مکالمے کا زوال اور نفوس کا انتشار
Ovais

انسان، جو کائنات کی سب سے مکالمہ پسند ہستی کہلایا، آج ایک عجیب نفسیاتی گرداب میں پھنس چکا ہے۔ اس کا ثبوت وہ فضا ہے جہاں "بات" اب "مکالمہ" نہیں رہی۔ گفتگو ایک پُل نہیں، بلکہ ایک میدانِ جنگ بن گئی ہے، یا پھر محض ایک آراستہ تقریب جہاں صرف مدح و ثنا کے پھول نچھاور کیے جاتے ہیں۔
نفسیاتی گرہ: تعریف یا تصادم؟
یہ صورتحال دو انتہاؤں کو جنم دیتی ہے:
1 واہ واہ کا حصار (The Echo Chamber):
جب لوگ کسی بات کو محض سُنتے ہیں اور بغیر کسی فکری توازن کے "واہ واہ" کہہ کر داد دیتے ہیں، تو وہ دراصل تائید (Validation) کے بھوکے ہوتے ہیں۔ وہ سُننے والے سے اپنے نظریے کی تصدیق چاہتے ہیں، نہ کہ اس پر کوئی فکری اضافہ۔
یہ رجحان فرد کو نارسیزم (Narcissism) کی طرف دھکیلتا ہے، جہاں اپنی رائے ہی حرفِ آخر ٹھہرتی ہے اور اختلاف کو قبول کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔
2 تنقید کی بجائے تصادم (The Conflict Trap):
دوسری طرف، جب کوئی بات یا نظریہ طبیعت پر گراں گزرتا ہے، تو مکالمے کی جگہ فوراً لڑائی اور برے الفاظ لے لیتے ہیں۔ یہ تنقید سے فرار اور انا کی مدافعت (Ego Defense) کا اشارہ ہے۔
دراصل، تنقید (Critique) ایک فکری مشقت کا تقاضا کرتی ہے— دلیل، صبر، اور دوسرے کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشش۔ جب یہ مشقت گراں گزرتی ہے، تو آسان راستہ جذباتی حملہ اختیار کرنا ہوتا ہے۔ گالم گلوچ دراصل دلیل کی کمی اور جذباتی عدم توازن (Emotional Imbalance) کا اعتراف ہے۔
مکالمے کا گمشدہ آرٹ
مکالمہ صرف الفاظ کا تبادلہ نہیں، یہ نفوس کا ملاپ ہے۔ اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ:
"میں آپ کی رائے کو مکمل طور پر مسترد کر سکتا ہوں، لیکن بطور انسان آپ کی عزت برقرار رکھوں گا۔"
آج کا انسان اس آرٹ سے محروم ہو چکا ہے۔ وہ بات کو نظریہ کی بجائے شخصیت کا حصہ سمجھتا ہے۔ جب آپ اس کے نظریے پر تنقید کرتے ہیں، تو اسے لگتا ہے کہ آپ اس کی ذات، اس کی عقل، یا اس کے وجود پر حملہ کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فکری تنقید فوراً ذاتی تصادم میں بدل جاتی ہے۔
نتیجہ: فکر کی بے چینی
یہ صورتحال معاشرتی سطح پر ایک فکری بے چینی (Intellectual Anxiety) پیدا کرتی ہے:
* اگر تعریف کرو تو جھوٹا تسلی دینے والا۔
* اگر تنقید کرو تو دشمن۔
