹ اب وہ "ایجنسی" ہے جس نے یہ سارا ڈیٹا جمع کیا تھا۔


اس نے اپنے آئی پیڈ سے ایک آخری میسج اس 'نامعلوم مددگار' کو بھیجا جو شمال میں زویا کی حفاظت پر مامور تھا: "انہیں سیف ہاؤس لے جاؤ۔ میں نکل رہا ہوں۔"


غار کی پناہ گاہ: حقیقت کا سامنا

سرنگ کے دوسرے سرے پر ایک چھوٹا سا پتھروں کا بنا ہوا کمرہ تھا، جو شاید کسی زمانے میں گندم ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ چرواہے نے ایک مدھم سی لالٹین جلائی اور ان کی طرف دیکھا۔


"آپ کون ہیں؟" زویا نے سانس بحال کرتے ہوئے پوچھا۔


"میرا نام شاہد ہے،" اس نے مختصر جواب دیا۔ "ارمغان صاحب نے آپ کی حفاظت کا ذمہ مجھے دیا تھا۔ وہ خود یہاں نہیں آ سکے، مگر ان کی بھیجی ہوئی معلومات نے اس علاقے کے 'وڈیروں' کی جڑیں ہلا دی ہیں۔ اب آپ لوگ یہاں محفوظ ہیں، لیکن صرف صبح ہونے تک۔"


دانیا، جس کے کپڑے پھٹ چکے تھے اور ماتھے پر خراش تھی، ایک پتھر پر بیٹھ گئی۔ اس نے اپنا ٹوٹا ہوا ناخن دیکھا اور پھر زویا کی طرف دیکھا۔ "زویا۔۔۔ ارمغان نے یہ سب ہمارے لیے کیا؟"


زویا نے سر جھکا لیا۔ "نہیں دانیا، اس نے یہ اپنے 'اندر کے انسان' کے لیے کیا۔ وہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ کٹھ پتلی نہیں ہے۔"


چچا جمشید نے اپنا گٹار نکالا اور اس کی تاروں کو ہلکا سا چھیڑا۔ "کمال ہے نا؟ ہم آزادی ڈھونڈنے پہاڑوں میں آئے، اور وہ شہر کی قید میں رہ کر آزاد ہو گیا۔"


اسی لمحے دانیا کو ایک خیال آیا۔ "شاہد صاحب! یہاں سگنل نہیں ہیں، مگر کیا آپ کے پاس وہ پرانا ریڈیو سیٹ ہے جو مقامی لوگ استعمال کرتے ہیں؟"


"ہاں، ہے تو سہی، کیوں؟"


دانیا کی آنکھوں میں ایک شرارت بھری چمک آئی۔ "میاں مقصود کے آدمی ہمیں ڈھونڈ رہے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ڈرے ہوئے ہیں۔ اگر ہم انہیں یہ دکھائیں کہ ہم ان سے ڈر نہیں رہے، بلکہ ان کا مذاق اڑا رہے ہیں، تو وہ بوکھلا جائیں گے۔ میں ریڈیو کی لہروں کا استعمال کر کے ایک ایسی 'لوکیشن' بھیج سکتی ہوں جو انہیں یہاں سے میلوں دور لے جائے گی۔"


زویا مسکرائی۔ "تمہارا سوشل میڈیا دماغ اب واقعی کام آ رہا ہے۔"


باب دہم: فرارِ مصلحت اور ڈیجیٹل دھوکہ

لاہور کی پولیس لائنز کے ایک کمرے میں ارمغان کو 'حفاظتی تحویل' (Protective Custody) میں رکھا گیا تھا۔ باہر دو کانسٹیبل تعینات تھے، مگر ارمغان جانتا تھا کہ یہ حفاظت نہیں، بلکہ اسے خاموش رکھنے کا ایک طریقہ ہے۔ اس کے والد باہر ڈی آئی جی (DIG) سے "معاملہ دبانے" کی درخواست کر رہے تھے۔


ارمغان نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ دیوار کے ساتھ ایک پرانی پائپ لائن نیچے گلی تک جا رہی تھی۔ اسے بچپن کا وہ وقت یاد آیا جب وہ اسی طرح چھتوں پر چڑھ کر تصویریں کھینچتا تھا اور اس کے والد اسے 'بچپنا' کہہ کر ڈانٹتے تھے۔


"آج وہی بچپنا کام آئے گا،" ارمغان نے بڑبڑایا۔


اس نے بیڈ کی چادروں کو آپس میں گرہ دی، انہیں کھڑکی کے آہنی راڈ سے باندھا اور کمالِ مہارت سے نیچے اتر گیا۔ نیچے اس کا وہی دوست حماد (IB والا) ایک عام سی موٹر سائیکل لیے کھڑا تھا۔


"تم پاگل ہو گئے ہو ارمغان! اگر پکڑے گئے تو بغاوت کا کیس بنے گا،" حماد نے ہیلمٹ پکڑاتے ہوئے سرگوشی کی۔


"بغاوت تو میں کر چکا حماد، اب تو بس انجام دیکھنا ہے۔ نکلتے ہیں!" موٹر سائیکل کی آواز لاہور کی خاموش گلیوں میں گونجی اور ارمغان ایک سرکاری افسر سے ایک "مطلوب شخص" بن کر شمال کی طرف روانہ ہو گیا۔


غار کی پناہ گاہ: دانیا کا ماسٹر سٹروک

ادھر شمال میں، شاہد (چرواہا) نے ایک پرانا، فوجی طرز کا وائرلیس سیٹ دانیا کے سامنے رکھ دیا۔ دانیا نے اسے ایسے دیکھا جیسے وہ کوئی قدیم عجوبہ ہو۔


"اس کی فریکوئنسی (Frequency) ان گاڑیوں کے واکی ٹاکی سے میچ کر سکتی ہے،" دانیا نے اپنے ٹوٹے ہوئے فون کو ایک تار کے ذریعے ریڈیو سے جوڑتے ہوئے کہا۔ "زویا! میاں مقصود کے آدمی پیشہ ور قاتل نہیں ہیں، وہ کرائے کے غنڈے ہیں۔ وہ ٹیکنالوجی پر بھروسہ کرتے ہیں۔"

دانیا نے اپنے فون میں موجود ایک 'وائس چینجر' ایپ کھولی۔ اس نے ایک ایسی آواز نکالی جو بالکل میاں مقصود کے خاص آدمی کی طرح لگ رہی تھی۔


"ہیلو! ٹیم بی سنو۔۔۔ وہ لوگ یہاں سے نکل کر جھیل سیف الملوک کی طرف جا رہے ہیں۔ تمام گاڑیاں وہاں موڑ دو۔ دہراتا ہوں، غار کی طرف مت جاؤ، وہ جھیل کی طرف نکل چکے ہیں۔"

دانیا نے یہ پیغام وائرلیس پر نشر کر دیا۔ غار کے باہر دور سے آتی ہوئی گاڑیوں کی آوازیں اچانک رک گئیں، انجنوں کے شور نے رخ بدلا اور ٹارچوں کی روشنیاں آہستہ آہستہ دوسری سمت میں غائب ہونے لگیں۔


"دانیا! تم تو چھپی رستم نکلی،" زویا نے حیرت اور خوشی سے اسے دیکھا۔


دانیا کے چہرے پر ایک سچی مسکراہٹ آئی۔ "یہ سب وگنگ (Vlogging) کا کمال ہے۔ آواز بدلنا اور لوکیشن فیک کرنا تو میرا روز کا کام تھا۔ کبھی سوچا نہیں تھا کہ یہ کسی کی جان بچانے کے کام بھی آئے گا۔"


رات کا سحر اور انکشاف

جب خطرہ ٹل گیا، تو غار کے اندر ایک سکون سا چھا گیا۔ آگ کی راکھ اب بھی گرم تھی۔ چچا جمشید نے اپنا گٹار اٹھایا اور بہت دھیمی آواز میں ایک ایسی دھن بجائی جو ان کی اپنی زندگی کی کہانی لگ رہی تھی۔


"زویا،" دانیا نے اندھیرے میں پوچھا۔ "تم نے یہ 'ان مولڈنگ ایجنسی' کیوں بنائی؟ تم تو خود اتنی بہادر ہو، تمہیں اس سب کی کیا ضرورت تھی؟"


زویا تھوڑی دیر خاموش رہی، پھر اس نے اپنی قمیض کی آستین تھوڑی اوپر کی۔ وہاں ایک پرانا زخم کا نشان تھا۔


"یہ نشان سوسائٹی کا دیا ہوا ہے، دانیا۔ میں نے ایک ایسے شخص سے شادی کرنے سے انکار کیا تھا جو میرے والد کا بزنس پارٹنر تھا۔ اس 'انکار' کی قیمت مجھے گھر چھوڑ کر اور بدنامی سہہ کر چکانی پڑی۔ اس دن میں نے سوچا تھا کہ میں اکیلی نہیں رہوں گی۔ میں ان سب کے لیے ایک راستہ بناؤں گی جو 'نا' (No) کہنا چاہتے ہیں مگر ڈرتے ہیں۔"


دانیا نے زویا کا ہاتھ تھام لیا۔ پہلی بار ان دو بالکل مختلف لڑکیوں کے درمیان ایک ایسا رشتہ بن گیا تھا جو کسی بھی "سوشل میڈیا فرینڈشپ" سے زیادہ گہرا تھا۔


باب یازدہم: شاہراہِ ریشم پر تعاقب اور جذبوں کی تپش

لاہور کی حبس زدہ رات کے بعد، ارمغان جب ہزارہ موٹر وے پر پہنچا تو اسے محسوس ہوا جیسے ہوا کا ہر جھونکا اسے اس کی نئی حقیقت کا احساس دلا رہا ہو۔ اس نے پولیس کی وردی نہیں پہنی تھی، بلکہ ایک پرانی جینز، چمڑے کی جیکٹ اور ہیلمٹ میں وہ کوئی عام مسافر لگ رہا تھا۔ مگر اس کی پشت پر موجود بیگ میں وہ 'ڈیجیٹل بارود' تھا جو پورے ملک کے سیاسی ایوانوں میں آگ لگا سکتا تھا۔


حماد کی دی ہوئی ہیوی بائیک (Heavy Bike) سڑک پر تیر کی طرح چل رہی تھی۔ ارمغان کا ذہن ایک لمحے کے لیے بھی ساکن نہیں تھا۔ اسے رہ رہ کر اپنے والد کا وہ چہرہ یاد آ رہا تھا جب انہوں نے اسے 'نافرمان' کہا تھا۔


"ابا، نافرمانی اگر ظلم کے خلاف ہو تو وہ عبادت بن جاتی ہے،" اس نے ہیلمٹ کے اندر خود سے سرگوشی کی۔


ابھی وہ مانسہرہ کے قریب پہنچا ہی تھا کہ اسے آئینے میں دو کالی لینڈ کروزر (Land Cruisers) نظر آئیں جو تیزی سے اس کا فاصلہ کم کر رہی تھیں۔ ارمغان کا دل زور سے دھڑکا۔ اسے پتہ تھا کہ میاں مقصود کے نیٹ ورک سے بچنا اتنا آسان نہیں ہے۔ ان گاڑیوں نے اسے گھیرنے کی کوشش کی۔ ایک گاڑی اس کے بالکل متوازی آگئی اور شیشہ نیچے ہوا۔ اندر بیٹھے شخص کے ہاتھ میں پستول تھا، مگر وہ گولی نہیں چلا رہا تھا۔ وہ اسے زندہ پکڑنا چاہتے تھے تاکہ وہ 'ڈیٹا' واپس لے سکیں۔


ارمغان نے اچانک بائیک کی رفتار کم کی، ایک خطرناک کٹ مارا اور ہائی وے سے اتر کر ایک پرانی، کچی سڑک پر بائیک ڈال دی جو دیہاتوں کی طرف جاتی تھی۔ گاڑیوں نے بھی پیچھا جاری رکھا۔ مٹی کا غبار اڑ رہا تھا اور ارمغان کے پاس اب صرف ایک ہی راستہ تھا: 'پہاڑی تیکھے موڑ'۔


اس نے بائیک کو ان ڈھلوانوں پر دوڑایا جہاں بڑی گاڑیوں کا توازن بگڑنے لگتا ہے۔ ایک جگہ سڑک اتنی تنگ تھی کہ گاڑیوں کو رکنا پڑا، مگر ارمغان نہیں رکا۔ اس نے بائیک کو ایک چھوٹی سی ندی کے اوپر بنے لکڑی کے پل سے گزارا اور دوسری طرف کے گھنے جنگل میں گم ہو گیا۔ اس کا 'ایڈونچر' اب صرف ذہنی نہیں بلکہ جسمانی امتحان بن چکا تھا۔


غار سے سیف ہاؤس تک: ایک کٹھن مسافت

دوسری طرف، شاہد چرواہے کی نگرانی میں زویا، دانیا اور چچا جمشید غار سے باہر نکل آئے۔ صبح کی پہلی کرنوں نے پہاڑوں کی چوٹیوں کو سنہرا کر دیا تھا، مگر وادی میں ابھی تک خوف کا سایہ تھا۔


"ہمیں یہاں سے پانچ کلومیٹر دور 'لال کوٹھی' پہنچنا ہے،" شاہد نے ایک تنگ پگڈنڈی کی طرف اشارہ کیا۔ "وہ ارمغان صاحب کا خفیہ ٹھکانہ ہے۔"


دانیا، جس کے پیروں میں چھالے پڑ چکے تھے، اب شکایت نہیں کر رہی تھی۔ اس کا وہ 'سوشل میڈیا والا ناز نخرہ' کہیں پیچھے چھوٹ گیا تھا۔ اس نے دیکھا کہ چچا جمشید کو سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی۔


"چچا جان، آپ میرا ہاتھ پکڑیں،" دانیا نے آگے بڑھ کر ان کا سہارا لیا۔ "ہم پہنچ جائیں گے۔"

چچا جمشید نے مسکرا کر اسے دیکھا۔ "بیٹی، میں نے ساری زندگی دوسروں کے سہارے ڈھونڈے، آج تمہاری ہمت دیکھ کر لگتا ہے کہ میں بھی چل سکتا ہوں۔"


راستے میں زویا نے دیکھا کہ دانیا مسلسل اپنے فون پر کچھ کر رہی ہے، حالانکہ سگنل اب بھی نہیں تھے۔


"دانیا، اب کیا نیا جادو کر رہی ہو؟" زویا نے پوچھا۔


"زویا، میں نے اپنے فون کا 'آف لائن میپ' اور 'بلو ٹوتھ میش نیٹ ورک' (Bluetooth Mesh Network) ایکٹیویٹ کر دیا ہے،" دانیا نے وضاحت کی۔ "اگر ارمغان ایک کلومیٹر کے دائرے میں ہوا، تو ہمارا فون خود بخود اسے سگنل بھیج دے گا، چاہے انٹرنیٹ نہ بھی ہو۔ میں نے اسے 'ڈیجیٹل بریڈ کرمبز' (Digital Breadcrumbs) کا نام دیا ہے۔"


زویا دنگ رہ گئی۔ "تمہارا یہ دماغ اگر صحیح جگہ استعمال ہو، تو تم دنیا بدل سکتی ہو۔"

دانیا نے اداسی سے ہنسی۔ "کاش مجھے یہ بات پہلے پتہ ہوتی۔ میں تو صرف یہ دیکھتی تھی کہ میری تصویر پر کتنے کمنٹس آئے ہیں۔"


لال کوٹھی: جہاں راستے ملتے ہیں

دوپہر کے سائے جب لمبے ہونے لگے، تو وہ ایک پرانی، سرخ اینٹوں والی عمارت کے سامنے پہنچے۔ یہ 'لال کوٹھی' تھی ایک ویران مگر مضبوط مکان جو پہاڑ کی چوٹی پر ایک قلعے کی طرح بنا ہوا تھا۔


شاہد نے انہیں اندر داخل کیا اور خود باہر پہرے پر بیٹھ گیا۔ اندر کا ماحول خاموش تھا، مگر وہاں ارمغان کی موجودگی کا احساس تھا۔ میز پر کچھ پرانے نقشے اور ایک کیمرہ پڑا تھا۔


چند گھنٹے بعد، باہر ایک بائیک کے انجن کی آواز سنائی دی۔ زویا نے لپک کر کھڑکی سے دیکھا۔ ارمغان، مٹی میں اٹا ہوا، تھکا ہارا مگر فاتحانہ انداز میں بائیک سے اترا۔


دروازہ کھلا اور ارمغان اندر داخل ہوا۔ اس کی نظریں سب سے پہلے زویا سے ملیں، پھر دانیا اور چچا جمشید پر گئیں۔ ایک لمحے کے لیے وہاں مکمل خاموشی چھا گئی۔


"تم آگئے۔۔۔" زویا نے دبی آواز میں کہا۔


ارمغان نے اپنا بیگ میز پر رکھا۔ "میں نے کہا تھا نہ، میں 'ان مولڈنگ' کے لیے تیار ہوں۔ بس تھوڑی دیر لگی سسٹم کی زنجیریں توڑنے میں۔"


دانیا نے آگے بڑھ کر ارمغان کو دیکھا۔ "تمہارے پیچھے وہ کالی گاڑیاں لگی ہوئی تھیں، ارمغان۔ تم بچ کر کیسے آئے؟"


"وہ گاڑیاں اب بھی مجھے ڈھونڈ رہی ہیں،" ارمغان نے نقشہ پھیلاتے ہوئے کہا۔ "مگر میاں مقصود کا غرور اب ٹوٹنے والا ہے۔ حماد نے مجھے بتایا ہے کہ اسلام آباد میں کھلبلی مچ چکی ہے۔ ہم یہاں صرف چھپنے نہیں آئے، ہم یہاں سے اپنا آخری 'ڈیجیٹل حملہ' کریں گے۔"


ارمغان نے اپنا لیپ ٹاپ نکالا اور دانیا کی طرف دیکھا۔ "دانیا، مجھے تمہاری ضرورت ہے۔ مجھے پتہ ہے تم 'وائرل' کیسے کرتے ہیں۔ میرے پاس ثبوت ہیں، مگر مجھے انہیں اس طرح پوری دنیا تک پہنچانا ہے کہ کوئی بھی طاقت انہیں ڈیلیٹ نہ کر سکے۔ کیا تم ایک ایسی 'لائیو سٹریم' (Live Stream) ترتیب دے سکتی ہو جو سیٹلائٹ کے ذریعے پوری دنیا میں ایک ساتھ چلے؟"


دانیا کی آنکھوں میں چمک آگئی۔ "یہ میرا میدان ہے، ارمغان۔ بس مجھے پانچ منٹ دو۔"


باب دوازدہم: آتش دان کی تپش اور ادھورے لفظ


لال کوٹھی کے بڑے سے ہال میں رات کا سناٹا چھایا ہوا تھا، مگر یہ وہ سناٹا نہیں تھا جو ڈراتا ہے، بلکہ یہ وہ سکون تھا جو طوفان کے گزر جانے کے بعد محسوس ہوتا ہے۔ باہر برفانی ہوا پودوں سے ٹکرا کر ایک عجیب سی موسیقی پیدا کر رہی تھی، اور اندر آتش دان میں لکڑیاں چٹخ رہی تھیں۔


دانیا اور چچا جمشید تھکن سے چور ہو کر دوسرے کمرے میں جا چکے تھے۔ ہال میں اب صرف ارمغان اور زویا رہ گئے تھے۔ ارمغان ایک پرانے صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ کی سکرین پر نظریں جمائے ہوئے تھا، مگر اس کی انگلیاں کی بورڈ پر ساکن تھیں۔ اس کا ذہن ابھی تک اس پیچھا کرنے والی کالی گاڑیوں اور ان گولیوں کی آوازوں میں الجھا ہوا تھا جو اس کے کانوں کے قریب سے گزری تھیں۔


زویا خاموشی سے دو مگ چائے کے لے کر آئی اور ایک ارمغان کے سامنے میز پر رکھ دیا۔ اس نے دیکھا کہ ارمغان کی جیکٹ کے کندھے پر ایک خراش تھی جہاں سے ہلکا سا خون رس کر جم چکا تھا۔


"تم نے اپنی چوٹ نہیں دیکھی؟" زویا کی آواز میں وہ سختی نہیں تھی جو اس کی پہچان تھی۔ اس کے لہجے میں ایک ایسی لرزش تھی جو ارمغان نے پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔


ارمغان نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ آگ کی نارنجی روشنی زویا کے چہرے پر پڑ رہی تھی، جس سے اس کی آنکھیں مزید گہری اور پرسرار لگ رہی تھیں۔ "یہ چوٹ کچھ بھی نہیں ہے زویا،" اس نے دھیمی آواز میں کہا۔ "جو زخم سسٹم کے اندر رہ کر روح پر لگتے ہیں، یہ ان سے بہت چھوٹا ہے۔"


زویا اس کے قریب بیٹھ گئی۔ اس نے فرسٹ ایڈ کٹ نکالی اور بہت آہستگی سے ارمغان کے زخم کو صاف کرنے لگی۔ جب اس کے ٹھنڈے ہاتھ ارمغان کے گرم کندھے سے مس ہوئے، تو ارمغان کو لگا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ اس نے زویا کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ وہ لڑکی جو دنیا کے سامنے ایک چٹان کی طرح کھڑی رہتی تھی، اس وقت اتنی موم لگ رہی تھی کہ ارمغان کا جی چاہا کہ وہ اس کے تمام دکھ سمیٹ لے۔


"تم نے اتنا بڑا رسک کیوں لیا؟" زویا نے پٹی باندھتے ہوئے سرگوشی کی۔ اس کی نظریں ابھی تک نیچے جھکی ہوئی تھیں۔ "تمہارا کیریئر، تمہارا وقار، تمہارا خاندان۔۔۔ سب کچھ داؤ پر لگ گیا۔ صرف ایک ایسی ایجنسی کے لیے جس کا تم سے کوئی لینا دینا نہیں تھا؟"


ارمغان نے زویا کا وہ ہاتھ تھام لیا جو پٹی باندھ رہا تھا۔ زویا نے ایک پل کے لیے اسے ہٹانے کی کوشش کی، مگر پھر وہ ہار مان گئی۔ ارمغان کی گرفت میں ایک ایسا بھروسہ تھا جو اسے پہلے کبھی کسی مرد میں نظر نہیں آیا تھا۔


"میرا اس ایجنسی سے لینا دینا نہیں تھا زویا، میرا 'تم' سے لینا دینا تھا،" ارمغان کے الفاظ کمرے کی فضا میں شہد کی طرح گھل گئے۔ "میں نے ساری زندگی دوسروں کے لیے جی کر دیکھی تھی۔ اچھے نمبر، اچھی نوکری، اچھا بیٹا۔۔۔ مگر جب میں نے تمہاری آنکھوں میں وہ بغاوت دیکھی، تو مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ میں ایک مردہ جسم تھا جو صرف حکم مانتا تھا۔ تم نے مجھے جینا سکھایا، زویا۔ چاہے وہ جینا صرف چند دنوں کا ہی کیوں نہ ہو۔"


زویا کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ "میں نے ہمیشہ سوچا تھا کہ محبت ایک بیڑی ہے، جو انسان کو کمزور کر دیتی ہے۔ اس لیے میں نے کبھی کسی کو اپنے قریب نہیں آنے دیا۔ مجھے لگا کہ اگر میں کسی سے جڑ گئی، تو میں 'آزاد' نہیں رہوں گی۔"


ارمغان نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا۔ "محبت بیڑی نہیں ہوتی زویا، محبت تو وہ پر (Wings) ہے جو آپ کو اس وقت بھی اڑنا سکھاتی ہے جب پوری دنیا آپ کو زمین پر گرانا چاہتی ہو۔ میں تمہیں تمہاری آزادی سے چھیننا نہیں چاہتا، میں تمہاری آزادی کا حصہ بننا چاہتا ہوں۔"


اس لمحے، لال کوٹھی کی وہ پرانی چھت اور دیواریں گواہ تھیں کہ دو باغی روحیں ایک دوسرے میں پناہ ڈھونڈ رہی تھیں۔ زویا نے اپنا سر ارمغان کے کندھے پر رکھ دیا، اور ارمغان نے اسے اپنی باہوں میں سمیٹ لیا۔ باہر کی دنیا، میاں مقصود، پولیس، سیاست۔۔۔ سب کچھ دھندلا گیا تھا۔ وہاں صرف دو انسان تھے جو ایک دوسرے کے لیے کافی تھے۔


ڈیجیٹل محاذ: دانیا کا عزم

دوسرے کمرے میں، دانیا بستر پر بیٹھی تھی، مگر اس کی نیند اڑ چکی تھی۔ اس کے سامنے اس کا فون اور ارمغان کا دیا ہوا ایک چھوٹا سا سیٹلائٹ موڈیم (Modem) تھا۔ وہ ارمغان اور زویا کی گفتگو تو نہیں سن پا رہی تھی، مگر اسے احساس تھا کہ آج اس کوٹھی میں کچھ بہت بڑا بدل رہا ہے۔


اس نے اپنا کیمرہ آن کیا اور اپنا چہرہ دیکھا۔ بغیر میک اپ کے، بکھرے بالوں کے ساتھ، اس کے ماتھے پر موجود وہ خراش اب اسے بدصورت نہیں لگ رہی تھی، بلکہ وہ اسے ایک 'تمغہ' لگ رہی تھی۔


"اوکے گائز،" اس نے ایک ویڈیو ریکارڈ کرنا شروع کی۔ اس کی آواز میں اب وہ پرانا 'انفلوئنسر' والا لہجہ نہیں تھا، بلکہ ایک سنجیدہ خاتون کا وقار تھا۔ "آپ سب نے دیکھا کہ میرے بارے میں کیا کچھ کہا گیا۔ آپ سب نے وہ تصویریں دیکھیں جو مجھے توڑنے کے لیے پوسٹ کی گئیں۔ مگر آج میں آپ کو وہ سچ دکھاؤں گی جو ان تصویروں سے بہت بڑا ہے۔ آج ہم 'ان مولڈنگ' کا آخری مرحلہ شروع کر رہے ہیں۔"


اس نے ارمغان کی فائلیں اپ لوڈ کرنا شروع کیں۔ "میں نے ساری زندگی لائیکس کے لیے گزاری، مگر آج میں یہ سب سچ کے لیے کر رہی ہوں۔ اگر یہ میری آخری ویڈیو ہوئی، تو یاد رکھیے گا کہ سچ بولنا، فلٹر لگانے سے زیادہ خوبصورت ہوتا ہے۔"


طوفان کا پیش خیمہ

اچانک، شاہد چرواہا ہال میں داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار تھے۔ ارمغان اور زویا ایک دم الگ ہو گئے۔


"ارمغان صاحب! وہ آ گئے ہیں،" شاہد نے بندوق سنبھالتے ہوئے کہا۔ "اس بار وہ صرف دو گاڑیاں نہیں ہیں۔ انہوں نے پوری کوٹھی کا گھیراؤ کر لیا ہے۔ اور اس بار ان کے پاس پولیس کی وردی میں بھی کچھ لوگ ہیں۔"


ارمغان نے زویا کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا۔ اس کی آنکھوں میں اب خوف نہیں، بلکہ ایک جنون تھا۔ "دانیا! کتنا وقت لگے گا ویڈیو لائیو ہونے میں؟"


"صرف دو منٹ، ارمغان! بس دو منٹ کا وقت دے دو،" دانیا نے دوسرے کمرے سے چیخ کر کہا۔


"زویا، اپنا ہتھیار اٹھاؤ،" ارمغان نے میز پر پڑی پستول اٹھائی جو اس نے حماد سے لی تھی۔ "آج ہم صرف بھاگیں گے نہیں، آج ہم لڑیں گے۔"


باہر سے ایک میگافون پر آواز گونجی: "ارمغان علی! باہر نکل آؤ۔ تم قانون کی گرفت میں ہو۔ تمام ثبوت ہمارے حوالے کر دو، ورنہ ہم عمارت کو آگ لگا دیں گے۔"


ارمغان نے زویا کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔ "تیار ہو؟"


زویا نے لوہے کا راڈ اٹھایا اور اپنے بال جوڑے میں باندھے۔ "میں تو اس دن کے لیے پیدا ہوئی تھی، ارمغان۔"


باب سیزدہم: سچ کا سورج اور آخری محاذ

لال کوٹھی کے باہر کی فضا اب بارود کی بو اور گاڑیوں کے ڈیزل کے دھوئیں سے بوجھل ہو چکی تھی۔ میاں مقصود کے کرائے کے غنڈوں اور کچھ بکاؤ پولیس اہلکاروں نے عمارت کو ہر طرف سے گھیر لیا تھا۔ میگافون پر ہونے والا اعلان اب دھمکیوں میں بدل چکا تھا۔ پہاڑوں کی اوٹ سے چھنتی ہوئی چاندنی اب ان بندوقوں کی نالیوں پر چمک رہی تھی جو ارمغان اور اس کے ساتھیوں کی جان لینے کے لیے تنی ہوئی تھیں۔


اندر ہال میں، ارمغان اور زویا ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔ ارمغان نے اپنی جیکٹ کے بٹن بند کیے اور پستول کا میگزین چیک کیا۔ اس کے چہرے پر وہ سکون تھا جو صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جو اپنی منزل کا انتخاب کر چکے ہوتے ہیں۔


"زویا،" ارمغان نے دھیمی مگر مضبوط آواز میں کہا۔ "اگر آج کچھ ہو جائے۔۔۔ تو یاد رکھنا، میں نے اپنی زندگی کے بہترین لمحات تمہارے ساتھ گزارے ہیں۔ وہ جو تم کہتی تھی نا کہ 'انفرادیت' کی قیمت چکانی پڑتی ہے، آج مجھے اس قیمت کا احساس ہو رہا ہے۔ اور یقین کرو، یہ سودا مہنگا نہیں ہے۔"


زویا نے آگے بڑھ کر ارمغان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔ اس کے لمس میں ایک ایسی ہمت تھی جو لفظوں کی محتاج نہیں تھی۔ "آج کچھ نہیں ہوگا ارمغان۔ ہم صرف ایک نظام سے نہیں لڑ رہے، ہم ان لاکھوں لوگوں کی امید بن کر لڑ رہے ہیں جو اپنی زندگیوں کے سکرپٹ دوسروں سے لکھواتے ہیں۔ تم نے مجھے سکھایا ہے کہ محبت انسان کو بزدل نہیں، نڈر بناتی ہے۔"

اسی لمحے دانیا دوسرے کمرے سے دوڑتی ہوئی آئی۔ اس کا چہرہ پسینے سے شرابور تھا لیکن آنکھوں میں ایسی چمک تھی جیسے اس نے کوئی بڑی جنگ جیت لی ہو۔


"ارمغان! زویا! لائیو سٹریم شروع ہو چکی ہے! لنک پوری دنیا میں پھیل گیا ہے۔ صرف پانچ منٹ میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ جڑ چکے ہیں۔ میں نے میاں مقصود کی وہ تمام آڈیوز اور ویڈیوز پلے کر دی ہیں جہاں وہ زمینوں پر قبضے اور افسران کو رشوت دینے کی بات کر رہا ہے۔ اب وہ ہمیں مار بھی دیں، تو یہ سچ نہیں مرے گا!"


چچا جمشید جو اب تک خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھے تھے، اپنا گٹار کیس اٹھا کر کھڑے ہوئے۔ ان کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی۔ "بیٹا، تم لوگ ڈیجیٹل دنیا سنبھالو، میں ان لوگوں کو ذرا اپنی موسیقی سناتا ہوں۔"


"چچا، آپ کیا کر رہے ہیں؟ باہر گولی چل رہی ہے!" ارمغان نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔

"ارمغان بیٹا، ساٹھ سال تک میں نے موت کے ڈر سے جی کر دیکھا، اب ذرا زندگی کے شوق میں مر کر دیکھتے ہیں،" چچا جمشید نے بڑے وقار سے کہا۔ انہوں نے کوٹھی کا بھاری لکڑی کا دروازہ کھولا اور باہر ٹیرس پر نکل گئے۔


باہر موجود غنڈے اور پولیس والے حیران رہ گئے جب انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو سفید بالوں کے ساتھ، ہاتھ میں گٹار لیے باہر نکلتے دیکھا۔ چچا جمشید نے گٹار کے تاروں پر ایک بھرپور ضرب لگائی۔ موسیقی کی وہ آواز وادی کے سکون کو چیرتی ہوئی دور تک گئی۔ یہ ایک للکار تھی۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ تم ہمیں ڈرا نہیں سکتے۔


خون اور آگ کا کھیل

"فائر!" نیچے سے ایک آواز گونجی۔


پہلی گولی چلی اور لال کوٹھی کی دیوار میں پیوست ہو گئی۔ ارمغان نے زویا کو کھینچ کر کھڑکی کی اوٹ میں کیا اور جوابی فائرنگ شروع کی۔ شاہد چرواہا دوسری طرف کی کھڑکی سے اپنی پرانی بندوق سے نشانہ لگا رہا تھا۔


کمرے کے اندر شیشے ٹوٹ کر گر رہے تھے۔ دانیا نے اپنا لیپ ٹاپ فرش پر رکھ دیا اور مسلسل اپ ڈیٹس دے رہی تھی۔ "لوگ کمنٹس کر رہے ہیں! وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنی گاڑیوں میں یہاں کی طرف نکل رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر 'Save The Rebels' کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے!"

ارمغان نے دیکھا کہ کچھ لوگ دیوار پھلانگ کر اندر آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ "زویا! سیڑھیاں سنبھالو!"


زویا نے لوہے کا راڈ اٹھایا اور سیڑھیوں کے اندھیرے میں غائب ہو گئی۔ جیسے ہی پہلا شخص اوپر پہنچا، زویا کی پھرتی اور غصے نے اسے سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔ وہ اس لڑکی کے اندر چھپی ہوئی برسوں کی گھٹن تھی جو اب ایک طوفان بن کر نکل رہی تھی۔ وہ ان تمام لوگوں کے خلاف لڑ رہی تھی جنہوں نے کبھی اسے 'کمزور' کہا تھا۔


ارمغان کا پستول اب گرم ہو چکا تھا۔ اس نے دیکھا کہ ایک پولیس والا (جو میاں مقصود کا تنخواہ دار تھا) چچا جمشید کی طرف بندوق تان رہا تھا۔


"نہیں!" ارمغان چیخا اور کھڑکی سے باہر چھلانگ لگا دی۔ وہ براہِ راست اس پولیس والے پر گرا۔ دونوں زمین پر گتھم گتھا ہو گئے۔ ارمغان کو اپنی پسلیوں میں ایک تیز درد محسوس ہوا، مگر اس نے پرواہ نہیں کی۔ اس نے مکہ مار کر اسے بیہوش کیا اور اس کی وائرلیس اٹھا لی۔


"تمام پولیس اہلکار سنیں!" ارمغان نے وائرلیس پر گرج کر کہا۔ "میں اسسٹنٹ کمشنر ارمغان علی بول رہا ہوں۔ میاں مقصود کے تمام ثبوت لائیو انٹرنیٹ پر آ چکے ہیں۔ اگر تم نے ابھی ہتھیار نہ ڈالے، تو تم سب پر غداری اور قتلِ عمد کا مقدمہ چلے گا۔ عوام یہاں پہنچ رہی ہے۔ اپنے انجام کا فیصلہ خود کر لو!"


تھرلر کا آخری موڑ: عوامی سیلاب

وائرلیس پر ارمغان کی آواز سن کر کچھ پولیس والے ٹھٹک گئے۔ اسی دوران دور سے سینکڑوں گاڑیوں کے ہارن اور نعروں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو دانیا کی لائیو سٹریم دیکھ کر قریبی علاقوں سے نکل آئے تھے۔ طلباء، عام شہری اور وہ لوگ جو میاں مقصود کے ستائے ہوئے تھے، ایک سمندر کی طرح لال کوٹھی کی طرف بڑھ رہے تھے۔


میاں مقصود کے غنڈوں نے جب دیکھا کہ اب وہ صرف چار لوگوں سے نہیں بلکہ ایک پورے ہجوم سے لڑ رہے ہیں، تو ان کے حوصلے پست ہو گئے۔ وہ اپنی گاڑیاں چھوڑ کر جنگل کی طرف بھاگنے لگے۔


ارمغان زمین پر لیٹا ہانپ رہا تھا۔ اس کا جسم زخموں سے چور تھا، مگر اس کی نظریں آسمان پر تھیں جہاں صبح کا ستارہ چمک رہا تھا۔


زویا بھاگتی ہوئی آئی اور اس کا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔ "ارمغان! تم ٹھیک ہو؟" اس کی آواز میں خوف اور محبت کا ایک عجیب امتزاج تھا۔


ارمغان نے مسکرا کر زویا کا ہاتھ تھاما۔ "دیکھو زویا۔۔۔ سورج نکل رہا ہے۔ آج کوئی یہ نہیں پوچھے گا کہ 'لوگ کیا کہیں گے'۔ آج لوگ وہ کہہ رہے ہیں جو وہ کہنا چاہتے تھے۔"


دانیا اور چچا جمشید بھی باہر آ گئے۔ دانیا نے اپنا فون ہوا میں لہرایا۔ "ہم نے کر دکھایا! میاں مقصود کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ہماری ویڈیو نے ایوانوں میں آگ لگا دی ہے۔"

چچا جمشید نے اپنے گٹار پر آخری دھن بجائی اور ایک لمبی سانس لی۔ "آج مجھے پتہ چلا کہ موسیقی صرف کانوں کے لیے نہیں ہوتی، یہ زنجیریں توڑنے کے لیے بھی ہوتی ہے۔"


ایک نئی شروعات

کچھ مہینوں بعد، لاہور کی فضا بدلی ہوئی تھی۔ ارمغان اب سرکاری نوکری چھوڑ چکا تھا، مگر وہ اب ایک زیادہ طاقتور عہدے پر تھا—وہ اب 'دی ان مولڈنگ ایجنسی' کا شریکِ بانی تھا۔ اس کے والد اب اس سے نظریں نہیں ملاتے تھے، مگر ان کی آنکھوں میں ایک خاموش احترام تھا۔

دانیا اب ایک ایسی انفلوئنسر تھی جو 'فلٹرز' نہیں بلکہ 'حقیقت' بیچتی تھی۔ اس نے ایک مہم شروع کی تھی جس کا نام تھا "Identify Yourself"۔


اور زویا؟ زویا اب اکیلی نہیں تھی۔ وہ اور ارمغان اب پہاڑوں کے درمیان ایک چھوٹا سا سکول چلا رہے تھے جہاں بچوں کو یہ سکھایا جاتا تھا کہ ڈاکٹر یا انجینئر بننے سے پہلے 'انسان' بننا اور 'اپنی پہچان' رکھنا کتنا ضروری ہے۔


کہانی کے آخری منظر میں، زویا اور ارمغان لال کوٹھی کی طرح کے ایک برآمدے میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔


"تو، اگلا ایڈونچر کیا ہے؟" زویا نے شرارت سے پوچھا۔

ارمغان نے زویا کا ہاتھ پکڑا اور دور افق کی طرف دیکھا۔ "اگلا ایڈونچر یہ ہے زویا کہ ہم کبھی دوبارہ 'سانچوں' میں نہیں ڈھلیں گے۔ ہم جیسے ہیں، ویسے ہی بہترین ہیں۔"


(جاری ہے۔۔۔)

bottom of page