وفا کی راکھ
Ovais
جہاں محبت ہی سب سے بڑا دھوکا تھی

وفا کی راکھ
باب اول: خاموشی کا شور
پہاڑوں کے درمیان بل کھاتی وہ سڑک کسی سوئی ہوئی ناگن کی طرح لگ رہی تھی، جس پر ایک سیاہ رنگ کی جیپ پوری رفتار سے دوڑ رہی تھی۔ گاڑی کے اندر صرف انجن کی گرگڑاہٹ اور باہر سے آنے والی تیز ہواؤں کی سنسناہٹ تھی۔ اسٹیئرنگ وہیل پر گرفت مضبوط کیے ہوئے، شارق کی نظریں سامنے پھیلی ہوئی دھند پر جمی ہوئی تھیں۔
شارق،ایک ایسا شخص جس کی آنکھوں میں تھکن کم اور جستجو زیادہ تھی۔ وہ شہر کی مصنوعی روشنیوں اور دفتر کی بے معنی فائلوں سے دور، کسی ایسی منزل کی تلاش میں تھا جس کا نقشہ شاید ابھی خود اس کے ذہن میں بھی واضح نہیں تھا۔ اس نے گاڑی کا شیشہ تھوڑا نیچے کیا، تو پہاڑوں کی برفیلی ہوا نے اس کے چہرے کو تھپتھپایا۔ ایک لمحے کے لیے اس نے اپنی آنکھیں موند لیں، مگر اگلے ہی سیکنڈ میں اسے احساس ہوا کہ وہ 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر ہے، اور موت اسے گلے لگانے کے لیے کسی بھی کھائی میں منتظر ہو سکتی ہے۔
"پاگل نہ بن لڑکے، پاگل نہ بن..." اس کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
گاڑی کے ڈیش بورڈ پر دھری کافی اب ٹھنڈی ہو چکی تھی، بالکل اسی طرح جیسے اس کی زندگی کے پچھلے چند سال۔ وہ اپنی تنہائی سے بیزار نہیں تھا، بلکہ وہ اس تنہائی کو انجوائے کر رہا تھا۔ اس سفر کا مقصد صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا نہیں تھا، بلکہ خود کو دوبارہ دریافت کرنا تھا۔ اس نے ریڈیو آن کرنے کی کوشش کی، مگر پہاڑوں کی گہرائی میں سگنلز نے ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ اب صرف وہ تھا، اس کی گاڑی، اور سامنے پھیلا ہوا وہ راستہ جو شاید کسی ایسی داستان کی طرف لے جا رہا تھا جس کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
اچانک، سڑک پر ایک تیز موڑ آیا۔ شارق نے بریک پر زور دیا، مگر ٹائروں کی چیخ نے خاموش وادی کا سکون تہہ و بالا کر دیا۔ سامنے کوئی چیز تھی... یا کوئی شخص؟ اس کی گاڑی بالکل ایک پرانے، خستہ حال لکڑی کے سائن بورڈ کے قریب جا کر رکی جس پر دھندلا سا لکھا تھا: "وادیِ گمشدہ ، جہاں واپسی کا راستہ نہیں ملتا۔"
شارق نے لمبی سانس لی اور گاڑی سے باہر نکلا۔ چاروں طرف سناٹا ایسا تھا کہ اسے اپنے دل کی دھڑکن صاف سنائی دے رہی تھی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ موڑ اسے کسی ایڈونچر کی طرف لے جائے گا یا کسی ایسی الجھن میں ڈال دے گا جہاں سے نکلنا ناممکن ہو جائے گا۔
باب دوم: مسافت اور ملامت
گاڑی کا بونٹ کھولتے ہی گرم بھاپ کا ایک بادل شارق کے چہرے سے ٹکرایا، جیسے قدرت اس کے یہاں آنے کے فیصلے پر طنزیہ ہنسی ہنس رہی ہو۔ انجن سے اٹھنے والی وہ عجیب سی 'خراٹے' دار آواز اب مکمل خاموشی میں بدل چکی تھی۔ شارق نے ایک گہری سانس لی اور اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ اس کے پاس میکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری تو نہیں تھی، لیکن اتنا وہ جانتا تھا کہ جب ریڈی ایٹر سے دھواں نکلنے لگے اور انجن تپتی کڑاہی بن جائے، تو خاموشی سے تماشہ دیکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔
"کمال ہے بھئی! بس اِسی کسر باقی تھی،" اس نے بلند آواز میں کہا، اور اس کی آواز پہاڑوں سے ٹکرا کر بازگشت بن کر واپس آئی: 'باقی تھی... باقی تھی...'
سورج اب پہاڑوں کی اوٹ میں چھپنے کی تیاری کر رہا تھا، اور آسمان پر نارنجی اور جامنی رنگوں کا ایک ایسا امتزاج پھیل رہا تھا جو دیکھنے میں تو خوبصورت تھا مگر شارق کے لیے خطرے کی گھنٹی تھا۔ اس ویرانے میں رات گزارنا کسی خودکشی سے کم نہ تھا۔ اس نے گاڑی کا دروازہ لاک کیا، اپنا بیگ کندھے پر ڈالا اور اس لکڑی کے سائن بورڈ کی سمت دیکھ کر قدم بڑھانے شروع کیے جس پر 'وادیِ گمشدہ' لکھا تھا۔
راستہ کچا تھا اور ہر قدم پر خشک پتوں کی کڑکڑاہٹ اسے یہ احساس دلا رہی تھی کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔ کوئی آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد، جب ٹانگیں جواب دینے لگی تھیں، اسے دور کہیں مدھم سی روشنی دکھائی دی۔ وہ روشنی کسی گھر کی لگ رہی تھی یا شاید کسی قدیم سراۓ کی۔
جوں جوں وہ قریب پہنچا، اسے احساس ہوا کہ وہ کوئی عام بستی نہیں تھی۔ وہاں کی عمارتیں عجیب و غریب طرز کی تھیں، کچھ لکڑی کی، کچھ پتھروں کی، اور کچھ ایسی جو شاید زمین کے اندر دھنسی ہوئی تھیں۔ گلیوں میں ایک خاص قسم کی مہک تھی، جیسے پرانی کتابوں اور جلی ہوئی دار چینی کی خوشبو ملی جلی ہو۔
ابھی وہ ایک بڑے سے لکڑی کے دروازے کے سامنے پہنچا ہی تھا کہ اچانک اوپر سے کوئی چلایا:
"اوئے! ہٹنا ذرا، یہ بالٹی گرنے والی ہے!"
شارق ابھی اوپر دیکھ ہی پایا تھا کہ پانی سے بھری ایک بالٹی اس کے قدموں سے محض چند انچ دور آ گری۔ وہ اچھل کر پیچھے ہٹا۔ اوپر ایک کھڑکی میں ایک عجیب و غریب وضع قطع کا بوڑھا شخص نظر آیا، جس کی ناک پر پیتل کا چشمہ ٹکا ہوا تھا اور اس کی داڑھی اتنی لمبی تھی کہ شاید وہ اسے بیلٹ کے طور پر بھی استعمال کر سکتا تھا۔
"تم... تم پاگل ہو؟" شارق نے غصے اور حیرت کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ پوچھا۔
بوڑھے نے سکون سے چشمہ درست کیا اور بولا، "پاگل وہ ہوتا ہے جو جانتے بوجھتے 'گمشدہ' بستی میں گاڑی خراب کر کے پیدل آئے۔ تم مسافر ہو یا عذاب؟"
شارق ہکا بکا اسے دیکھتا رہ گیا۔ یہ اس مہم جوئی کا پہلا کردار تھا، جو جتنا مزاحیہ تھا، اتنا ہی پراسرار بھی۔ بستی کے اس پہلے باسی کا لہجہ اور باتیں شارق کو یہ بتانے کے لیے کافی تھیں کہ یہاں منطق (Logic) کا کوئی کام نہیں ہے۔
باب سوم: عقلِ کل اور بستیِ بے فکرباز
شارق نے اپنی گیلی آستین جھاڑتے ہوئے اس بوسیدہ عمارت کی طرف دیکھا جو اپنی ساخت میں کسی ٹیڑھے میڑھے ٹاور جیسی لگ رہی تھی۔ بوڑھا شخص اب کھڑکی سے غائب ہو چکا تھا اور چند لمحوں بعد ہی نیچے کا بھاری بھرکم دروازہ ایک ایسی آواز کے ساتھ کھلا جیسے صدیوں سے اسے کسی نے چھوا نہ ہو۔
"اندر آ جاؤ میاں! باہر کھڑے رہو گے تو یہاں کی ہوائیں تمہاری یادداشت چاٹ جائیں گی،" بوڑھے نے دروازے کی اوٹ سے جھانکتے ہوئے کہا۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانی لالٹین تھی جس کی روشنی اس کے چہرے کی جھرریوں میں لکیریں سی بنا رہی تھی۔
شارق ہچکچاتے ہوئے اندر داخل ہوا۔ اندر کا منظر باہر سے بھی زیادہ عجیب تھا۔ ہر طرف گھڑیاں لٹکی ہوئی تھیں، دیواروں پر، چھت سے، اور فرش پر ڈھیر کی صورت میں۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ان میں سے کوئی بھی ایک جیسا وقت نہیں دکھا رہی تھی۔ کوئی گھڑی الٹی چل رہی تھی تو کسی کی سوئیاں ساکت تھیں۔
"میرا نام بابا فہمیدہ ہے،" بوڑھے نے ایک ٹوٹی ہوئی کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ "اور اس سے پہلے کہ تم پوچھو، میں تمہیں بتا دوں کہ یہاں وقت کی کوئی اوقات نہیں ہے۔ ہم یہاں وقت گزارتے نہیں ہیں، اسے پالتے ہیں۔"
شارق کرسی پر بیٹھتے ہی تھوڑا سا نیچے دھنس گیا کیونکہ اس کی ایک ٹانگ غائب تھی اور اس کی جگہ کتابوں کا ایک دستہ رکھا ہوا تھا۔ "بابا، میری گاڑی خراب ہو گئی ہے اور مجھے کسی مکینک کی ضرورت ہے،" شارق نے سنجیدگی سے کہا۔
بابا فہمیدہ نے ایک زوردار قہقہہ لگایا، "مکینک؟ میاں، اس بستی میں مشین نہیں، مزاج خراب ہوتے ہیں۔ یہاں کا سب سے بڑا کاریگر 'گلو پہلوان' ہے، لیکن وہ تب تک کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگاتا جب تک وہ چیز اسے کوئی لطیفہ نہ سنا دے۔ اور تمہاری گاڑی... وہ تو بے جان ہے، وہ بیچاری اسے کیا سنائے گی؟"
شارق کو لگا جیسے وہ کسی خواب میں ہے یا شاید کسی پاگل خانے میں۔ ابھی وہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ دروازہ دھڑاک سے کھلا اور ایک لمبا تڑنگا آدمی اندر داخل ہوا جس نے سر پر پتیلا الٹا کر رکھا ہوا تھا اور گلے میں مختلف رنگوں کے دھاگے لٹک رہے تھے۔
"بابا! بستی کے چوراہے پر انصاف ہو رہا ہے! کسی نے قاضی صاحب کی مرغی کو 'بدصورت' کہہ دیا ہے اور اب قاضی صاحب بضد ہیں کہ جب تک مرغی کا میک اپ نہیں ہو جاتا، وہ مقدمہ نہیں سنیں گے،" نئے آنے والے نے سانس پھولتے ہوئے اطلاع دی۔
بابا فہمیدہ نے شارق کی طرف دیکھا، "دیکھو میاں مسافر! یہ ہے ہمارا پہلا نمونہ۔ اسے سب 'خیالی' کہتے ہیں کیونکہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ بستی کا وزیرِ اطلاعات ہے، حالانکہ اس کا کام صرف محلے کی بلیوں کو گنتی سکھانا ہے۔"
شارق کی عقل حیران تھی کہ یہ لوگ کس دنیا کے باسی ہیں۔ بابا فہمیدہ نے شارق کو کھانے کی پیشکش کی جس میں 'نیلے رنگ کا شوربہ' اور 'مربع نما روٹیاں' تھیں۔
"یہ کیا ہے؟" شارق نے مشکوک ہو کر پوچھا۔
"یہ ہمت کا کھانا ہے بیٹا! اسے کھاؤ گے تو کل صبح تک اس قابل ہو جاؤ گے کہ یہاں کے لوگوں کی باتیں سمجھ سکو، ورنہ عام انسان تو یہاں دو گھنٹے میں اپنے بال نوچنے لگتا ہے،" بابے نے سکون سے لقمہ توڑتے ہوئے کہا۔
رات گہری ہو رہی تھی۔ بابا فہمیدہ نے شارق کو اوپر کی منزل پر ایک کمرہ دیا جہاں کی کھڑکی سے پوری بستی کا نظارہ نظر آتا تھا۔ دور گلیوں میں لوگ اب بھی گھوم رہے تھے، مگر ان کے سائے دیواروں پر ان کی حرکت سے الٹ ناچ رہے تھے۔ شارق نے بستر پر لیٹتے ہوئے سوچا کہ وہ کسی مہم جوئی کی تلاش میں تو تھا، مگر یہ ایڈونچر تو اس کی سمجھ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔
اسے اندازہ نہیں تھا کہ کل صبح اسے اس بستی کے ایسے ایسے راز معلوم ہوں گے جو اسے ہنسنے پر بھی مجبور کریں گے اور خوفزدہ بھی۔ اور ابھی تو اس نے بستی کی اس پراسرار 'شہزادی' یا کسی نسائی وجود کا ذکر تک نہیں سنا تھا جس کے گرد یہاں کی تمام کہانیاں گھومتی تھیں۔
باب چہارم: چوراہے کا تماشہ اور مرغی کا مقدمہ
اگلی صبح جب شارق کی آنکھ کھلی تو سورج کی کرنیں کھڑکی کے ٹوٹے ہوئے شیشے سے چھن کر سیدھی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھیں۔ بستی میں ایک عجیب سا شور برپا تھا۔ ڈھول کی تھاپ، سیٹیوں کی آوازیں اور لوگوں کا ایک ہجوم جو نعرے لگاتا ہوا گلی سے گزر رہا تھا۔ شارق نے جلدی سے اپنا منہ ہاتھ دھویا اور نیچے اترا۔ بابا فہمیدہ وہاں موجود نہیں تھے، مگر میز پر ایک پرچی رکھی تھی جس پر لکھا تھا:
"اگر اپنی گاڑی ٹھیک کروانی ہے تو چوراہے پر پہنچو، آج انصاف کا دن بھی ہے اور گلو پہلوان کا 'موڈ' بھی!"
شارق تجسس کے عالم میں باہر نکلا۔ بستی کے چوراہے پر لوگوں کا جم غفیر تھا۔ درمیان میں ایک بلند چبوترے پر ایک بھاری بھرکم شخص بیٹھا تھا جس کی توند اس کے گھٹنوں تک آ رہی تھی اور اس نے ریشمی کرتا پہن رکھا تھا۔ یہ قاضی صاحب تھے۔ ان کے برابر میں ایک پنجرے میں ایک دبلی پتلی مرغی بند تھی، جس کے گلے میں موتیوں کا ہار لٹکا ہوا تھا۔
"خاموش! خاموش!" ایک پستہ قد آدمی نے زور سے چیخ کر کہا۔ "قاضی صاحب فیصلہ سنانے والے ہیں۔ مقدمہ یہ ہے کہ 'شیدا نائی' نے اس شاہی مرغی کو دیکھ کر 'توبہ توبہ' کیوں کیا؟ کیا یہ مرغی کی توہین نہیں ہے؟"
ہجوم میں سے ایک دبلا پتلا آدمی، جو شاید شیدا نائی تھا، کانپتے ہوئے بولا، "حضور! میں نے تو اس لیے توبہ کی تھی کیونکہ مرغی نے میری دکان میں گھس کر استرا اٹھا لیا تھا!"
قاضی نے غصے سے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیا، "بہانہ مت بناؤ! مرغی استرا اٹھائے تو اسے 'سٹائل' کہتے ہیں، بدصورتی نہیں۔ گلو پہلوان! تم کیا کہتے ہو؟"
ہجوم کے ایک کونے میں ایک شخص زمین پر بیٹھا ہوا ایک بڑے سے ہتھوڑے سے پیاز کچل رہا تھا۔ اس کے بازو اتنے موٹے تھے جیسے درخت کے تنے ہوں۔ یہ 'گلو پہلوان' تھا۔ اس نے سر اٹھا کر شارق کی طرف دیکھا، جو اس بھیڑ میں بالکل اجنبی لگ رہا تھا۔
گلو پہلوان نے ایک زوردار ڈکار لی اور کہا، "قاضی صاحب! انصاف تو ہوتا رہے گا، پہلے اس نئے پرندے کی بات سنیں جو شہر سے اڑ کر یہاں آیا ہے۔ اے لڑکے! ادھر آ۔"
شارق ہچکچاتے ہوئے آگے بڑھا تو سب کی نظریں اس پر جم گئیں۔ گلو پہلوان نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور پھر پوچھا، "سنا ہے تمہارا 'لوہے کا گھوڑا' (گاڑی) بیمار ہو گیا ہے؟ میں اسے ٹھیک کر سکتا ہوں، لیکن میری ایک شرط ہے۔"
"کیسی شرط؟" شارق نے پوچھا۔
گلو پہلوان نے سنجیدگی سے کہا، "تمہیں ثابت کرنا ہوگا کہ تم اس بستی کے لائق ہو۔ یہاں عقل مندوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ تمہیں اس مرغی کی خوبصورتی پر ایک ایسی تقریر کرنی ہوگی کہ قاضی صاحب کی آنکھوں میں آنسو آ جائیں۔ اگر تم نے یہ کر دیا، تو میں تمہاری گاڑی کا انجن اپنے ہاتھ سے چمکا دوں گا، ورنہ تمہیں پورا ہفتہ قاضی صاحب کی مرغی کے پاؤں دبانے ہوں گے۔"
پورا مجمع قہقہوں سے گونج اٹھا۔ شارق کے لیے یہ صورتحال کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھی، مگر وہ جانتا تھا کہ اس پاگل خانے سے نکلنے کا یہی ایک راستہ ہے۔ اس نے ایک لمبی سانس لی، مرغی کی طرف دیکھا، جو اس وقت ایک آنکھ بند کر کے اسے گھور رہی تھی، اور اپنے ذہن میں الفاظ ترتیب دینے لگا۔
شارق نے گلا صاف کیا اور بولا، "اے وادیِ گمشدہ کے منصفو! آپ لوگ اس پرندے کو صرف ایک مرغی سمجھ رہے ہیں؟ نہیں! یہ تو حسن کی وہ معراج ہے جسے دیکھ کر مور بھی شرما کر اپنے پر نوچ لے۔ اس کی چونچ کی چمک بتاتی ہے کہ یہ دانے نہیں، موتی چگنے کے لیے پیدا ہوئی ہے..."
جیسے جیسے شارق کی 'جھوٹی تعریفیں' بڑھتی گئیں، قاضی صاحب کا چہرہ فخر سے پھولنے لگا اور بستی والے حیرت سے منہ کھولے اسے سننے لگے۔ شارق کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ مزاحیہ صورتحال میں کتنا ماہر ہوتا جا رہا ہے۔
باب پنجم: طلسماتی دربار اور گلو کی انوکھی شرط
شارق کی تقریر ابھی ختم ہی ہوئی تھی کہ بستی کے ماحول میں ایک دم سناٹا چھا گیا۔ قاضی صاحب کی آنکھوں میں واقعی نمی تیر رہی تھی اور مرغی نے بھی شاید پہلی بار خود کو اتنا معتبر محسوس کیا تھا کہ اس نے پر پھیلا کر ایک فاتحانہ "ککڑوں کوں" کہی۔ گلو پہلوان نے اپنا بھاری بھرکم ہاتھ شارق کے کندھے پر مارا، جس سے شارق کے گھٹنے تقریباً چٹخ گئے۔
"اوئے شہر کے چھورے! تو نے تو زبان سے جادو کر دیا،" گلو نے دھاڑتے ہوئے کہا۔ "تیرا کام ہو جائے گا، لیکن ابھی نہیں۔"
اس سے پہلے کہ شارق کچھ پوچھتا، مجمعے کے پیچھے سے ایک لمبا بوق (Big Trumpet) بجنے کی آواز آئی۔ لوگ تیزی سے راستے سے ہٹ گئے اور دو لمبے تڑنگے سپاہی، جنہوں نے لکڑی کی ڈھالیں پکڑ رکھی تھیں، سامنے آئے۔
"اجنبی مسافر! تجھے 'خاموش حویلی' میں طلب کیا گیا ہے،" ایک سپاہی نے سپاٹ لہجے میں کہا۔ "بستی کی بڑی سرکار تیری لفاظی کا امتحان خود لینا چاہتی ہیں۔"
گلو پہلوان کے چہرے پر تھوڑی سنجیدگی آئی۔ اس نے شارق کے کان میں جھک کر سرگوشی کی، "دیکھ میاں، سرکار کے سامنے زبان ذرا سنبھال کے۔ وہاں ہنسی مذاق نہیں چلتا، وہاں صرف وہی بچتا ہے جو ان کے پہیلیوں جیسے سوالوں کا جواب دے سکے۔ اگر تو وہاں سے صحیح سلامت واپس آ گیا، تو میں تیری گاڑی کا انجن ایسا کر دوں گا کہ وہ سڑک پر نہیں، ہوا میں اڑے گی۔"
خاموش حویلی کا دربار
شارق کو ان سپاہیوں کے درمیان ایک ایسی حویلی کی طرف لے جایا گیا جو بستی کے سب سے اونچے ٹیلے پر واقع تھی۔ حویلی کی دیواریں سیاہ پتھروں سے بنی تھیں اور ان پر عجیب و غریب بیل بوٹے تراشے گئے تھے۔ اندر داخل ہوتے ہی ایک عجب سی ٹھنڈک کا احساس ہوا، جیسے باہر کی تپتی دھوپ کا یہاں وجود ہی نہ ہو۔
بڑے ہال کے آخر میں ایک اونچی مسند پر ایک پردہ لٹکا ہوا تھا، جس کے پیچھے سے ایک رعب دار مگر سریلی زنانہ آواز آئی۔
"مسافر! سنا ہے تم لفظوں سے تصویر بناتے ہو؟"
شارق نے ادب سے سر جھکایا، "میں تو صرف حقیقت بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں، عالی جاہ۔"
پردے کے پیچھے سے ایک ہلکی سی ہنسی آئی۔ "حقیقت؟ اس بستی میں حقیقت ایک سراب ہے۔ چلو، ہمیں یہ بتاؤ کہ اگر تمہیں ایک ایسی راہ کا انتخاب کرنا ہو جس کا کوئی انجام نہ ہو، تو کیا تم قدم بڑھاؤ گے؟"
شارق نے چند لمحے سوچا اور پھر بڑے پراعتماد لہجے میں کہا، "منزل تو صرف تھکن کا نام ہے، اصل زندگی تو وہ راستہ ہے جو انسان کو بدل کر رکھ دے۔ اگر انجام معلوم ہو تو سفر مہم جوئی نہیں، صرف ایک ذمہ داری بن جاتا ہے۔"
پردے کے پیچھے خاموشی چھا گئی۔ پھر ایک ہاتھ باہر نکلا، ایک نازک، سفید ہاتھ جس کی انگلیوں میں ایک قدیم انگوٹھی چمک رہی تھی۔ اس نے ایک مہر بند لفافہ سپاہی کو دیا، جو شارق تک پہنچایا گیا۔
"جاؤ مسافر! تمہارا جواب ہمیں پسند آیا۔ یہ لفافہ گلو پہلوان کو دے دینا۔ وہ تمہاری گاڑی ٹھیک کر دے گا، لیکن یاد رکھنا... اس بستی سے نکلنے کا راستہ نقشوں میں نہیں، تمہاری ہمت میں چھپا ہے۔"
گلو پہلوان کی ورکشاپ اور 'شیطانی' کام
شارق حویلی سے باہر نکلا تو اس کا سانس بحال ہوا۔ وہ سیدھا گلو پہلوان کی 'ورکشاپ' پہنچا، جو دراصل ایک پرانا قلعہ نما گیراج تھا۔ وہاں ہر طرف لوہے کے ڈھیر، پرانے ٹائر اور انجن کے پرزے بکھرے ہوئے تھے۔ گلو وہاں اپنی قمیض اتارے، پسینے میں شرابور ایک لوہے کے بڑے سے گاڈر کو موڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔
"اوئے! واپس آ گئے؟" گلو نے حیرت سے پوچھا۔ جب شارق نے اسے وہ لفافہ دیا، تو گلو نے اسے پڑھا اور اس کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ پھیل گئی۔
"اچھا تو یہ بات ہے! سرکار نے تجھے ہری جھنڈی دے دی ہے۔ ٹھیک ہے، میں تیری گاڑی آج رات تک تیار کر دوں گا، لیکن اس سے پہلے تجھے میرے لیے ایک چھوٹا سا 'ایڈونچر' کرنا ہوگا۔"
شارق نے تھک کر ایک پرانے ٹائر پر بیٹھتے ہوئے پوچھا، "اب کیا کرنا ہے؟"
گلو نے ایک بڑا سا زنگ آلود پائپ اٹھایا اور بولا، "اس بستی کے مشرق میں ایک 'اندھی کھائی' ہے۔ وہاں ایک نایاب جڑی بوٹی اگتی ہے جسے 'نیل کنٹھ' کہتے ہیں۔ مجھے اپنے ایک خاص تیل کے لیے اس کا رس چاہیے تاکہ تمہاری گاڑی کے انجن کو وہ طاقت دے سکوں جو پہاڑوں کو بھی چیر دے۔ تمہیں وہاں جانا ہوگا اور وہ پودا لانا ہوگا۔"
"کھائی؟ وہ بھی اندھی؟" شارق نے گھبرا کر پوچھا۔
"ڈر کیوں رہا ہے؟" گلو نے قہقہہ لگایا۔ "بس ایک بات یاد رکھنا، وہاں کچھ سائے تمہیں روکنے کی کوشش کریں گے، اور شاید کچھ ایسی آوازیں سنائی دیں جو تمہیں تمہارے ماضی کی یاد دلائیں گی۔ ان کی طرف مت دیکھنا۔ بس پودا لینا اور پلٹ آنا۔ اگر تو نے یہ کر لیا، تو کل تو اس بستی سے آزاد ہوگا، ورنہ..." گلو نے ہتھوڑا زور سے ایک لوہے پر مارا، "ورنہ تو بھی یہاں کی گھڑیوں کا ایک پرزہ بن جائے گا۔"
شارق نے اپنے بیگ کو کسا، ایک ٹارچ اٹھائی اور اس اندھی کھائی کی طرف چل پڑا، یہ جانے بغیر کہ یہ مہم اسے زندگی اور موت کے ایک ایسے کھیل میں لے جائے گی جہاں عقل جواب دے سکتی ہے۔
باب ششم: اندھی کھائی کا رقص اور وہ مسحور کن اجنبی
سورج پہاڑوں کی اوٹ میں مکمل روپوش ہو چکا تھا اور وادی پر سیاہ چادر تن گئی تھی۔ شارق، گلو پہلوان کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق مشرق کی سمت بڑھ رہا تھا، جہاں زمین اچانک ختم ہو کر ایک گہری، مہیب کھائی میں بدل گئی تھی۔ فضا میں ایک عجیب سی خنکی تھی جو ہڈیوں تک سرایت کر رہی تھی۔
شارق نے اپنی ٹارچ آن کی، جس کی روشنی کی لکیر دھند کو چیرتی ہوئی سامنے پڑی۔ اسے وہ 'نیل کنٹھ' پودا تلاش کرنا تھا، لیکن یہاں تو قدم قدم پر موت کا جال بچھا تھا۔ کھائی کے دہانے پر پہنچ کر اس نے نیچے جھانکا؛ وہ ایک گہرا غار نما گڑھا تھا جہاں سے عجیب سی سرسراہٹ کی آوازیں آ رہی تھیں۔
جنگ اور جدوجہد
جیسے ہی شارق نے رسی کے سہارے نیچے اترنا شروع کیا، اسے احساس ہوا کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔ اچانک، چٹانوں کے پیچھے سے کچھ سائے تیزی سے ابھرے۔ یہ انسان نہیں تھے، بلکہ بڑے قد کے جنگلی چمگادڑ نما جاندار تھے جن کی آنکھیں رات کی تاریکی میں انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں۔
"لگتا ہے گلو نے مجھے کسی مصیبت میں جھونک دیا ہے!" شارق نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
ایک سائے نے اس پر حملہ کیا، مگر شارق نے پھرتی سے پہلو بدلا اور اپنے بیگ سے ایک لوہے کا راڈ نکالا جو اس نے حفاظتی طور پر گلو کے گیراج سے اٹھایا تھا۔ پہلا وار اس کا ہوا میں گیا، مگر دوسرا وار ٹھیک نشانے پر لگا۔ ایک زوردار چیخ بلند ہوئی اور وہ سایہ پیچھے ہٹ گیا۔ شارق اب کسی پیشہ ور لڑاکے کی طرح حرکت کر رہا تھا۔ اس نے چٹانوں کے درمیان چھلانگیں لگائیں، اپنے جسمانی توازن کا بہترین استعمال کیا اور ان جانداروں کو الجھاتے ہوئے اس مقام تک پہنچ گیا جہاں وہ نایاب نیلا پودا چمک رہا تھا۔
اس نے تیزی سے پودا جڑ سے اکھاڑا اور بیگ میں ڈالا، مگر واپسی کا راستہ بند تھا۔ تین سائے اس کا راستہ روکے کھڑے تھے۔ شارق نے ایک گہری سانس لی، اپنی پوری قوت مجتمع کی اور ایک ایسی چھلانگ لگائی جو شاید وہ نارمل زندگی میں کبھی نہ لگا پاتا۔ اس نے چٹان کے ایک ابھرے ہوئے حصے کو پکڑا، اوپر کی طرف کھینچا اور ان سایوں کے پہنچنے سے پہلے ہی رسی کے ذریعے اوپر کی طرف چڑھنا شروع کر دیا۔ اس کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں، بازو جواب دے رہے تھے، مگر زندگی کی تڑپ نے اسے ہارنے نہ دیا۔
ایک پراسرار ملاقات
جب وہ کھائی سے باہر نکلا تو اس کا برا حال تھا۔ پسینے اور مٹی سے اٹا ہوا، وہ ایک چٹان سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ ابھی وہ اپنی سانسیں بحال ہی کر رہا تھا کہ اسے ایک انتہائی دلفریب اور مسحور کن خوشبو کا احساس ہوا۔ یہ کسی عطر کی نہیں، بلکہ پہاڑی پھولوں اور تازگی کی ملی جلی مہک تھی۔
"تمہاری ہمت کی داد دینی پڑے گی، مسافر۔"
شارق نے چونک کر سر اٹھایا۔ سامنے ایک سایہ نہیں، بلکہ ایک جیتی جاگتی تصویر کھڑی تھی۔ چاندنی کی مدھم روشنی میں اس نے ایک دوشیزہ کو دیکھا جس نے گہرے سبز رنگ کا لباس پہن رکھا تھا جو اس کے سراپے پر کسی خواب کی طرح سجا تھا۔ اس کی آنکھیں اتنی گہری اور کالی تھیں کہ شارق کو لگا وہ ان میں ڈوب جائے گا۔ اس کے چہرے کی تراش خراش ایسی تھی جیسے قدرت نے اسے بڑی فرصت میں بنایا ہو۔
"آپ... آپ کون ہیں؟" شارق کی زبان نے ساتھ چھوڑ دیا۔
وہ لڑکی دھیرے سے مسکرائی، اور اس کی مسکراہٹ نے وادی کی تمام تر ہولناکی کو ختم کر دیا۔ "میں اس وادی کا وہ حصہ ہوں جسے لوگ دیکھنا چاہتے ہیں مگر دیکھ نہیں پاتے۔ میرا نام 'زمل' ہے۔"
زمل نے اپنا ہاتھ شارق کی طرف بڑھایا۔ اس کے ہاتھ کی نزاکت اور سفیدی دیکھ کر شارق ایک لمحے کے لیے ہچکچایا، مگر پھر اس نے اپنا مٹی سے اٹا ہوا ہاتھ اس کے نرم ہاتھ میں دے دیا۔ جیسے ہی دونوں کے لمس کا ملاپ ہوا، شارق کے پورے جسم میں ایک بجلی سی دوڑ گئی۔ یہ وہ احساس تھا جو اس نے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔
"تمہاری چوٹ سے خون بہ رہا ہے،" زمل نے تشویش سے کہا اور اپنے دوپٹے کا ایک ٹکڑا پھاڑ کر شارق کے ہاتھ پر لپیٹنے لگی۔ وہ اتنی قریب تھی کہ شارق اس کی سانسوں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس کر رہا تھا۔ اس لمحے، نہ اسے اپنی خراب گاڑی کی فکر تھی، نہ گلو پہلوان کی شرط کی، اور نہ ہی بستی کے پاگل پن کی۔ اسے بس یہ لگ رہا تھا کہ یہ کائنات اسی ایک لمحے کے لیے بنی تھی۔
"تم یہاں اکیلی کیا کر رہی ہو؟" شارق نے دھیمی آواز میں پوچھا۔
زمل نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا، ایک ایسی نظر جس میں ہزاروں ان کہی داستانیں تھیں۔ "میں تمہارا انتظار کر رہی تھی۔ کیونکہ 'وادیِ گمشدہ' سے باہر وہی جا سکتا ہے جس کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہ ہو... یا جسے کوئی روکنے والا مل جائے۔"
اس نے شارق کو ایک چھوٹا سا پتھر دیا جو نیلم کی طرح چمک رہا تھا۔ "اسے اپنے پاس رکھو۔ یہ تمہیں راستہ دکھائے گا جب تمہاری آنکھیں دھوکہ دینے لگیں۔"
اس سے پہلے کہ شارق کچھ اور پوچھ پاتا، زمل ایک ہلکے قہقہے کے ساتھ پیچھے ہٹی اور دھند میں اس طرح غائب ہو گئی جیسے وہ کوئی سراب ہو۔ شارق وہیں کھڑا رہ گیا، اس کے ہاتھ پر بندھا ہوا وہ ریشمی ٹکڑا اور اس کی خوشبو اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ وہ کوئی خواب نہیں تھا۔
وہ بستی کی طرف واپس تو چل پڑا، مگر اب اس کا دل اس کے سینے میں نہیں، بلکہ اس دھند میں کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔
باب ہفتم: گلو کی فنکاری اور یادوں کا جال
گلو پہلوان اپنی ورکشاپ کے باہر ایک لکڑی کے تخت پر بیٹھا، حقے کے کش لگا رہا تھا اور آسمان پر ستارے گننے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ جیسے ہی اس نے شارق کو دھول مٹی میں اٹا ہوا اور ہاتھ پر پٹی باندھے دیکھا، اس نے ایک زوردار قہقہہ لگایا جو پوری خاموش گلی میں گونج اٹھا۔
"اوئے ہوئے! تو تو واقعی کسی جنگ سے واپس آیا ہے۔ کیا ہوا؟ کسی پہاڑی بھوت نے تیرا استقبال کیا یا خود اپنے ہی سائے سے ڈر کر گر گیا؟" گلو نے طنزیہ نظروں سے شارق کو دیکھتے ہوئے کہا۔
شارق نے بغیر کوئی جواب دیے بیگ سے وہ 'نیل کنٹھ' پودا نکالا اور گلو کے سامنے پٹخ دیا۔ "یہ لو اپنا پودا، اور اب میری گاڑی ٹھیک کرو۔ میرا اس بستی میں دم گھٹ رہا ہے۔"
گلو نے پودے کو اٹھایا، اسے سونگھا اور اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ "واہ! میاں مان گئے تمہیں، تو تو بڑا چھپا رستم نکلا۔ لیکن یہ کیا؟" گلو کی نظر شارق کے ہاتھ پر بندھی اس ہری پٹی پر پڑی۔ اس نے شارق کا ہاتھ جھٹکے سے پکڑا اور اس پٹی کو غور سے دیکھنے لگا۔
گلو کے چہرے سے ہنسی ایک دم غائب ہو گئی اور وہاں سنجیدگی کے گہرے بادل چھا گئے۔ "یہ پٹی... یہ ریشم کہاں سے آیا؟"
شارق نے اپنا ہاتھ چھڑایا اور تھوڑا ہچکچاتے ہوئے بولا، "وہ... وہاں ایک لڑکی ملی تھی۔ اس نے میری چوٹ دیکھی تو یہ پٹی باندھ دی۔"
گلو نے ایک لمبی آہ بھری اور دوبارہ حقے کا کش لیا۔ "لڑکی؟ میاں، اس اندھی کھائی کے پاس برسوں سے کسی انسان نے قدم نہیں رکھا۔ اگر تجھے وہاں کوئی ملی ہے، تو یا تو تیرا دماغ چل گیا ہے، یا پھر تو نے بستی کی اس 'ہوا' کو دیکھ لیا ہے جسے ہم سب 'خوابِ غفلت' کہتے ہیں۔ خیر، اسے بھول جا۔ یہاں جو چیز خوبصورت لگتی ہے، وہ اکثر سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔"
گاڑی کی مرمت اور گلو کا 'جادو'
گلو نے شارق کو ایک طرف ہٹنے کا اشارہ کیا اور اپنی 'ورکشاپ' کے اندر لے گیا۔ وہاں اس کی جیپ ایک بڑے سے جک (Jack) پر چڑھی ہوئی تھی، جیسے کسی مریض کا آپریشن ہونے والا ہو۔ گلو نے اس نیلے پودے کو ایک بڑے سے برتن میں کچلا، اس میں کچھ کالا تیل ملایا اور ایک عجیب سی کڑاہی میں اسے جوش دینے لگا۔
"دیکھ میاں شارق! شہر کے مکینک صرف پرزے بدلتے ہیں، گلو پہلوان انجن کی روح بدلتا ہے،" اس نے فخر سے کہا۔
اگلے دو گھنٹے تک گلو نے وہ تماشہ دکھایا کہ شارق کی عقل دنگ رہ گئی۔ گلو نے انجن کے اندر وہ جوشاندہ ڈالا، کچھ تاروں کو آپس میں اس طرح جوڑا کہ چنگاریاں نکلنے لگیں، اور پھر ایک بڑا سا ہتھوڑا اٹھا کر انجن کے بلاک پر ایک خاص تال میں ضربیں لگانے لگا۔ ہر ضرب کے ساتھ گاڑی سے ایک مدھم سی موسیقی جیسی آواز نکل رہی تھی۔
"اب مار سلف!" گلو نے پسینہ پونچھتے ہوئے حکم دیا۔
شارق نے جیسے ہی چابی گھمائی، گاڑی کا انجن کسی شیر کی طرح دھڑا۔ آواز اتنی ہموار اور طاقتور تھی کہ شارق کو یقین نہیں آیا کہ یہ وہی پرانی جیپ ہے۔ مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ ہیڈ لائٹس سے نکلنے والی روشنی اب عام سفید نہیں، بلکہ ہلکی سی نیلاہٹ مائل تھی، بالکل اس پودے کی طرح۔
"گاڑی تو تیار ہے مسافر،" گلو نے ایک پراسرار مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ "لیکن اب ایک آخری مسئلہ ہے۔ رات کے اس پہر بستی کا صدر دروازہ بند ہو چکا ہے اور اسے کھولنے کی چابی 'قاضی صاحب' کے تکیے کے نیچے ہوتی ہے۔ اور قاضی صاحب کی نیند ایسی ہے کہ اگر پاس سے توپ بھی چل جائے تو وہ نہیں جاگتے۔"
شارق نے ماتھا پیٹ لیا۔ "تو اب کیا کروں؟"
گلو نے آنکھ ماری۔ "تجھے چوری کرنی ہوگی۔ قاضی کے کمرے میں گھسنا ہوگا، وہ چابی نکالنی ہوگی اور پھر چپکے سے نکلنا ہوگا۔ اگر پکڑے گئے، تو قاضی تجھے اپنی مرغی کا مستقل خادم بنا دے گا۔ اور ہاں، وہ ہری پٹی چھپا کر رکھنا... اگر کسی اور نے دیکھ لی تو بستی میں طوفان آ جائے گا۔"
شارق اب ایک نئے امتحان میں تھا۔ اسے قاضی کے گھر میں نقب لگانی تھی، جبکہ اس کے ذہن میں بار بار زمل کا چہرہ اور اس کی وہ بات گردش کر رہی تھی: "یہاں سے وہی جا سکتا ہے جسے کوئی روکنے والا مل جائے۔"
کیا وہ واقعی جانا چاہتا تھا؟ یا اس بستی کا جادو اسے جکڑ رہا تھا؟
باب ہشتم: قاضی کی نیند اور مرغی کی پہرے داری
شارق خاموشی سے قاضی صاحب کی حویلی کی دیوار کے ساتھ لگا کھڑا تھا۔ رات کا پچھلا پہر تھا اور بستی کے کتے بھی شاید بور ہو کر سو چکے تھے۔ گلو پہلوان نے اسے ایک چھوٹا سا آلہ دیا تھا جسے وہ 'خراٹا پیما' (Snore Meter) کہتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ جب قاضی کے خراٹوں کی آواز اس آلے پر لال نشان تک پہنچ جائے، تو سمجھ لینا کہ اب وہ گہری نیند میں ہے۔
"یا خدا! کہاں میں ایک پڑھا لکھا شہری، اور کہاں آج ایک مرغی باز قاضی کے گھر میں چابی چوری کر رہا ہوں،" شارق نے بڑبڑاتے ہوئے دیوار پر کمند ڈالی۔
وہ کسی طرح گھسیٹ کر اوپر چڑھا اور دوسری طرف چھلانگ لگائی۔ وہ سیدھا ایک گھاس کے ڈھیر پر گرا جہاں سے ایک دم 'کیں کیں' کی آواز آئی۔ شارق کا دل حلق میں آ گیا، مگر خوش قسمتی سے وہ صرف ایک پرانا ربڑ کا کھلونا تھا جو شاید قاضی صاحب نے اپنی مرغی کے دل بہلاوے کے لیے رکھا تھا۔
قاضی کا کمرہ اور خراٹوں کا طوفان
شارق رینگتے ہوئے قاضی صاحب کے بیڈروم تک پہنچا۔ اندر کا منظر دیکھ کر اس کی ہنسی چھوٹتے چھوٹتے رہ گئی۔ قاضی صاحب بیڈ پر چت لیٹے ہوئے تھے، ان کے پیٹ پر ایک بڑی سی پیتل کی تھالی رکھی تھی (شاید بدہضمی سے بچنے کا کوئی مقامی طریقہ تھا) اور ان کے سرہانے وہی 'شاہی مرغی' ایک چھوٹے سے تکیے پر سر رکھ کر سو رہی تھی!
قاضی صاحب کا ہر خراٹا کسی پرانے سٹیم انجن کی سیٹی جیسا تھا۔
"خرااااااا۔۔۔ پخ! خرااااااا۔۔۔ پخ!"
شارق نے جوں ہی بیڈ کی طرف قدم بڑھایا، فرش پر موجود ایک پرانے لکڑی کے تختے نے 'چخخخخ' کی آواز نکالی۔ مرغی نے فورا ایک آنکھ کھولی اور شارق کو مشکوک نظروں سے دیکھا۔ شارق وہیں جم گیا اور ایک دم سے 'مرغی بننے' کی ایکٹنگ کرنے لگا، اس امید میں کہ شاید اندھیرے میں یہ پرندہ اسے اپنا رشتہ دار سمجھ لے۔
مرغی نے کچھ دیر اسے دیکھا، پھر ایک لمبی جمائی لی اور دوبارہ آنکھیں موند لیں۔ شارق نے سکھ کا سانس لیا۔ اب اصل ٹاسک شروع ہوا۔ اسے قاضی کے سر کے نیچے سے وہ بھاری بھرکم چاندی کی چابی نکالنی تھی جو ایک موٹی زنجیر سے بندھی تھی۔
چابی کی چوری اور مضحکہ خیز حادثہ
شارق نے آہستہ سے اپنا ہاتھ قاضی کے تکیے کے نیچے سرکایا۔ قاضی صاحب نے نیند میں کچھ بڑبڑایا، "نہیں۔۔۔ مرغی کو میک اپ نہیں، مسالہ لگاؤ۔۔۔"
شارق کے پسینے چھوٹ گئے۔ اس نے جیسے ہی چابی کو چھوا، قاضی نے کروٹ بدلی اور شارق کا ہاتھ ان کی لمبی اور گھنی داڑھی میں بری طرح پھنس گیا۔ اب صورتحال یہ تھی کہ شارق ہلتا تھا تو داڑھی کھینچتی تھی اور قاضی کے ماتھے پر بل پڑ جاتے تھے۔
اسی دوران، مرغی نے اچانک ککڑوں کوں کرنے کے لیے منہ کھولا، مگر شارق نے پھرتی سے اپنا دوسرا ہاتھ مرغی کے منہ پر رکھ دیا۔ اب شارق کا ایک ہاتھ قاضی کی داڑھی میں قید تھا اور دوسرا مرغی کے ٹھونگے روک رہا تھا۔
"تیری تو۔۔۔" شارق نے دانت پیستے ہوئے دل میں کہا۔ اس نے انتہائی مہارت سے اپنی جیب سے ایک چھوٹی قینچی نکالی (جو گلو نے دی تھی) اور داڑھی کے چند بال انتہائی صفائی سے کاٹ کر اپنا ہاتھ آزاد کرایا۔ پھر اس نے چابی نکالی اور اس کی جگہ ایک ویسا ہی وزنی 'لوہے کا تالا' رکھ دیا تاکہ قاضی کو وزن کی کمی محسوس نہ ہو۔
جوں ہی وہ کھڑکی کی طرف بھاگا، اس کا پاؤں اس پیتل کی تھالی سے ٹکرایا جو قاضی کے پیٹ پر تھی۔ تھالی فرش پر گری اور پورے گھر میں ایک زوردار 'ٹننننننننن' کی آواز گونج اٹھی۔
"چور! ڈاکو! مرغی چور!" قاضی صاحب ہڑبڑا کر اٹھے۔
شارق نے ایک سیکنڈ ضائع کیے بغیر کھڑکی سے باہر چھلانگ لگائی۔ پیچھے سے مرغی کے چیخنے اور قاضی کے گالیوں بھرے شور کی آوازیں آ رہی تھیں۔ وہ بھاگتا ہوا دیوار پھاند کر گلی میں آیا جہاں گلو پہلوان جیپ اسٹارٹ کیے کھڑا تھا۔
"اوئے پاگل! جلدی بیٹھ!" گلو نے چلایا۔
شارق اچھل کر جیپ میں بیٹھا۔ گلو نے گیئر ڈالا اور گاڑی ایک نیلے دھوئیں کے بادل کے ساتھ گلیوں میں دوڑنے لگی۔ پیچھے سے بستی کے لوگ اپنی لٹھیاں اور لالٹینیں لے کر باہر نکل آئے تھے، مگر گلو کی 'جادوئی گاڑی' کی رفتار کے سامنے سب بے بس تھے۔
جیسے ہی وہ بستی کے بڑے پھاٹک کے قریب پہنچے، شارق نے وہ بھاری چابی باہر پھینکی۔ پھاٹک ایک زوردار آواز کے ساتھ کھلا اور جیپ فراٹے بھرتی ہوئی 'وادیِ گمشدہ' کی حدود سے باہر نکل گئی۔
شارق نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ بستی کی روشنیاں دھندھلی ہو رہی تھیں، مگر پہاڑی کی چوٹی پر اسے ایک ہریالی سی روشنی نظر آئی۔ اسے یقین تھا کہ وہ 'زمل' تھی جو اسے رخصت کر رہی تھی۔
"اب ہم کہاں جا رہے ہیں؟" شارق نے ہانپتے ہوئے پوچھا۔
گلو نے ایک پراسرار مسکراہٹ کے ساتھ اسٹیئرنگ گھمایا، "ابھی تو سفر شروع ہوا ہے میاں۔ اس بستی سے باہر کی دنیا تمہارے شہر جیسی نہیں ہے۔ اب ہم 'عشقِ لاحاصل' کے میدانوں کی طرف جا رہے ہیں، جہاں تمہارا انتظار کوئی اور کر رہا ہے۔"
شارق کو محسوس ہوا کہ اس کے بیگ میں رکھا وہ نیلم کا پتھر اب گرم ہو رہا تھا۔
باب نہم: نارمل دنیا کا غیر نارمل استقبال
تقریباً دو گھنٹے کی مسلسل ڈرائیونگ کے بعد، پہاڑوں کا وہ طلسماتی سلسلہ پیچھے رہ گیا تھا۔ سڑک اب ہموار تھی اور دور کہیں دور شہر کی پیلی روشنیاں نظر آنے لگی تھیں۔ گلو پہلوان بستی کی سرحد پر ہی یہ کہہ کر اتر گیا تھا کہ "میری دنیا وہیں تک ہے، اس سے آگے کی دنیا تیرے لیے ہے مسافر!"
شارق اب اکیلا تھا، اس کی جیپ کا انجن اب بھی اسی نیلی چمک کے ساتھ ایک مدھم سی موسیقی پیدا کر رہا تھا۔ اس نے ایک گہری سانس لی۔ سامنے ایک چھوٹا سا قصبہ تھا، جہاں کی سڑکیں سنسان تھیں اور اسٹریٹ لائٹس تھک کر ٹمٹما رہی تھیں۔ رات کے تین بج رہے تھے۔ شارق کی آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں اور اسے ہر صورت ایک بستر کی ضرورت تھی۔
قصبے کے بیچوں بیچ اسے ایک پرانا سا بورڈ نظر آیا: "الشباب ہوٹل اینڈ لاج—سستی رہائش، میٹھی نیند۔"
شارق نے گاڑی روکی اور ہوٹل کے گیٹ پر پہنچا۔ گیٹ آدھا کھلا تھا، جیسے آنے والے کا نہیں بلکہ جانے والے کا انتظار کر رہا ہو۔ اندر داخل ہوتے ہی ایک مخصوص 'سیلن' اور 'پرانے قالین' کی بو نے اس کا استقبال کیا۔ ریسیپشن پر ایک بوڑھا پنکھا چوں چوں کرتا ہوا اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا، اور اس کے عین نیچے، کاؤنٹر پر ایک صاحب سر رکھے ہوئے ایسے خراٹے مار رہے تھے جیسے پورے قصبے کو جگانے کا ارادہ ہو۔
شارق نے کاؤنٹر پر ہاتھ مارا، "ہیلو! کوئی ہے؟"
ریسیپشنسٹ کی نیند میں کوئی خلل نہ پڑا، بلکہ اس نے سوتے میں ہی اپنا ہاتھ بڑھا کر ایک مکھی اڑانے کی کوشش کی جو اس کی ناک پر بیٹھی ہوئی تھی۔
شارق نے دوبارہ زور سے ڈیسک بجائی۔ "بھائی صاحب! کمرہ چاہیے!"
اس بار ریسیپشنسٹ ہڑبڑا کر اٹھا، اس کا چشمہ ٹیڑھا ہو گیا تھا اور منہ سے رال ٹپک رہی تھی۔ اس نے اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھوں سے شارق کو ایسے دیکھا جیسے وہ کوئی دوسرے سیارے کی مخلوق ہو۔
"کون؟ کہاں؟ کیا؟" اس نے بدحواسی میں پوچھا۔
"کمرہ چاہیے، ایک رات کے لیے،" شارق نے جھنجھلا کر کہا۔
ریسیپشنسٹ نے ایک لمبی جمائی لی، اپنے بال نوچے اور پھر ایک بھاری بھرکم رجسٹر شارق کے سامنے پٹخ دیا۔ "بھائی صاحب، اس وقت تو جنات بھی سو جاتے ہیں، آپ کو کمرہ سوجھ رہا ہے۔ نام کیا ہے؟"
"شارق۔"
"شارق۔۔۔ ہمم۔" اس نے رجسٹر میں کچھ لکیریں ماریں، جیسے وہ شارق کا نام نہیں بلکہ نقشہ بنا رہا ہو۔ "کمرہ نمبر 204 مل جائے گا، لیکن لفٹ خراب ہے، گیزر بھی نخرے کرتا ہے، اور اگر رات کو دیواروں سے کوئی آواز آئے تو گھبرانا نہیں، پڑوس میں ایک صاحب کو نیند میں تقریر کرنے کی عادت ہے۔"
شارق نے چابی اٹھائی اور تھکاوٹ بھرے لہجے میں پوچھا، "اور پانی؟"
ریسیپشنسٹ نے ایک گہرا کش لیا (جو شاید وہ خواب میں لگا رہا تھا) اور بولا، "پانی بالٹی میں آئے گا، اور وہ بھی تب جب پمپ صاحب کا موڈ ہوگا۔ ابھی آپ جائیں، مجھے دوبارہ وہیں سے خواب شروع کرنا ہے جہاں آپ نے توڑا تھا۔"
شارق اپنی بھاری بھرکم چابی لے کر سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔ سیڑھیاں اتنی تنگ تھیں کہ اس کا بیگ بار بار دیواروں سے ٹکرا رہا تھا۔ کمرہ نمبر 204 کا دروازہ کھولا تو اندر کی حالت دیکھ کر اسے ہنسی آ گئی۔ کمرہ اتنا چھوٹا تھا کہ اگر وہ سیدھا لیٹتا تو اس کے پاؤں دروازے سے باہر نکل سکتے تھے۔
اس نے اپنا بیگ ایک طرف پھینکا اور سیدھا بستر پر گر گیا۔ بستر اتنا سخت تھا جیسے اسے لکڑی کے تختوں پر کپڑا بچھا کر بنایا گیا ہو۔ مگر اس وقت اسے تاج محل کا بستر بھی ایسا ہی لگتا۔
اس نے آنکھیں موند لیں، مگر اس کے بند پپوٹوں کے پیچھے اب بھی زمل کا وہ چہرہ، وہ نیلی روشنی اور گلو پہلوان کے قہقہے رقص کر رہے تھے۔ اسے محسوس ہوا کہ 'نارمل' دنیا میں واپسی کے باوجود اس کا سفر اب کسی ایسی سمت مڑنے والا ہے جہاں جذبات کی شدت اس کی عقل کو مفلوج کر دے گی۔
"کل کا دن۔۔۔" اس نے سوتے سوتے سوچا، "کل کا دن کچھ نیا لے کر آئے گا۔"
باب دہم: راہداری کی ٹکر اور دو مسافر
اگلی صبح جب شارق کی آنکھ کھلی تو کمرے کی چھت پر لگا پنکھا اب بھی اسی سست رفتاری سے گھوم رہا تھا جیسے وہ کسی گہری سوچ میں ہو۔ شارق کا پورا جسم ٹوٹ رہا تھا، مگر وادیِ گمشدہ کی یادیں اور وہ نیلا پتھر جو اب بھی اس کے سرہانے چمک رہا تھا، اسے یہ باور کرا رہے تھے کہ وہ سب کوئی خواب نہیں تھا۔
اس نے نہانے کی کوشش کی، مگر جیسا کہ ریسیپشنسٹ نے ڈرایا تھا، پانی کا پریشر ایسا تھا جیسے کوئی نلکے سے قطرہ قطرہ نچوڑ رہا ہو۔ بہرحال، کسی نہ کسی طرح خود کو تازہ دم کر کے وہ اپنا بیگ کندھے پر ڈالے کمرے سے باہر نکلا۔
راہداری تنگ تھی اور وہاں کی روشنی مدھم۔ شارق ابھی تیزی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھ ہی رہا تھا کہ اچانک موڑ پر ایک زوردار 'ٹکر' ہوئی۔
"اوہ!" ایک نسائی آواز ابھری۔
شارق سنبھل نہ پایا اور اس کا بیگ سامنے والے شخص کے ہاتھوں میں موجود چند نقشوں اور کاغذات سے جا ٹکرایا۔ وہ تمام کاغذات فرش پر بکھر گئے اور وہ لڑکی پیچھے ہٹ کر گرتے گرتے بچی۔
"دیکھ کر نہیں چل سکتے؟ کیا یہ راہداری آپ کے والد صاحب کی جاگیر ہے؟" اس لڑکی نے چڑچڑے پن سے کہا، مگر اس کی آواز میں ایک ایسی کھنک تھی جو شارق کے کانوں کو بھلی لگی۔
شارق نے جھک کر کاغذات اٹھاتے ہوئے معذرت چاہی، "آئی ایم سوری، میں ذرا جلدی میں تھا۔۔۔"
جیسے ہی اس نے سر اٹھایا، اس کی نظریں اس لڑکی پر جم گئیں۔ وہ کوئی عام سیاح نہیں لگ رہی تھی۔ اس نے خاکستری رنگ کی کارگو پینٹ اور ایک سیاہ جیکٹ پہن رکھی تھی، بال بے ترتیبی سے ایک پونی میں بندھے تھے اور اس کی آنکھوں پر چڑھا ہوا چشمہ اس کی ذہانت کا پتا دے رہا تھا۔ اس کے چہرے پر تھکن تو تھی، مگر ایک ایسی چمک بھی تھی جو صرف ان لوگوں میں ہوتی ہے جو خطرات سے کھیلنا جانتے ہوں۔
"صرف جلدی میں تھے یا آنکھیں کمرے میں چھوڑ آئے تھے؟" اس نے اپنے نقشے جھپٹتے ہوئے کہا۔
شارق نے مسکرا کر اسے دیکھا، "میرا خیال ہے ہم دونوں ہی تھکے ہوئے ہیں۔ ویسے، ان نقشوں میں آپ کیا تلاش کر رہی ہیں؟ اس قصبے میں تو سونے کے سوا کچھ نہیں ملتا۔"
لڑکی نے شارق کو اوپر سے نیچے تک دیکھا، اس کی نظر شارق کے جوتوں پر پڑی جو اب بھی وادیِ گمشدہ کی مٹی سے اٹی ہوئی تھی، اور پھر اس کی جیپ کی چابی پر جس کا چھلا (Keychain) گلو پہلوان نے خود بنایا تھا۔
"میں وہ تلاش کر رہی ہوں جو عام لوگوں کو نظر نہیں آتا،" اس نے پراسرار لہجے میں کہا۔ "میرا نام 'ماہم' ہے۔ اور میری بدقسمتی کہ میری گاڑی کا ریڈی ایٹر اس منحوس قصبے کے باہر جواب دے گیا ہے، ورنہ اب تک میں اس خستہ حال ہوٹل سے کوسوں دور ہوتی۔"
شارق کی آنکھوں میں چمک آگئی۔ "گاڑی خراب ہے؟ اگر آپ کو ایک 'ایکسپرٹ' کی ضرورت ہے، تو آپ کا سامنا ٹھیک بندے سے ہوا ہے۔ میں ابھی ابھی ایک ایسی جگہ سے ہو کر آ رہا ہوں جہاں گاڑیوں کو پودوں کے رس سے ٹھیک کیا جاتا ہے۔"
ماہم نے ایک بھنو اچکائی، "واقعی؟ آپ مکینک ہیں یا صرف باتیں بنانا جانتے ہیں؟"
"چل کر خود دیکھ لیں،" شارق نے اعتماد سے کہا۔
ایکشن اور دوستی کا آغاز
وہ دونوں ہوٹل کے باہر آئے۔ وہاں ایک سرخ رنگ کی پرانی مگر مضبوط آف روڈر گاڑی کھڑی تھی جس کے بونٹ سے اب بھی ہلکا دھواں نکل رہا تھا۔ شارق نے اپنی آستینیں اوپر چڑھائیں اور گاڑی کا معائنہ شروع کیا۔ ماہم ہاتھ باندھے کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔
"آپ کا واٹر پمپ جام ہو گیا ہے،" شارق نے انجن کے اندر ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا۔ "لیکن پریشان نہ ہوں، میرے پاس گلو پہلوان کا دیا ہوا ایک خاص 'ٹول کٹ' ہے جو ایسے کاموں کے لیے جادو کا اثر رکھتا ہے۔"
شارق نے مہارت سے کام شروع کیا۔ اس دوران ماہم نے اسے اپنے ایڈونچرز کے بارے میں بتایا۔ وہ پچھلے تین مہینوں سے اکیلی سفر کر رہی تھی، اس نے ریگستانوں کی خاک چھانی تھی اور قدیم غاروں میں راتیں گزاری تھیں۔ شارق حیران تھا کہ ایک لڑکی اتنی نڈر کیسے ہو سکتی ہے۔
آدھے گھنٹے کی محنت کے بعد شارق نے ایک پیچ کسا اور بولا، "اوکے، اب اسٹارٹ کریں۔"
ماہم نے چابی گھمائی اور گاڑی ایک ہی سلف میں اسٹارٹ ہو گئی۔ اس کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ آئی۔ "ناٹ بیڈ، مسٹر شارق! آپ تو واقعی کام کے آدمی نکلے۔"
"تو اب آپ کا ارادہ کیا ہے؟" شارق نے پوچھا۔
ماہم نے نقشہ پھیلا کر ایک مقام پر انگلی رکھی۔ "میں 'وادیِ سکوت' کی طرف جا رہی ہوں، سنا ہے وہاں رات کو ستارے زمین پر اترتے ہیں۔"
شارق نے چونک کر دیکھا۔ یہ وہی سمت تھی جس کا ذکر گلو نے کیا تھا۔ "عجیب اتفاق ہے، میری منزل بھی وہی ہے۔ اگر آپ کو اعتراض نہ ہو، تو کیا ہم یہ سفر ایک ساتھ کر سکتے ہیں؟ دو مہم جو ایک راستے پر، تو ایڈونچر کا مزہ دوبالا ہو جائے گا۔"
ماہم نے کچھ دیر سوچا، پھر شارق کی آنکھوں میں دیکھ کر شرارت سے بولی، "ٹھیک ہے، لیکن ایک شرط پر۔ ریس لگے گی! جو پہلے وہاں پہنچا، وہ دوسرے کو رات کا کھانا کھلائے گا۔"
اس سے پہلے کہ شارق کچھ کہتا، ماہم اپنی گاڑی میں بیٹھی اور ایک دم سے مٹی اڑاتی ہوئی سڑک پر نکل گئی۔ شارق ہنسا، اپنی نیلی روشنی والی جیپ میں بیٹھا اور اس کا پیچھا شروع کر دیا۔
اب وہ اکیلا نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ایک ایسی لڑکی تھی جو بالکل اس کے جیسی پاگل اور مہم جو تھی۔
گیارہواں باب: سنگلاخ راستوں کی دھوپ
سفر کی ابتدا
قصبے کی حدود ختم ہوتے ہی سڑک نے اپنا رنگ بدل لیا تھا۔ اب چاروں طرف کچے راستے، بلند و بالا چٹانیں اور خشک جھاڑیاں تھیں جو ہوا کے تھپیڑوں سے سرسرا رہی تھیں۔ شارق کی جیپ ماہم کی سرخ آف روڈر کے بالکل پیچھے تھی، اور وہ دونوں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے انجن کی پوری قوت استعمال کر رہے تھے۔ گرد و غبار کا ایک طوفان تھا جو ان کی گاڑیوں کے پیچھے اٹھ رہا تھا۔
شارق نے گاڑی کے شیشے چڑھائے ہوئے تھے، مگر اس کے ذہن میں بار بار ماہم کا وہ چہرہ گھوم رہا تھا جو اس صبح اسے ہوٹل کی راہداری میں نظر آیا تھا۔ وہ ایک ایسی پہیلی لگ رہی تھی جسے بوجھنا شارق کے لیے ضروری ہو گیا تھا۔ سفر جاری تھا کہ اچانک سامنے والے راستے پر چٹانیں کھسکنے کی وجہ سے راستہ بند ملا۔ ماہم نے ایک دم بریک ماری اور شارق نے بھی اپنی جیپ اس کے برابر میں لا کھڑی کی۔
ایک ناگہانی رکاوٹ
وہ دونوں گاڑیوں سے باہر نکلے۔ سامنے پہاڑ کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ کر گر چکا تھا، جس نے آگے جانے والی واحد پگڈنڈی کو مسدود کر دیا تھا۔ سورج اب سر پر تھا اور تپش بڑھتی جا رہی تھی۔
"اب کیا خیال ہے؟" ماہم نے ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے پوچھا۔ اس کی جیکٹ اب اس کے کندھوں پر لٹک رہی تھی اور سفید رنگ کی ٹی شرٹ گرد سے اٹی ہوئی تھی۔
شارق نے ارد گرد کا جائزہ لیا۔ "یہاں سے گاڑی نہیں گزر سکتی، لیکن اگر ہم ان چٹانوں کے پیچھے سے پیدل نکلیں تو شاید کوئی راستہ مل جائے۔ دوسری طرف ایک پرانی بستی کے آثار ہیں، وہیں کہیں ہمیں پناہ مل سکتی ہے۔"
ماہم نے اثبات میں سر ہلایا۔ انہوں نے اپنی گاڑیوں کو ایک محفوظ جگہ پر پارک کیا، ضروری سامان بیگ میں ڈالا اور اس خطرناک مہم پر روانہ ہو گئے۔ چٹانوں پر چڑھنا کوئی آسان کام نہ تھا، پتھر نوکیلے تھے اور پاؤں بار بار پھسل رہے تھے۔ ایک مقام پر ماہم کا توازن بگڑا اور وہ پیچھے کی طرف گرنے لگی، مگر شارق نے لپک کر اسے کمر سے تھام لیا۔
جذبوں کی تپش
اس لمحے وقت جیسے تھم گیا۔ ماہم کی سانسیں تیز تھیں اور وہ شارق کے بازوؤں میں قید تھی۔ دونوں کی نظریں ملیں تو ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ شارق کو اپنے ہاتھوں تلے ماہم کے جسم کی حرارت اور اس کے دل کی دھڑکن صاف محسوس ہو رہی تھی۔ ماہم نے اپنی نظریں جھکائیں، مگر اس نے خود کو شارق کی گرفت سے چھڑانے میں جلدی نہیں کی۔
"شکریہ..." اس نے دھیمی آواز میں کہا۔
شارق نے اسے سہارا دے کر کھڑا کیا، مگر اس کی انگلیوں کا لمس اب بھی ماہم کی جلد پر نقش تھا۔ وہ دونوں خاموشی سے آگے بڑھتے رہے، مگر اب اس خاموشی میں ایک ایسی تپش تھی جو دوپہر کی دھوپ سے کہیں زیادہ شدید تھی۔
ویران بستی کا ٹھکانہ
کئی مِنٹوں کی تھکا دینے والی مسافت کے بعد وہ ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں پرانی مٹی کے بنے ہوئے چند کمرے نظر آئے۔ یہ شاید کبھی چرواہوں کی پناہ گاہ رہی ہوگی۔ شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور آسمان پر لالی پھیل رہی تھی۔
"آج رات ہمیں یہیں رکنا ہوگا،" شارق نے ایک بوسیدہ کمرے کی طرف اشارہ کیا جس کی چھت ابھی سلامت تھی۔
انہوں نے اندر لکڑیاں جمع کیں اور آگ جلائی۔ آگ کے شعلے دیواروں پر ان کے سائے ناچنے پر مجبور کر رہے تھے۔ باہر ٹھنڈی ہوا چلنا شروع ہو گئی تھی، مگر کمرے کے اندر آگ کی حدت اور ان دونوں کی موجودگی نے ماحول کو بوجھل بنا دیا تھا۔
ماہم آگ کے پاس بیٹھی اپنے پیروں کی مالش کر رہی تھی، اس کے چہرے پر تھکن کے باوجود ایک بلا کی کشش تھی۔ شارق نے اپنے بیگ سے پانی کی بوتل نکالی اور اسے پیش کی۔ پانی پیتے ہوئے چند قطرے اس کی گردن پر گرے اور شارق کی نظریں بے اختیار وہاں رک گئیں۔
"تم اس طرح مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟" ماہم نے بوتل نیچے رکھتے ہوئے براہِ راست اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
شارق کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ صرف اتنا جانتا تھا کہ اس ویرانے میں، جہاں دور دور تک کوئی دوسرا انسان نہیں تھا، اسے ماہم کے قریب ہونے کی ایک ایسی شدید خواہش محسوس ہو رہی تھی جو تمام اخلاقی حدوں کو چیلنج کر رہی تھی۔ وہ دھیرے سے اس کی طرف بڑھا، یہاں تک کہ ان کے درمیان صرف چند انچ کا فاصلہ رہ گیا۔
آگ کے شعلوں کی روشنی میں ماہم کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی، بلکہ اس کے وجود سے نکلنے والی تڑپ شارق کو دعوت دے رہی تھی۔
بارہواں باب: آتشِ شب
سکوتِ شب کا جادو
کمرے کے درمیان لگی آگ اب پوری آب و تاب سے جل رہی تھی، اور لکڑیوں کے چٹخنے کی آواز اس گہری خاموشی میں واحد شور تھی۔ باہر پہاڑوں کی برفیلی ہواؤں نے سیٹیاں بجانی شروع کر دی تھیں، جس کی وجہ سے کمرے کی پرانی دیواروں میں موجود درزوں سے ٹھنڈک اندر جھانک رہی تھی۔ ماہم نے اپنے گھٹنوں کو سینے سے لگا رکھا تھا اور اس کی نظریں آگ کے بدلتے رنگوں پر جمی تھیں۔
شارق اس کے بالکل پہلو میں بیٹھا تھا۔ اسے ماہم کے سانس لینے کی آواز اور اس کے وجود سے اٹھنے والی وہی ہلکی سی خوشبو محسوس ہو رہی تھی جس نے اسے پہلے لمحے ہی مسحور کر دیا تھا۔ آگ کی سرخ روشنی ماہم کے چہرے کے نقوش کو مزید نمایاں کر رہی تھی، اس کے لبوں کی جنبش اور پلکوں کا جھکنا شارق کے ضبط کا امتحان لے رہا تھا۔
ان کہی گفتگو
"تم نے کبھی سوچا تھا کہ ہم اس طرح کسی ویرانے میں محصور ہو جائیں گے؟" ماہم نے سر گھما کر شارق کی طرف دیکھا۔ اس کی آواز میں اب وہ پہلے والی سختی نہیں تھی، بلکہ ایک عجب سی نرمی اور تھکن آ گئی تھی۔
شارق نے دھیرے سے مسکرا کر جواب دیا، "راستے جب خود انتخاب کرتے ہیں، تو مسافر کی مرضی نہیں چلتی۔ شاید یہ رات ہمیں اسی لیے یہاں لائی ہے کہ ہم اپنی اپنی دوڑوں سے تھوڑی دیر کے لیے رک سکیں۔"
ماہم نے کچھ دیر شارق کو خاموشی سے دیکھا، پھر اس نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا، جو اتفاق سے شارق کے ہاتھ کے بالکل قریب تھا۔ شارق نے ہمت مجتمع کی اور اپنی انگلیاں اس کے ہاتھ پر رکھ دیں۔ ماہم کے پورے جسم میں ایک جھرجھری سی دوڑ گئی، مگر اس نے ہاتھ پیچھے نہیں ہٹایا۔ اس کے بجائے، اس نے اپنی انگلیاں شارق کی انگلیوں میں پیوست کر دیں۔
اس لمس نے جیسے کمرے کا درجہ حرارت بدل دیا تھا۔ شارق نے محسوس کیا کہ ماہم کا ہاتھ ٹھنڈا تھا، مگر اس کے لمس میں ایک ایسی آگ تھی جو خون کی گردش کو تیز کر رہی تھی۔ وہ دھیرے سے اس کی طرف جھکا۔ اب ان کے چہرے اتنے قریب تھے کہ ان کی سانسیں آپس میں ٹکرا رہی تھیں۔
خاموشی
شارق نے اپنا دوسرا ہاتھ ماہم کے چہرے پر رکھا اور انگوٹھے سے اس کی ٹھوڑی کو اوپر اٹھایا۔ ماہم کی آنکھیں آدھی بند تھیں اور وہ ایک سحر میں مبتلا لگ رہی تھی۔ اس لمحے، دونوں کے درمیان موجود تمام سماجی اور اخلاقی دیواریں گرتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔ شارق نے اس کی گردن کے پاس گرنے والی ایک لٹ کو ہٹایا تو اس کے ہونٹ ماہم کے کان کے قریب پہنچ گئے۔
"تمہاری آنکھیں بہت کچھ کہہ رہی ہیں ماہم..." شارق نے سرگوشی کی۔
ماہم نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنا سر شارق کے کندھے پر رکھ دیا۔ "آج رات سب کچھ بہت الگ ہے شارق۔ مجھے لگتا ہے میں خود کو بھول رہی ہوں۔"
شارق نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔ اس کا بازو ماہم کے گرد تھا اور ماہم کا نرم وجود اس کے ساتھ پیوست تھا۔ آگ کی تپش اور ان کے جسموں کی حرارت ایک دوسرے میں ضم ہو رہی تھی۔ وہ دونوں اسی کیفیت میں دیر تک بیٹھے رہے، جہاں لفظوں کی ضرورت ختم ہو چکی تھی اور صرف لمس کی زبان باقی رہ گئی تھی۔
نیند اور ادھورے خواب
آگ اب آہستہ آہستہ کوئلوں میں بدل رہی تھی اور نیند کا غلبہ طاری ہونے لگا تھا۔ شارق نے اپنا کمبل پھیلایا اور ماہم کو اشارہ کیا۔ وہ دونوں ایک ہی کمبل کے نیچے، ایک دوسرے کے قریب لیٹ گئے۔ سرد رات میں ایک دوسرے کا سہارا لینا ان کی مجبوری بھی تھی اور خواہش بھی۔
ماہم نے اپنا چہرہ شارق کے سینے میں چھپا لیا اور شارق نے اسے مضبوطی سے تھام لیا۔ اس رات کی خاموشی میں ان کی دھڑکنیں ایک دوسرے کے لیے بج رہی تھیں۔ وہ دونوں اسی قربت میں نیند کی آغوش میں چلے گئے، جہاں خواب اور حقیقت کے درمیان لکیر مٹ چکی تھی۔
صبحِ نو کا استقبال
جب صبح کی پہلی کرن کمرے کے ٹوٹے ہوئے روزن سے اندر آئی، تو شارق کی آنکھ کھلی۔ اس نے دیکھا کہ ماہم اب بھی اس کے بازو پر سر رکھے سکون سے سو رہی ہے۔ صبح کی روشنی میں وہ کسی معصوم بچے کی طرح لگ رہی تھی۔ شارق نے آہستہ سے اپنا ہاتھ اس کے بالوں میں پھیرا، جس سے ماہم کی آنکھ کھل گئی۔
وہ دونوں چند لمحے خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ اس صبح ان کے درمیان وہ اجنبیت نہیں تھی جو ہوٹل کی راہداری میں تھی۔ اب وہ ایک دوسرے کے وجود کا حصہ بن چکے تھے۔
"اٹھنا ہوگا،" ماہم نے مسکرا کر کہا، مگر اس کی آنکھوں میں اس رات کی یاد اب بھی تازہ تھی۔
شارق نے اس کا ہاتھ چوما اور اسے اٹھنے میں مدد دی۔ وہ دونوں باہر نکلے تو وادی پر دھند کی چادر تنی تھی اور ہوا میں تازگی تھی۔ سفر دوبارہ شروع ہونے والا تھا، مگر اب یہ سفر صرف منزل تک پہنچنے کا نہیں، بلکہ ایک دوسرے کو مزید دریافت کرنے کا تھا۔
تیرہواں باب: دھوپ، شوخی اور نیا سفر
صبح کی تابانی اور نیا روپ
وادیِ سکوت کی صبح بہت شفاف تھی۔ رات کی ٹھنڈک اب آہستہ آہستہ سورج کی تپش میں بدل رہی تھی۔ شارق نے باہر نکل کر انگڑائی لی اور گاڑیوں کی طرف جانے کا سوچنے لگا، لیکن جب وہ واپس کمرے کی طرف مڑا تو اس کے قدم وہیں جم گئے۔
ماہم باہر نکل رہی تھی، لیکن اب اس کا حلیہ بالکل بدل چکا تھا۔ اس نے اپنی جیکٹ اتار کر بیگ میں ڈال دی تھی اور اب وہ ایک انتہائی چست، سیاہ رنگ کی بغیر آستینوں والی ٹاپ اور اپنی خاکستری کارگو پینٹ میں تھی۔ اس لباس نے اس کے متناسب وجود کو نمایاں کر دیا تھا، اور اس کی گردن پر پسینے کی ننھی بوندیں صبح کی روشنی میں موتیوں کی طرح چمک رہی تھیں۔ اس نے اپنے بالوں کو ایک اونچے جوڑے میں باندھ لیا تھا جس سے اس کی لمبی اور صراحی دار گردن پوری طرح واضح ہو رہی تھی۔
شارق کو یوں ٹکٹکی باندھے دیکھ کر ماہم کے لبوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ آئی۔ اس نے بال سنوارتے ہوئے شرارت سے پوچھا، "کیا ہوا مسٹر شارق؟ کیا کوئی بھوت دیکھ لیا یا صبح کی پہلی کرن نے آپ کے اعصاب پر اثر کر دیا ہے؟"
شارق نے سنبھلنے کی کوشش کی اور گلا صاف کرتے ہوئے بولا، "بھوت تو نہیں، مگر یہ بدلا ہوا روپ تھوڑا خطرناک لگ رہا ہے۔ میرا مطلب ہے، ایڈونچر میں اتنی 'بولڈ' ڈریسنگ کہیں پہاڑوں کا توازن نہ بگاڑ دے۔"
ماہم ہنستے ہوئے اس کے قریب آئی اور اس کی شرٹ کا کالر ٹھیک کرتے ہوئے بولی، "پہاڑوں کا تو پتہ نہیں، مگر تمہارا توازن ضرور بگڑا ہوا لگ رہا ہے۔ چلو اب، ناشتے میں صرف ہوا کھانی ہے یا آگے بڑھنے کا ارادہ ہے؟"
راستے کی شرارتیں
وہ دونوں دوبارہ اپنی گاڑیوں تک پہنچے۔ راستہ اب بھی دشوار تھا مگر ان کے حوصلے بلند تھے۔ شارق نے اپنی جیپ کا رخ ایک پتھریلی ڈھلوان کی طرف کیا تو ماہم نے اپنی گاڑی اس کے بالکل برابر لا کھڑی کی۔
"سنو!" ماہم نے گاڑی کے شیشے سے سر باہر نکال کر چلایا۔ "اگر تم اس ڈھلوان سے پہلے نیچے پہنچ گئے، تو میں تمہیں ایک 'خاص انعام' دوں گی۔"
شارق نے ایک آنکھ ماری، "انعام کا سن کر تو میں پہاڑ سے چھلانگ بھی لگا سکتا ہوں۔ ہو جائے پھر!"
دونوں نے ایک ساتھ ریس ماری۔ انجنوں کا شور پہاڑوں میں گونجنے لگا۔ شارق جان بوجھ کر ماہم کی گاڑی کو راستہ نہیں دے رہا تھا، اور جب بھی ماہم اسے اوور ٹیک کرنے کی کوشش کرتی، وہ گاڑی اس کے سامنے لے آتا۔
"یہ چیٹنگ ہے!" ماہم نے ہنستے ہوئے چیخ کر کہا۔
"محبت اور جنگ میں سب جائز ہے، اور یہاں تو دونوں ہی چل رہے ہیں،" شارق نے جوابی قہقہہ لگایا۔
شدت اور قربت کا ایک اور لمحہ
ایک جگہ آ کر راستہ اتنا تنگ ہو گیا کہ انہیں گاڑیاں روکنی پڑیں۔ وہاں ایک قدرتی چشمہ تھا جس کا پانی کرسٹل کی طرح صاف تھا۔ وہ دونوں نیچے اترے۔ ماہم نے جھک کر چشمے سے پانی پیا اور پھر وہی پانی شرارت سے شارق کے چہرے پر چھڑک دیا۔
شارق نے اسے پکڑنے کی کوشش کی تو وہ بھاگی، مگر پتھریلی زمین پر اس کا پاؤں پھسلا۔ اس بار شارق نے اسے گرنے سے بچانے کے لیے پیچھے سے اپنی باہوں میں بھر لیا۔ ماہم کی کمر شارق کے سینے سے لگی ہوئی تھی اور شارق کے ہاتھ اس کے پیٹ پر کسے ہوئے تھے۔
ماہم کی سانسیں تیز ہو گئیں، اور اس نے اپنا سر پیچھے موڑ کر شارق کو دیکھا۔ ان کے چہروں کے درمیان اب بال برابر فاصلہ بھی نہیں تھا۔
"تمہارا انعام..." ماہم نے مدھم آواز میں کہا۔
شارق نے اس کی گرفت مزید مضبوط کی اور اس کے کندھے پر اپنے لب رکھ دیے۔ ماہم نے اپنی آنکھیں موند لیں اور اس کے وجود میں ایک لہر سی دوڑ گئی۔ اس کھلے آسمان تلے، چشمے کے کنارے، ان کی قربت اب ایک نئے اور شدید مرحلے میں داخل ہو رہی تھی۔ شارق نے اسے اپنی طرف موڑا اور اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھر لیا۔
"ماہم، یہ ایڈونچر اب صرف راستوں کا نہیں رہا،" شارق نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔
ماہم نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور دھیمی آواز میں بولی، "میں جانتی ہوں۔ اور میں چاہتی ہوں کہ یہ راستہ کبھی ختم نہ ہو۔"
آنے والا خطرہ
ابھی وہ اس رومانوی سحر میں کھوئے ہی تھے کہ اچانک دور سے ایک عجیب سی گڑگڑاہٹ سنائی دی۔ یہ آواز کسی جانور کی نہیں تھی، بلکہ ایسا لگ رہا تھا جیسے زمین کے اندر سے کچھ ابھر رہا ہو۔ پرندوں کا ایک غول چیختا ہوا آسمان کی طرف اڑا۔
شارق نے ماہم کو خود سے الگ کیا اور چوکنا ہو گیا۔ "تم نے وہ سنا؟"
ماہم نے سنجیدگی سے سر ہلایا۔ "یہ وادیِ سکوت کا خاموش استقبال نہیں لگتا۔ ہمیں جلد یہاں سے نکلنا ہوگا، اس سے پہلے کہ یہ زمین ہمیں اپنے اندر سمو لے۔"
انہوں نے تیزی سے اپنی گاڑیوں کا رخ کیا، مگر اب ایڈونچر کا رنگ بدل رہا تھا۔
چودہواں باب: وادیِ سکوت کے پہرے دار
خوفناک گونج اور گھیراؤ
وہ گڑگڑاہٹ اب ایک باقاعدہ دہاڑ میں بدل چکی تھی۔ شارق اور ماہم اپنی گاڑیوں کی طرف لپکے، لیکن اس سے پہلے کہ وہ انجن اسٹارٹ کر پاتے، چاروں طرف کی بلند چٹانوں کے پیچھے سے درجنوں سائے نمودار ہوئے۔ یہ عام انسان نہیں لگ رہے تھے؛ انہوں نے جانوروں کی کھالیں پہن رکھی تھیں اور ان کے چہرے کالے اور سرخ رنگوں سے رنگے ہوئے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں قدیم طرز کے نیزے اور کمانیں تھیں جن کے سروں پر لوہا چمک رہا تھا۔
"شارق! یہ کیا ہے؟" ماہم نے اپنی گاڑی کا دروازہ پکڑتے ہوئے خوف اور حیرت کے ملے جلے لہجے میں پوچھا۔ اس کی چست ٹاپ اس کی تیز سانسوں کے ساتھ ابھر رہی تھی۔
شارق نے اپنی جیپ سے وہ لوہے کا راڈ نکالا جو گلو پہلوان نے اسے دیا تھا۔ "لگتا ہے ہم نے کسی ممنوعہ علاقے میں قدم رکھ دیا ہے۔ ماہم، میری گاڑی کے پیچھے ہو جاؤ!"
ان جنگلی نما لوگوں کے درمیان سے ایک قد آور شخص برآمد ہوا جس کے گلے میں انسانی ہڈیوں کا ہار تھا۔ اس نے اپنا نیزہ زمین پر مارا اور ایک غصیلی آواز میں کلام کیا جو کسی قدیم زبان میں تھا۔ اس کا اشارہ واضح تھا: ہتھیار ڈال دو۔
محاصرہ اور مزاحمت
شارق نے مزاحمت کی کوشش کی، مگر ایک نیزہ اس کے پاؤں کے بالکل قریب آ کر زمین میں پیوست ہو گیا۔ ماہم نے دیکھا کہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے اور وہ گھیرے میں آ چکے ہیں۔
"شارق، رک جاؤ! یہ ہمیں مار دیں گے،" ماہم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر سرگوشی کی۔ اس کا لمس اب پسینے سے نم تھا مگر اس میں ایک عجیب سی شدت تھی۔
ان لوگوں نے آگے بڑھ کر شارق اور ماہم کو رسیوں سے جکڑنا شروع کر دیا۔ جب ایک شخص نے ماہم کے بازوؤں کو سختی سے باندھا تو شارق غصے سے تڑپ اٹھا، مگر ایک بھاری لکڑی اس کے سر کے پچھلے حصے پر لگی اور اسے اندھیرا دکھائی دینے لگا۔
قید خانہ اور بڑھتی ہوئی حدت
جب شارق کی آنکھ کھلی تو وہ ایک تاریک اور نمناک غار کے اندر تھا۔ باہر مشعلوں کی روشنی دیواروں پر رقص کر رہی تھی۔ اس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے، مگر وہ اکیلا نہیں تھا۔ اس کے بالکل سامنے ماہم بیٹھی تھی، اسے بھی ایک ستون سے باندھ دیا گیا تھا۔
ماہم کی حالت اب کافی بکھری ہوئی تھی۔ اس کے بال کھل چکے تھے اور اس کی ٹاپ کا ایک تسمہ ٹوٹ کر کندھے سے نیچے گر گیا تھا، جس سے اس کا سراپا مزید دلربا اور بے بس لگ رہا تھا۔
"تم ٹھیک ہو؟" شارق نے کراہتے ہوئے پوچھا۔
ماہم نے آنکھیں کھولیں، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر وہ مسکرائی۔ "میں ٹھیک ہوں، بس تمہارا انتظار کر رہی تھی کہ کب ہوش میں آؤ گے۔ شارق، یہ لوگ ہمیں قربان کرنے والے ہیں۔"
شارق نے اپنی رسیوں کو کھولنے کی کوشش کی، مگر وہ بہت مضبوط تھیں۔ اس نے گھسیٹ کر خود کو ماہم کے قریب کیا۔ اب ان کے کندھے ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے۔ غار کی ٹھنڈک اور موت کے سائے میں، ان کی باہمی کشش ایک نئی شدت اختیار کر رہی تھی۔
"اگر یہ ہماری آخری رات ہے..." ماہم نے سسکتے ہوئے اپنا سر شارق کے کندھے پر ٹکا دیا۔ "تو میں خوش ہوں کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔"
شارق نے اپنا سر اس کے سر سے جوڑ دیا۔ "ہم مریں گے نہیں ماہم۔ میں تمہیں یہاں سے نکال کر لے جاؤں گا۔"
بقا کی جنگ کا آغاز
اسی دوران غار کے دہانے پر شور بلند ہوا۔ وہ قبیلہ اپنی کسی مذہبی رسم کے لیے تیار ہو رہا تھا۔ شارق نے دیکھا کہ زمین پر ایک نوکیلا پتھر پڑا ہے۔ اس نے کمال مہارت اور تکلیف سہتے ہوئے اپنے بندھے ہوئے ہاتھوں سے اس پتھر تک رسائی حاصل کی اور رسی کو رگڑنا شروع کر دیا۔
ماہم نے پہرہ دینے والے سپاہی کو اپنی باتوں اور حرکات سے الجھانے کی کوشش کی۔ اس نے جان بوجھ کر اپنی بے بسی اور خوبصورتی کا سہارا لیا تاکہ سپاہی کی توجہ ہٹ جائے۔ سپاہی جیسے ہی قریب آیا، شارق کی رسیاں کٹ چکی تھیں۔
شارق نے ایک چیتے کی طرح چھلانگ لگائی اور اس شخص کو نیچے گرا لیا۔ ایک مختصر مگر شدید لڑائی کے بعد شارق نے اسے بے ہوش کر دیا اور ماہم کی رسیاں کھولیں۔
"بھاگو!" شارق نے ماہم کا ہاتھ تھاما۔
وہ غار کے خفیہ راستوں سے ہوتے ہوئے باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگے، جہاں ہر موڑ پر موت کا خطرہ تھا، مگر ان کے درمیان پیدا ہونے والی اس نئی جذباتی وابستگی نے انہیں ناقابلِ شکست بنا دیا تھا۔ اب وہ صرف مسافر نہیں تھے، وہ ایک دوسرے کی ڈھال بن چکے تھے۔
پندرہواں باب: تپشِ جاں اور تعاقب کی گرد
خفیہ راستہ اور طلسماتی پناہ گاہ
غار کے تنگ اور اندھیرے راستوں میں دوڑتے ہوئے شارق اور ماہم کے سانس پھول رہے تھے۔ پیچھے سے قبیلے کے لوگوں کے نعرے اور مشعلوں کی روشنی دیواروں پر ان کا پیچھا کر رہی تھی۔ اچانک ایک موڑ پر راستہ نیچے کی طرف ڈھلوان میں بدل گیا اور وہ دونوں پھسلتے ہوئے ایک وسیع و عریض زیرِ زمین ہال نما جگہ پر جا گرے۔
سامنے کا منظر دیکھ کر ان کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ وہاں ایک قدرتی چشمہ تھا جس کا پانی ہلکی نیلی روشنی چھور رہا تھا، بالکل اسی طرح جیسے شارق کی جیپ کی ہیڈلائٹس سے نکلتی تھی۔ چشمے کے گرد نرم گھاس کا قالین بچھا تھا اور دیواروں پر موجود معدنیات چاندنی کی طرح چمک رہی تھیں۔ یہاں کا درجہ حرارت باہر کی سردی سے بالکل مختلف تھا، ایک عجیب سی گرم جوشی اور نمی فضا میں رچی ہوئی تھی۔
قربت کا جنون
شارق نے گرتے ہوئے ماہم کو سنبھال لیا تھا۔ اب وہ دونوں اس نرم گھاس پر موجود تھے، ایک دوسرے کے بالکل اوپر۔ ماہم کی ٹاپ کا ٹوٹا ہوا تسمہ اور اس کی بے ترتیب سانسیں شارق کے حواس پر چھا گئیں۔ موت کے سائے سے نکل کر اس پرسکون جگہ پر پہنچنا ان کے اعصاب کو ڈھیلا کر گیا تھا۔
ماہم نے شارق کے گریبان کو مضبوطی سے تھام لیا۔ اس کی آنکھوں میں خوف نہیں، بلکہ ایک ایسی پکار تھی جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا تھا۔ "شارق... مجھے لگ رہا تھا میں تمہیں کھو دوں گی،" اس نے ہانپتے ہوئے کہا۔
شارق نے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں بھر لیا۔ اس کی انگلیاں ماہم کی پسینے سے نم جلد پر سرسراہٹ پیدا کر رہی تھیں۔ اس نے ماہم کے ماتھے پر اپنے لب رکھے اور پھر آہستہ آہستہ نیچے کی طرف سرکتے ہوئے اس کی گردن کی تپش کو محسوس کیا۔ ماہم کے وجود سے اٹھنے والی حرارت اور اس کے جسم کا لوچ شارق کے اندر ایک طوفان بپا کر رہا تھا۔
اس طلسماتی جھیل کے کنارے، جہاں پانی کی مدھم موسیقی گونج رہی تھی، ان کے درمیان فاصلے مٹ گئے۔ شارق نے محسوس کیا کہ ماہم کا نازک وجود اس کے سخت جسم کے ساتھ اس طرح پیوست ہو گیا ہے جیسے وہ ایک دوسرے کا حصہ ہوں۔ ان کے لبوں کا ملاپ ایک ایسی خاموش قسم تھی جس نے وادی کے تمام دکھ بھلا دیے تھے۔ شارق کے ہاتھ ماہم کے کمر کے گرد کستے گئے، اور ماہم نے اپنے ناخن شارق کے کندھوں میں پیوست کر دیے۔ اس لمحے، وہ دونوں زندگی کی اس لذت میں ڈوبے ہوئے تھے جو صرف موت کے ماتھے پر لکھی جا سکتی ہے۔
ناگہانی مداخلت اور اضطراب
ابھی وہ اس والہانہ پن کی معراج پر تھے اور شارق کا ہاتھ ماہم کے وجود کے مزید گہرے رازوں کو چھونے ہی والا تھا کہ اچانک غار کی چھت سے چند چھوٹے پتھر نیچے گرے۔
"ککڑوں... ککڑوں!" غار کے دہانے سے کسی عجیب سے پرندے کی آواز آئی، جو قبیلے کے شکاریوں کا اشارہ تھا۔
شارق ایک دم چوکنا ہو گیا۔ اس نے دیکھا کہ غار کے بالائی حصے سے مشعلوں کی روشنی نیچے کی طرف جھانک رہی تھی۔ تعاقب کرنے والے اب بالکل سر پر تھے۔
"ماہم! وہ آ گئے،" شارق نے اسے اٹھاتے ہوئے کہا۔
ماہم نے جلدی سے اپنی حالت درست کی، اس کے چہرے پر اس ادھورے لمحے کی کسک واضح تھی، مگر بقا کی جبلت اب غالب آ چکی تھی۔ انہوں نے چشمے کے کنارے کنارے دوڑنا شروع کیا جہاں ایک پتلی سی درز باہر کی طرف نکل رہی تھی۔
بقا کی دوڑ اور گاڑیوں تک رسائی
وہ اس درز سے رینگ کر باہر نکلے تو سامنے وہی ڈھلوان تھی جہاں انہوں نے اپنی گاڑیاں چھوڑی تھیں۔ قبیلے کے لوگ پہاڑ کی چوٹی سے نیچے اتر رہے تھے۔ شارق اور ماہم نے اپنی پوری قوت لگا کر نیچے کی طرف دوڑ لگا دی۔
شارق نے اپنی جیپ کا دروازہ کھولا اور ماہم اپنی سرخ آف روڈر کی طرف لپکی۔ "انجن اسٹارٹ کرو، رکنا مت!" شارق نے چلا کر کہا۔
انجنوں کے دہاڑنے کی آواز نے قبیلے کے لوگوں کی چیخوں کو دبا دیا۔ پتھروں اور تیروں کی بارش ہو رہی تھی، مگر گلو پہلوان کے 'جادوئی تیل' نے جیپ کو وہ رفتار دی کہ وہ سیکنڈوں میں وہاں سے نکل گئے۔
آئینے میں شارق نے دیکھا کہ قبیلے کے لوگ پیچھے رہ گئے تھے، مگر ان کا وہ لیڈر اب بھی ایک چٹان پر کھڑا اپنا نیزہ لہرا رہا تھا، جیسے وہ کوئی بددعا دے رہا ہو۔
گاڑیاں اب ہموار سڑک پر تھیں، مگر شارق اور ماہم کے دلوں میں اب بھی اس غار کے اندر گزارے گئے وہ مختصر مگر شدید لمحات آگ لگا رہے تھے۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے دور اپنی اپنی گاڑیوں میں تھے، مگر ان کی نظریں بار بار آئینے میں ایک دوسرے کو تلاش کر رہی تھیں۔ یہ سفر اب صرف مہم جوئی نہیں رہا تھا، یہ ایک ایسی آگ بن چکا تھا جو انہیں بھسم کرنے کے لیے تیار تھی۔
سولہواں باب: پرائی بستی
خاموش انجن اور صحرا کی خاموشی
گاڑیاں اب ویران سڑک پر پوری رفتار سے دوڑ رہی تھیں کہ اچانک شارق کی جیپ نے ایک ہچکی لی اور انجن سے ایک لمبی 'سائیں' کی آواز نکالی۔ چند سیکنڈ بعد ہی ماہم کی سرخ آف روڈر بھی لڑکھڑا کر رک گئی۔ دونوں نے ایک دوسرے کی طرف حیرت سے دیکھا۔
شارق نے ڈیش بورڈ پر ہاتھ مارا، "تیل ختم! گلو پہلوان نے کہا تھا کہ یہ خاص تیل ہے، مگر یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ اڑن طشتری کی طرح ختم بھی ہو جائے گا۔"
ماہم گاڑی سے باہر نکلی، اس کے بال ابھی تک بکھرے ہوئے تھے اور چہرے پر غار کی دھول جمی تھی۔ "اب کیا کریں گے؟ اس ویرانے میں رات گزارنا دوبارہ کسی خطرے کو دعوت دینا ہے۔"
دور کہیں انہیں ایک چھوٹے سے گاؤں کے مکانوں سے اٹھتا ہوا دھواں نظر آیا۔ "وہاں چلتے ہیں،" شارق نے اشارہ کیا، "مگر ہمیں اپنی شناخت چھپانی ہوگی۔ یہ دیہاتی لوگ اجنبیوں کو اتنی آسانی سے پناہ نہیں دیتے۔"
گاؤں کا داخلہ اور پہلا جھوٹ
وہ دونوں تھکے ہارے قدموں سے گاؤں کی حدود میں داخل ہوئے۔ وہاں کا چوہدری، ایک بھاری بھرکم مونچھوں والا شخص، حقہ پی رہا تھا۔ اس نے ان دونوں کو مشکوک نظروں سے دیکھا۔
"کون ہو تم لوگ؟ اور اس وقت یہاں کیا کر رہے ہو؟" چوہدری نے رعب دار آواز میں پوچھا۔
شارق نے ماہم کی طرف دیکھا، جس کی آنکھیں ابھی تک غار کے لمحات کی شدت سے تھکی ہوئی تھیں۔ اس نے ایک لمبی سانس لی اور ماہم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے قریب کر لیا۔ "چوہدری صاحب، ہم مسافر ہیں۔ شہر سے گھومنے نکلے تھے کہ گاڑی خراب ہو گئی۔ یہ میری بیگم ہیں، ماہم۔"
ماہم نے چونک کر شارق کو دیکھا، مگر فوراً ہی اس نے اپنی نظریں جھکا لیں اور ایک شرمیلی دلہن کی طرح شارق کے بازو سے لگ گئی۔ چوہدری کی نظریں ماہم کے بولڈ لباس پر رکیں، تو شارق نے فوراً اضافہ کیا، "وہ اصل میں ان کا دوپٹہ ہوا میں اڑ کر کھائی میں گر گیا، شہر کی عورتیں ہیں ناں، بس ذرا لاپرواہ ہوتی ہیں۔"
چوہدری نے ہنس کر حقے کا کش لیا۔ "اچھا اچھا، میاں بیوی ہو۔ چلو، ہمارے گاؤں میں مہمان اللہ کی رحمت ہوتے ہیں۔ لیکن میاں، یہاں ایک ہی کمرہ خالی ہے، ہمارے چھوٹے سے ڈیرے پر۔ وہیں تم دونوں کو گزارا کرنا ہوگا۔"
ایک کمرہ اور دو دھڑکنیں
انہیں ایک چھوٹے سے مٹی کے کمرے میں لے جایا گیا جہاں صرف ایک ہی چارپائی بچھی تھی۔ کمرے میں ایک پرانی لالٹین جل رہی تھی جو دیواروں پر ان کے سائے کو آپس میں ضم کر رہی تھی۔ جیسے ہی چوہدری باہر گیا اور دروازہ بند ہوا، ماہم نے شارق کو ایک زوردار دھکا دیا۔
"بیگم؟ واقعی؟" ماہم نے کمر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا، مگر اس کے لبوں پر ایک دبی دبی مسکراہٹ تھی۔
"اور میں کیا کہتا؟" شارق نے شرارت سے کہا۔ "اگر کہتا کہ ہم صرف 'ایڈونچر پارٹنرز' ہیں تو وہ ہمیں ابھی گاؤں سے باہر نکال دیتے۔ ویسے بھی، جو کچھ غار میں ہوا، اس کے بعد یہ جھوٹ سچ سے زیادہ دور نہیں لگ رہا۔"
ماہم کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ وہ چارپائی کے کنارے بیٹھ گئی اور اپنے جوتے اتارنے لگی۔ "تو اب ہمیں یہ رات ایک ہی چارپائی پر گزارنی ہوگی؟"
شارق اس کے قریب آیا اور زمین پر بیٹھ کر اس کا پاؤں اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ "اگر تمہیں اعتراض نہ ہو تو۔"
قربت کا نیا دور
کمرے کی خاموشی اور لالٹین کی مدھم روشنی نے ماحول کو دوبارہ بوجھل بنا دیا۔ شارق نے آہستہ سے ماہم کے پاؤں کی مالش شروع کی، جس سے ماہم کے منہ سے ایک ہلکی سی سسکی نکلی۔
"شارق..." اس نے دھیمی آواز میں پکارا، "تم بہت اچھے اداکار ہو، یا شاید تم یہ سب حقیقت میں چاہتے ہو؟"
شارق نے اوپر دیکھ کر اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ "اداکاری میں اتنی سچائی نہیں ہوتی ماہم۔"
وہ آہستہ سے اٹھا اور اس کے برابر چارپائی پر بیٹھ گیا۔ ماہم نے اپنی گردن موڑ کر اسے دیکھا۔ اس لمحے، میاں بیوی بننے کا وہ 'ناٹک' ایک حقیقت کا روپ دھارنے لگا۔ شارق نے ماہم کا ہاتھ تھاما اور اسے اپنی طرف کھینچا۔ اس بار کوئی قبیلہ نہیں تھا، کوئی پیچھا کرنے والا نہیں تھا، صرف وہ دونوں تھے اور ایک بند کمرہ۔
ماہم نے اپنا سر شارق کے سینے پر رکھ دیا اور اس کی ٹاپ کا دوسرا تسمہ بھی اب اس کے کندھے سے نیچے ڈھلک رہا تھا۔ "آج رات ہم کوئی اداکاری نہیں کریں گے،" اس نے سرگوشی کی۔
شارق نے اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور لالٹین گل کر دی۔ اندھیرے میں صرف ان کی سانسوں کا شور اور دھڑکنوں کی تال باقی رہ گئی تھی۔ وہ میاں بیوی نہ ہوتے ہوئے بھی اس رات ایک دوسرے کے اتنے قریب تھے جتنا کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا۔
سترہواں باب: ادھوری رات اور سپیدہِ سحر
رات کا سحر اور احتیاط
کمرے میں لالٹین کی لو تھرتھرا رہی تھی اور دیواروں پر رقص کرتے سائے ان کی بڑھتی ہوئی قربت کی گواہی دے رہے تھے۔ شارق نے جب ماہم کو اپنے حصار میں لیا، تو ایک لمحے کے لیے کائنات رک سی گئی۔ ماہم کی سانسوں کی تپش شارق کے چہرے پر تھی، اور شارق کا ہاتھ اس کی کمر پر جما ہوا تھا۔ دونوں کے دل ایک ہی تال پر دھڑک رہے تھے۔
مگر جیسے ہی شارق کے لب ماہم کے ماتھے کو چھو کر نیچے کی طرف بڑھے، باہر گلی میں چوہدری کے پہرے داروں کے بھاری بوٹوں کی آواز اور کتے کے بھونکنے نے سناٹا چیر دیا۔ ماہم ہڑبڑا کر پیچھے ہٹی اور اپنی ٹاپ کا تسمہ درست کیا۔
"شارق... نہیں،" اس نے ہانپتے ہوئے سرگوشی کی۔ "یہ جگہ محفوظ نہیں ہے۔ کوئی بھی لمحہ ہمیں مصیبت میں ڈال سکتا ہے۔"
شارق نے ایک لمبی اور بھاری سانس لی۔ اس کے اندر جذبات کا جو طوفان تھا، اسے روکنا مشکل تھا، مگر ماہم کی آنکھوں میں موجود فکر نے اسے سنبھلنے پر مجبور کر دیا۔ اس نے ماہم کا ہاتھ چوما اور دھیرے سے بولا، "تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔ یہ وقت اور یہ مقام ہمارے لیے نہیں ہے۔"
وہ دونوں اسی چھوٹی سی چارپائی پر ایک دوسرے کی طرف پیٹھ کر کے لیٹ گئے، مگر نیند کوسوں دور تھی۔ خاموشی اتنی گہری تھی کہ انہیں ایک دوسرے کی کروٹیں بدلنے کی آواز بھی صاف سنائی دے رہی تھی۔ وہ ادھورا پن ان کے درمیان ایک ایسی کشش چھوڑ گیا جو کسی بھی ملاپ سے زیادہ طاقتور تھی۔
صبح کی پہلی کرن اور روانگی
ابھی پو پھٹ رہی تھی اور مسجد سے اذان کی آواز گونج رہی تھی جب شارق نے ماہم کو جگایا۔ وہ دونوں خاموشی سے تیار ہوئے اور چوہدری کے ڈیرے سے باہر نکلے۔ چوہدری ابھی سو کر اٹھا ہی تھا اور مسواک کر رہا تھا۔
"ارے میاں! اتنی جلدی؟ ناشتہ تو کر کے جاتے،" اس نے حیرت سے پوچھا۔
"نہیں چوہدری صاحب، شہر میں ضروری کام ہے، بس دعا کریں گاڑی ساتھ دے دے،" شارق نے مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔
چوہدری نے اپنے ایک ملازم کو بھیجا جس نے بالٹیوں میں بھر کر تیل لا دیا (جو اس نے اپنی ٹریکٹر کے لیے رکھا ہوا تھا)۔ شارق اور ماہم نے اپنی گاڑیوں کی ٹنکیاں بھریں، چوہدری کا شکریہ ادا کیا اور گاؤں کی مٹی اڑاتے ہوئے دوبارہ شاہراہ پر آ گئے۔
راستے کی گفتگو اور اعترافات
کچھ میل دور نکلنے کے بعد، جب گاؤں نظروں سے اوجھل ہو گیا، تو دونوں نے ایک کھلی جگہ پر گاڑیاں روکیں۔ دھوپ اب سنہری ہو رہی تھی اور ہوا میں تازگی تھی۔
ماہم اپنی گاڑی سے نکل کر شارق کی طرف آئی۔ اس کے چہرے پر رات کی تھکن کے آثار تھے مگر آنکھیں چمک رہی تھیں۔ "تو... 'مسٹر شوہر'، کیسا رہا کل کا تجربہ؟" اس نے شرارت سے پوچھا۔
شارق نے گاڑی کے بونٹ سے ٹیک لگا لی۔ "تجربہ تو لاجواب تھا، بس اینڈنگ تھوڑی ادھوری رہ گئی۔ ویسے تم میاں بیوی والے ناٹک میں کافی نیچرل لگ رہی تھی۔"
ماہم نے ایک چھوٹا سا پتھر ٹھوکر سے اچھالا اور سنجیدہ ہو گئی۔ "شارق، ہم جس ایڈونچر پر نکلے ہیں، وہاں جذبات ہمیں کمزور کر سکتے ہیں۔ کل رات میں ڈر گئی تھی کہ اگر ہم بہہ گئے، تو شاید واپسی کا راستہ نہ ملے۔"
شارق نے اس کے قریب جا کر اس کا ہاتھ تھاما۔ "واپسی کا راستہ تو میں نے اسی دن چھوڑ دیا تھا جب تمہاری گاڑی کا ریڈی ایٹر ٹھیک کیا تھا۔ ماہم، یہ سفر اب صرف مقامات کا نہیں رہا۔ ہم جو تلاش کر رہے ہیں، وہ شاید ہم ایک دوسرے میں پا چکے ہیں۔"
ماہم نے مسکرا کر اسے دیکھا۔ "ابھی بہت سے پہاڑ عبور کرنے باقی ہیں شارق۔ اور اگلا پڑاؤ 'وادیِ نیلم' ہے، جہاں کہتے ہیں کہ سچ بولنے والے ہی زندہ بچتے ہیں۔"
شارق نے قہقہہ لگایا، "سچ؟ چلو پھر دیکھتے ہیں وہاں تمہارا کیا حال ہوتا ہے۔"
وہ دوبارہ اپنی گاڑیوں میں بیٹھے۔ اب ان کی گفتگو میں وہ اجنبیت نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا اعتماد تھا جو صرف ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ایک ساتھ رات کی تاریکیاں اور موت کے سائے جھیلے ہوں۔
اٹھارہواں باب: وادیِ نیلم کا پرسرار مسافر
نیلے پانیوں کا حصار
وادیِ نیلم کا راستہ اتنا حسین تھا کہ انسان اپنی سانس لینا بھول جائے۔ ایک طرف بلند و بالا برف پوش پہاڑ تھے اور دوسری طرف گہرائی میں شور مچاتا ہوا فیروزی رنگ کا دریا، جو پتھروں سے ٹکرا کر سفید جھاگ اڑا رہا تھا۔ شارق اور ماہم کی گاڑیاں اب ایک تنگ پگڈنڈی پر تھیں جہاں بادل اتنے نیچے تھے کہ گاڑیوں کے شیشوں کو چھو رہے تھے۔
"شارق! دیکھو وہ سامنے کیا ہے؟" ماہم نے واکی ٹاکی پر چلا کر کہا۔
شارق نے سامنے دیکھا۔ سڑک کے بیچوں بیچ ایک سفید رنگ کی جدید سپورٹس بائیک کھڑی تھی، اور اس کے پاس ایک لڑکی نہایت اطمینان سے پتھر پر بیٹھی نقشہ دیکھ رہی تھی۔ اس نے سیاہ چمڑے کا سوٹ (Leather Suit) پہن رکھا تھا اور اس کا ہیلمٹ زمین پر پڑا تھا۔ اس کے بال سنہری مائل بھورے تھے جو ہوا میں اڑ رہے تھے۔
ایک نیا کردار: سارہ
شارق اور ماہم نے اپنی گاڑیاں روکیں۔ جیسے ہی وہ باہر نکلے، اس لڑکی نے سر اٹھا کر دیکھا۔ اس کی آنکھیں نیلی تھیں، بالکل اس وادی کے پانیوں جیسی، مگر ان میں ایک ایسی چبھن تھی جو انسان کے آر پار دیکھ لے۔
"لگتا ہے شہر کے مہم جو بالآخر یہاں پہنچ ہی گئے،" اس لڑکی نے مسکرائے بغیر کہا۔ اس کا لہجہ اتنا پراعتماد تھا کہ ماہم کو ایک پل کے لیے اپنے وجود میں تھوڑی سی جلن محسوس ہوئی۔
"آپ کون ہیں؟ اور یہاں اکیلی کیا کر رہی ہیں؟" ماہم نے تھوڑا آگے بڑھ کر پوچھا۔ اس نے لاشعوری طور پر شارق کا بازو تھام لیا، جیسے اپنی ملکیت ظاہر کر رہی ہو۔
لڑکی اٹھی اور دھیرے سے شارق کی طرف بڑھی۔ اس نے شارق کے چہرے کو غور سے دیکھا اور پھر اس کے گلے میں موجود اس قدیم پتھر کی طرف اشارہ کیا جو اسے 'زمل' نے دیا تھا۔ "میرا نام 'سارہ' ہے۔ اور میں یہاں اکیلی نہیں ہوں، میں تم لوگوں کا انتظار کر رہی تھی۔ خاص طور پر تمہارا، شارق۔"
شارق ہکا بکا رہ گیا۔ "تم میرا نام کیسے جانتی ہو؟"
سارہ نے ایک پراسرار مسکراہٹ دی اور شارق کے قریب ہو کر سرگوشی کی، اتنی قریب کہ اس کی سانسیں شارق کے کان سے ٹکرائیں۔ "تمہارا ماضی میرے پاس امانت ہے، اور تمہارا مستقبل اس وادی کی گہرائیوں میں چھپا ہے۔ کیا تم وہ راز جاننا نہیں چاہو گے جو تمہارے باپ نے ادھورا چھوڑ دیا تھا؟"
جذباتی تناؤ اور شک
ماہم نے فوراً شارق کو اپنی طرف کھینچا۔ "شارق! یہ کوئی فراڈ لگ رہا ہے۔ ہم اسے نہیں جانتے۔"
سارہ نے قہقہہ لگایا، ایک ایسا قہقہہ جس میں تمسخر تھا۔ "ماہم... تم ایک ایسی دوڑ میں شامل ہو جس کا انجام تمہیں معلوم نہیں۔ شارق کو میری ضرورت پڑے گی، کیونکہ وادیِ نیلم کے آگے جو 'آہنی قلعہ' ہے، اس کی چابی صرف میرے پاس ہے۔"
شارق تذبذب کا شکار تھا۔ ایک طرف ماہم تھی، جس کے ساتھ اس نے موت اور زندگی کے لمحات گزارے تھے، اور دوسری طرف یہ اجنبی لڑکی سارہ، جو ان رازوں کا ذکر کر رہی تھی جن کا شارق نے کبھی کسی سے ذکر نہیں کیا تھا۔
سفر میں تیسرا حصہ دار
"ٹھیک ہے،" شارق نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔ "سارہ ہمارے ساتھ چلے گی۔"
ماہم کا چہرہ غصے سے تمتما اٹھا، مگر وہ خاموش رہی۔ سارہ نے اپنی بائیک اسٹارٹ کی اور شارق کی جیپ کے آگے لگ گئی۔ اب سفر کا رخ بدل چکا تھا۔ ماہم کی گاڑی پیچھے تھی اور وہ دیکھ رہی تھی کہ کس طرح سارہ بار بار مڑ کر شارق کو اشارے کر رہی تھی۔
شام ہوتے ہوتے وہ ایک پرانی سرائے کے پاس رکے۔ سارہ کا لباس اور اس کا انداز انتہائی 'بولڈ' اور اشتعال انگیز تھا۔ اس نے جان بوجھ کر شارق کے قریب رہنے کی کوشش کی، جس سے ماہم اور شارق کے درمیان ایک ان کہی دیوار کھڑی ہونے لگی۔
رات کے کھانے پر، سارہ نے شارق کے خاندان کے بارے میں کچھ ایسی باتیں بتائیں کہ شارق کے ہوش اڑ گئے۔ "تمہارے والد یہاں سے کبھی واپس نہیں گئے تھے شارق، کیونکہ انہوں نے وہ چیز پا لی تھی جسے لوگ 'امرت' کہتے ہیں۔"
ماہم نے میز پر ہاتھ مارا۔ "بس بہت ہوا! شارق، یہ لڑکی ہمیں تقسیم کر رہی ہے۔"
سارہ نے سکون سے کافی کا گھونٹ بھرا۔ "تقسیم تو تم خود ہو رہی ہو ماہم۔ کیونکہ تمہیں ڈر ہے کہ شارق کو کوئی ایسا مل گیا ہے جو اسے تم سے زیادہ جانتا ہے۔"
اس رات، اس سرائے کے تین الگ کمروں میں تین مختلف کہانیاں جنم لے رہی تھیں۔ شارق کی نیند اڑ چکی تھی، ماہم غصے اور آنسوؤں کے درمیان تھی، اور سارہ... سارہ شاید کوئی ایسا کھیل کھیل رہی تھی جس کا انجام کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔
انیسواں باب: سائے، یادیں اور تیسرا رخ
خاموش صبح کا اضطراب
وادیِ نیلم کی صبح سحر انگیز تو تھی مگر اس سرائے کی فضا میں ایک بھاری پن تھا جو رات کی تلخیوں کا نتیجہ تھا۔ شارق ابھی پوری طرح بیدار بھی نہیں ہوا تھا کہ اس کے کمرے کے دروازے پر ایک دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تو سامنے سارہ کھڑی تھی، جو اب ایک تنگ سفید ٹینک ٹاپ اور لیدر کی پینٹ میں ملبوس تھی، اس کے بال ابھی گیلے تھے اور اس کے وجود سے صندل کی تیز خوشبو اٹھ رہی تھی۔
"شارق، وقت کم ہے۔ اگر تم واقعی اپنے باپ کے آخری نشانات دیکھنا چاہتے ہو تو میرے ساتھ آؤ،" سارہ نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔
شارق نے برابر والے کمرے کی طرف دیکھا جہاں ماہم ٹھہری ہوئی تھی۔ "ماہم کو بھی ساتھ لے چلتے ہیں، وہ برا مانے گی۔"
سارہ کے لبوں پر ایک تمسخرانہ مسکراہٹ آئی۔ "وہ اس راستے کی تاب نہیں لا سکے گی۔ یہ راستہ صرف ان کے لیے ہے جن کے خون میں وہ قدیم پکار شامل ہے۔ اگر تم ڈر رہے ہو، تو کوئی بات نہیں، میں اکیلی چلی جاتی ہوں۔"
شارق کے اندر کی مہم جوئی اور باپ کی محبت نے اسے مجبور کر دیا۔ اس نے ایک مختصر نوٹ لکھا اور سارہ کے پیچھے ہولیا۔
خفیہ غار اور ماضی کے نقوش
سارہ اسے ایک ایسی پگڈنڈی پر لے گئی جو بظاہر کہیں ختم ہوتی نظر آتی تھی، مگر جھاڑیوں کے پیچھے ایک چھپا ہوا غار تھا۔ اندر کا راستہ تنگ تھا اور دیواروں پر عجیب و غریب نشانات بنے ہوئے تھے۔ سارہ نے ایک مشعل جلائی، جس کی روشنی اس کے سراپے کو ایک پرسرار جادوئی حسن عطا کر رہی تھی۔
"دیکھو اسے،" سارہ نے ایک دیوار کی طرف اشارہ کیا جہاں ایک پرانی تصویر کندہ تھی اور اس کے نیچے ایک نام لکھا تھا: 'عالمگیر'۔
شارق کے ہاتھ کانپنے لگے۔ یہ اس کے والد کا نام تھا۔ وہاں ایک چھوٹا سا پتھر کا صندوقچہ رکھا تھا جس پر وہی نشان تھا جو شارق کے گلے میں موجود پتھر پر تھا۔
"تمہارے والد یہاں کسی خزانے کی تلاش میں نہیں آئے تھے،" سارہ نے شارق کے قریب آکر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اس کا لمس برف جیسا ٹھنڈا تھا مگر اس کی آواز میں ایک سحر تھا۔ "وہ یہاں اس 'ابدی قوت' کو محفوظ کرنے آئے تھے جو اب تمہاری منتظر ہے۔"
شارق سحر زدہ ہو کر اس صندوقچے کی طرف بڑھا، مگر سارہ نے اسے روک دیا۔ "ابھی نہیں... پہلے تمہیں خود کو ثابت کرنا ہوگا۔" اس نے شارق کو اپنی طرف موڑا اور اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ اس لمحے سارہ کی قربت اور اس کا بولڈ انداز شارق کو ایک ایسی دنیا میں لے جا رہا تھا جہاں وہ سب کچھ بھول رہا تھا۔
ماہم کا پیچھا اور ٹوٹی ہوئی امیدیں
دریں اثنا، ماہم کی آنکھ کھلی تو اسے شارق غائب ملا۔ اس نے وہ نوٹ دیکھا اور اس کے دل میں ایک ٹیس سی اٹھی۔ وہ خاموش نہیں بیٹھ سکتی تھی۔ اس نے اپنی گاڑی نکالی اور ان کے نشانات کا پیچھا کرنا شروع کیا۔ وہ ایک منجھی ہوئی مہم جو تھی، اس کے لیے سارہ کے نشانات ڈھونڈنا مشکل نہ تھا۔
جب وہ اس غار کے دہانے پر پہنچی، تو اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ وہ دبے پاؤں اندر داخل ہوئی اور جو منظر اس نے دیکھا اس نے اس کا کلیجہ منہ کو آگیا۔
سامنے ایک چبوترے پر سارہ اور شارق موجود تھے۔ سارہ نے شارق کے دونوں ہاتھ تھام رکھے تھے اور وہ اس کے انتہائی قریب تھی۔ دور سے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ ایک دوسرے میں کھو چکے ہیں۔ شارق کا چہرہ سارہ کے بالوں میں چھپا ہوا تھا اور سارہ کی آنکھوں میں ایک فاتحانہ چمک تھی۔
"شارق!" ماہم کی چیخ غار کی دیواروں سے ٹکرا کر گونجی۔
شارق ایک دم ہوش میں آیا اور پیچھے ہٹا۔ اس نے دیکھا کہ ماہم غصے اور دکھ کی تصویر بنی وہاں کھڑی تھی، اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
"ماہم، یہ وہ نہیں جو تم سمجھ رہی ہو..." شارق نے ہکلاتے ہوئے کہا۔
"میں سب دیکھ رہی ہوں شارق!" ماہم نے چلا کر کہا۔ "تم اس اجنبی لڑکی کے لیے مجھے یہاں چھوڑ کر آ گئے؟ وہ تمہیں دھوکا دے رہی ہے، یہ سب ایک ڈرامہ ہے!"
سارہ نے ایک ٹھنڈا قہقہہ لگایا۔ "ماہم، تم ایک عام لڑکی ہو جو صرف جذبات کی زبان سمجھتی ہے۔ شارق اب ایک بڑے مقصد کی طرف بڑھ رہا ہے، جس میں تمہاری کوئی جگہ نہیں ہے۔"
بحران اور ٹریجڈی کا آغاز
غصے میں بپھری ہوئی ماہم نے سارہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی، مگر سارہ نے چابکدستی سے اسے پیچھے دھکیل دیا۔ اسی کشمکش میں ماہم کا پاؤں ایک ڈھلانی پتھر پر پڑا اور وہ توازن برقرار نہ رکھ سکی۔
"ماہم!" شارق اسے بچانے کے لیے لپکا، مگر سارہ نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔
ماہم غار کے ایک گہرے حصے کی طرف گرتی چلی گئی۔ شارق نے سارہ کا ہاتھ جھٹکا اور نیچے کی طرف دوڑ لگائی، مگر وہاں صرف گھپ اندھیرا تھا اور ماہم کی ایک آخری سسکی سنائی دی۔
شارق پتھر کے فرش پر بیٹھ گیا، اس کا سر چکرا رہا تھا۔ ایک طرف وہ ماضی کے راز تھے جن کی اسے تلاش تھی، اور دوسری طرف وہ لڑکی تھی جس نے اس کے لیے اپنی زندگی داؤ پر لگا دی تھی۔ سارہ اس کے پیچھے آ کھڑی ہوئی اور نہایت اطمینان سے بولی، "کمزور کڑیاں ٹوٹ ہی جایا کرتی ہیں۔ اب آگے بڑھو شارق، منزل تمہارا انتظار کر رہی ہے۔"
شارق نے سارہ کو ایک ایسی نظر سے دیکھا جس میں نفرت اور کراہت بھری ہوئی تھی۔ اسے احساس ہوا کہ وہ اس طلسماتی لڑکی کے سحر میں آ کر کیا کچھ کھو بیٹھا ہے۔ مگر اب واپسی کا راستہ بند تھا اور ٹریجڈی نے اپنا کھیل شروع کر دیا تھا۔
بیسواں باب: قعرِ دریا سے بقا تک
موت کے جبڑے میں زندگی
جب ماہم اس اندھی کھائی میں گری، تو اسے یقین تھا کہ یہ اس کی زندگی کا آخری لمحہ ہے۔ ہوا کی تیزی اس کے کانوں میں سائیں سائیں کر رہی تھی، مگر تقدیر نے اس کے لیے کچھ اور ہی لکھ رکھا تھا۔ غار کے اس نچلے حصے میں نیلم دریا کی ایک شاخ زیرِ زمین بہہ رہی تھی۔ ماہم کا جسم کسی چٹان سے ٹکرانے کے بجائے برفیلے پانی کے ایک گہرے کنڈ میں جا گرا۔
پانی کی ٹھنڈک نے اس کے حواس مفلوج کر دیے، مگر اس کی مہم جو روح نے ہار نہیں مانی۔ وہ کئی منٹ تک لہروں کے رحم و کرم پر رہی، یہاں تک کہ دریا نے اسے ایک پتھریلے کنارے پر پٹخ دیا۔ ماہم نے ہانپتے ہوئے اپنی آنکھیں کھولیں، اس کا پورا جسم درد سے چور تھا اور اس کی وہ خوبصورت ٹاپ اب جگہ جگہ سے پھٹ چکی تھی، مگر وہ زندہ تھی۔
وادی کے قدیم محافظ
ابھی وہ سنبھلنے کی کوشش ہی کر رہی تھی کہ اسے محسوس ہوا کہ وہ اکیلی نہیں ہے۔ اندھیرے میں سے دو ہاتھ بڑھے اور اسے سہارا دیا۔ یہ وہ "جنگلی" لوگ نہیں تھے جنہوں نے پہلے حملہ کیا تھا، بلکہ یہ سفید لباس میں ملبوس چند بوڑھے لوگ تھے جن کے چہروں پر عجیب سا سکون تھا۔
"بیٹی، تم اس لڑکی کے جال میں پھنس گئی ہو جسے لوگ 'سانپ کی شہزادی' کہتے ہیں،" ایک بوڑھے نے، جس کی آواز غار کی دیواروں کی طرح گہری تھی، اسے پانی پلاتے ہوئے کہا۔
ماہم نے کانپتے ہوئے پوچھا، "وہ... سارہ؟ وہ کون ہے؟"
"سارہ اس قدیم قلعے کی محافظ ہے جو شارق کے خاندان کا خون مانگتی ہے۔ وہ اسے ورغلا کر وہاں لے جا رہی ہے تاکہ اس 'خزانے' کا تالا کھول سکے جو صرف شارق کے خون سے کھل سکتا ہے۔ اگر وہ وہاں پہنچ گئے، تو شارق کبھی واپس نہیں آئے گا۔"
ماہم کے اندر ایک نئی قوت جاگ اٹھی۔ اس نے اپنے زخموں کی پرواہ کیے بغیر کھڑی ہوئی۔ "مجھے وہاں پہنچنا ہوگا۔ مجھے اسے بچانا ہے!"
ان بوڑھوں نے اسے ایک قدیم راستہ دکھایا اور اسے ایک خنجر دیا جس کا دستہ نیلم کا بنا ہوا تھا۔ "یہ خنجر سارہ کے سحر کو توڑ سکتا ہے۔ جاؤ بیٹی، تمہاری محبت ہی اس کالے جادو کو شکست دے سکتی ہے۔"
سارہ کا سحر اور شارق کی بے بسی
دوسری طرف، سارہ شارق کو غار کے خفیہ راستوں سے ہوتے ہوئے اس 'آہنی قلعے' کے دروازے تک لے آئی تھی۔ شارق اب کسی مشینی انسان کی طرح اس کے پیچھے چل رہا تھا۔ سارہ کا جادو اس کے اعصاب پر پوری طرح حاوی ہو چکا تھا۔ سارہ نے جان بوجھ کر اس کے قریب ہو کر اسے اپنی بانہوں کے حصار میں لے لیا تھا، اور اس کے کان میں وہ لوریاں سنا رہی تھی جو اس کے ماضی سے جڑی تھیں۔
"بس تھوڑا اور شارق... وہ سامنے دیکھو، وہ دروازہ تمہارا انتظار کر رہا ہے،" سارہ نے انتہائی اشتعال انگیز اور نرم لہجے میں کہا۔ اس نے اپنا ہاتھ شارق کے سینے پر رکھا، جہاں اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
شارق کی آنکھوں میں اب وہ چمک نہیں تھی، وہ صرف سارہ کے لبوں کی جنبش کو دیکھ رہا تھا۔ سارہ نے اسے دروازے کے سامنے کھڑا کیا، جس پر ایک نوکیلا نشان بنا ہوا تھا۔ "اپنا ہاتھ یہاں رکھو شارق... صرف ایک بوند خون، اور پوری کائنات تمہارے قدموں میں ہوگی۔"
شارق نے جیسے ہی اپنا ہاتھ آگے بڑھایا، غار کی چھت سے ایک پتھر گرا اور ایک جانی پہچانی خوشبو فضا میں پھیل گئی۔
محبت کا وار اور سحر کی شکست
"رکو شارق!"
ماہم ایک چٹان کے اوپر کھڑی تھی، اس کا لباس تار تار تھا، چہرے پر خون کے نشان تھے، مگر اس کی آنکھوں میں وہ آگ تھی جو سارہ کے ہزار جادوؤں کو جلا سکتی تھی۔ سارہ نے مڑ کر دیکھا اور اس کے چہرے پر خوف کی ایک لہر دوڑی۔
"تم؟ تم زندہ ہو؟" سارہ نے دھاڑتے ہوئے کہا۔ اس نے ایک اشارہ کیا تو غار کی دیواروں سے سیاہ سائے نکل کر ماہم کی طرف بڑھے۔
ماہم نے وہ نیلم کا خنجر نکالا اور ایک سائے کے سینے میں اتار دیا۔ ایک زوردار دھماکہ ہوا اور وہ سایہ دھوئیں میں بدل گیا۔ شارق نے ماہم کی آواز سنی تو اس کی آنکھوں کا دھندلا پن کم ہونے لگا۔
"ماہم..." اس نے لڑکھڑاتے ہوئے کہا۔
سارہ نے شارق کو دوبارہ اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کی، اس نے اپنا چہرہ شارق کے بالکل قریب کر لیا تاکہ اسے دوبارہ سحر زدہ کر سکے، مگر ماہم نے ایک لمبی چھلانگ لگائی اور سارہ کے ہاتھ پر وہ خنجر دے مارا۔
سارہ کی ایک ہولناک چیخ بلند ہوئی اور اس کا وہ خوبصورت چہرہ ایک لمحے کے لیے کسی بوڑھی چڑیل کی طرح بگڑ گیا۔ شارق ایک دم ہوش میں آگیا اور اس نے سارہ کو خود سے دور دھکیل دیا۔
"تم نے مجھ سے جھوٹ بولا!" شارق نے غصے سے کہا۔
ماہم بھاگتی ہوئی شارق کے پاس پہنچی اور اسے اپنے گلے سے لگا لیا۔ "شارق، ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا! یہ قلعہ گرنے والا ہے!"
سارہ زخمی حالت میں زمین پر پڑی تھی اور غار لرزنے لگا تھا۔ شارق نے ماہم کا ہاتھ تھاما، وہ ہاتھ جو اس کے لیے اب کائنات کا سب سے محفوظ ٹھکانہ تھا۔ وہ دونوں اس قدیم قلعے کے ملبے سے نکلنے کے لیے اندھادھند دوڑنے لگے، جب کہ پیچھے سے سارہ کی چیخیں اور قلعے کے گرنے کی آوازیں ان کا پیچھا کر رہی تھیں۔
وہ جیسے ہی غار سے باہر کھلی فضا میں نکلے، غار کا دہانہ ایک زوردار دھماکے سے بند ہوگیا۔ باہر وادیِ نیلم کا پرسکون دریا بہ رہا تھا اور سورج کی پہلی کرنیں ان کا استقبال کر رہی تھیں۔
شارق نے ماہم کو دیکھا، اس کی حالت دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور اس کے ماتھے پر ایک طویل بوسہ دیا۔ "مجھے معاف کر دو ماہم... میں نے تمہیں پہچاننے میں دیر کر دی۔"
ماہم نے اس کے سینے پر سر رکھ دیا اور ایک لمبی سانس لی۔ "ایڈونچر ابھی ختم نہیں ہوا مسٹر شارق، ابھی تو ہمیں اپنی گاڑیاں ڈھونڈنی ہیں۔"
شارق ہنسا، ایک ایسا قہقہہ جس میں سکون تھا۔ اب سارہ کا سایہ ختم ہو چکا تھا، مگر وادی کے راز اور ان کی یہ ادھوری محبت اب ایک نئی منزل کی طرف بڑھنے کے لیے تیار تھی۔
اکیسواں باب: تسکینِ جاں اور پہلی رات
گاڑی کے اندر کا طوفان
جیسے ہی وہ جیپ کے قریب پہنچے، شارق نے ماہم کا ہاتھ کھینچ کر اسے اپنی طرف موڑا۔ ماہم کی بکھری ہوئی حالت، اس کی پھٹی ہوئی ٹاپ اور اس کی آنکھوں میں شارق کو بچانے کی وہ تڑپ, ان سب نے شارق کے اندر ضبط کے تمام بندھن توڑ دیے۔ اس نے ماہم کو جیپ کے دروازے کے ساتھ لگایا اور اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔
"ماہم، میں نے تمہیں کھو دیا تھا..." شارق کی آواز جذبات سے بوجھل تھی۔
ماہم نے کچھ نہ کہا، بس اپنی انگلیاں شارق کے بالوں میں پیوست کر دیں اور اسے اپنے قریب کھینچ لیا۔ ان کے لب ایک دوسرے سے ملے تو جیسے وقت تھم گیا۔ یہ وہ بوسہ تھا جس میں غار کی تپش، سارہ کا سحر، اور موت کا خوف سب پگھل کر رہ گئے۔ شارق کی گرفت ماہم کی کمر پر مزید سخت ہوتی گئی اور وہ دونوں جیپ کی پچھلی نشست پر منتقل ہو گئے۔ گاڑی کے بند شیشوں کے پیچھے، ان کی تیز سانسیں دھند پیدا کر رہی تھیں۔ شارق کے لب ماہم کے چہرے، گردن اور پھر اس کے عریاں کندھوں پر بکھرنے لگے، جہاں ماہم کی سسکیاں گاڑی کی خاموشی کو توڑ رہی تھیں۔
محفوظ پناہ گاہ کی تلاش
کچھ دیر بعد، جب ان کے حواس تھوڑے بحال ہوئے، تو شارق نے گاڑی اسٹارٹ کی۔ "ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا، ماہم۔ ہمیں ایک ایسی جگہ چاہیے جہاں صرف ہم ہوں، کوئی سارہ یا کوئی قبیلہ نہیں۔"
وہ دونوں اس وادی سے باہر نکلے اور قریبی چھوٹے سے قصبے 'وادیِ سکون' کے ایک پرانے مگر پرسکون ہوٹل "دی پائن ریزورٹ" میں پہنچے۔ شارق نے کاؤنٹر پر جا کر ایک بہترین کمرہ بک کروایا۔ ریسیپشنسٹ نے ان کی خستہ حالی دیکھی، مگر شارق کے ہاتھ میں موجود نوٹوں کی گڈی نے اسے خاموش کر دیا۔
کمرے کی حدت اور مکمل سپردگی
کمرہ نمبر 302 لکڑی کے کام سے سجا ہوا تھا اور اس کی کھڑکی سے باہر چاندنی پہاڑوں پر رقص کر رہی تھی۔ شارق نے دروازہ لاک کیا اور پیچھے مڑا تو دیکھا کہ ماہم شیشے کے سامنے کھڑی اپنا بکھرا ہوا حلیہ دیکھ رہی تھی۔ اس نے اپنی پھٹی ہوئی ٹاپ اتار کر ایک طرف پھینکی، اور اب وہ صرف اپنے اندرونی لباس میں تھی، اس کا تراشا ہوا بدن چاندنی کی مدھم روشنی میں کسی سنگِ مرمر کے مجسمے کی طرح چمک رہا تھا۔
شارق دھیرے سے اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا۔ اس نے اپنے ہاتھ ماہم کے ننگے شانوں پر رکھے اور آئینے میں اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ "آج رات، کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔"
ماہم نے مڑ کر اپنا سر شارق کے سینے پر رکھ دیا۔ شارق نے اسے اپنی باہوں میں اٹھایا اور نرم بستر پر لٹا دیا۔ کمرے میں جلتی ہوئی واحد شمع کی لو ان کے جسموں کے سائے دیواروں پر پھیلا رہی تھی۔ شارق نے اپنا لباس اتارا اور ماہم کے قریب ہو گیا۔
ان کے جسموں کا لمس پہلی بار اتنا مکمل اور بے نقاب تھا۔ شارق نے ماہم کے وجود کے ہر حصے کو اپنی چاہت سے نوازا، اور ماہم نے اپنی تمام تر محبت اور سپردگی شارق کے نام کر دی۔ وہ رات ان کے لیے ایک ایسی معراج تھی جہاں درد، تھکن اور ماضی کی تلخیاں سب مٹ گئیں۔ کمرے کی فضا ان کی سسکیوں، محبت بھرے جملوں اور جسمانی تپش سے بوجھل ہو گئی۔ یہ ان کی پہلی مکمل قربت تھی، ایک ایسا ملاپ جس نے ان کے سفر کو ایک نئی اور ابدی روح عطا کر دی تھی۔
سپیدہِ سحر اور نیا آغاز
جب اگلی صبح کی پہلی کرن کمرے میں داخل ہوئی، تو شارق نے دیکھا کہ ماہم اس کے بازو پر سر رکھے گہری اور پرسکون نیند سو رہی ہے۔ اس کے چہرے پر اب کوئی خوف نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی تسکین تھی جو صرف سچی محبت کے بعد نصیب ہوتی ہے۔
شارق نے اس کے ماتھے کو چوما اور سوچا کہ ایڈونچر تو اب شروع ہوا ہے۔ اب وہ صرف دو مسافر نہیں تھے، وہ ایک دوسرے کی منزل بن چکے تھے۔
بائیسواں باب: آشنا دیواریں اور بے باک چاہت
گھر کی دہلیز اور یادیں
شارق کا گھر شہر کے پرسکون علاقے میں ایک پرانی وضع کا مگر شاندار بنگلہ تھا۔ جیسے ہی اس نے بھاری لکڑی کا دروازہ کھولا، گھر کی مخصوص خوشبو نے ان کا استقبال کیا۔ گھر خالی تھا، کیونکہ شارق کے والدین برسوں پہلے انتقال کر چکے تھے اور وہ یہاں اکیلا ہی رہتا تھا۔
"خوش آمدید، ماہم،" شارق نے اپنا بیگ صوفے پر پھینکتے ہوئے کہا۔
ماہم نے حیرت سے گھر کے در و دیوار کو دیکھا۔ "تمہارا گھر تمہاری طرح ہی پراسرار اور گہرا ہے، شارق۔" وہ تھکی ہاری تھی، مگر اس کے چہرے پر اپنے گھر پہنچنے جیسا سکون تھا۔
شارق اس کے قریب آیا اور اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنی طرف کھینچا۔ "اب یہاں نہ کوئی سارہ ہے، نہ کوئی قبیلہ اور نہ ہی گاڑی خراب ہونے کا ڈر۔ اب صرف تم ہو اور میں ہوں۔"
رومانیت کا نیا رنگ
شارق نے ماہم کو اوپر بیڈروم کی طرف لے جانے سے پہلے کچن سے وائن کی ایک بوتل اور دو گلاس اٹھائے۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے مدھم موسیقی چلا دی اور کھڑکیاں کھول دیں جہاں سے رات کی تازہ ہوا اندر آ رہی تھی۔
"پہلے ایک گرم غسل (Warm Bath)،" شارق نے سرگوشی کی۔
وہ دونوں باتھ ٹب میں ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے تھے، جہاں خوشبودار جھاگ اور نیم گرم پانی نے ان کے جسموں کی تھکن کو دور کر دیا۔ پانی کی لہروں تلے ان کے پاؤں ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے اور شارق کی نظریں ماہم کے بھیگے ہوئے بالوں اور اس کے نکھرے ہوئے بدن پر جمی تھیں۔ غسل کے دوران ہی ان کے درمیان لمس کی وہ آگ دوبارہ بھڑک اٹھی جو ہوٹل کے کمرے سے شروع ہوئی تھی۔
بے باک سپردگی اور قربت کی انتہا
غسل کے بعد، شارق نے ماہم کو ایک ریشمی گاؤن (Silk Gown) پہنایا، جو اس کے بدن پر کسی دوسری جلد کی طرح فٹ بیٹھ رہا تھا۔ وہ اسے اٹھا کر بستر پر لے آیا۔ بیڈروم کی لائٹس بند تھیں، صرف ایک کونے میں رکھی لالٹین اپنی مدھم روشنی بکھیر رہی تھی۔
شارق نے ماہم کے اوپر جھکتے ہوئے اس کے گاؤن کی ڈوری کھولی۔ "آج رات میں تمہیں وہ سب دینا چاہتا ہوں جو ہم اس وادی کی دھول میں نہیں کر پائے۔"
ماہم نے اپنی باہیں شارق کے گلے میں ڈال دیں اور اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔ اس رات شارق کے بیڈروم کی دیواروں نے وہ سب دیکھا جو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ان کی قربت اب کسی خوف کی محتاج نہیں تھی، بلکہ یہ ایک جشن تھا, ان کی بقا کا اور ان کی محبت کا۔ شارق کے ہاتھوں نے ماہم کے وجود کے ہر نشیب و فراز کو دریافت کیا، اور ماہم کی سسکیاں کمرے کی خاموشی میں موسیقی بن کر گونجنے لگیں۔
ان کے جسموں کا ملاپ اتنا شدید اور جذباتی تھا کہ انہیں وقت کا احساس ہی نہ رہا۔ شارق کی ہر حرکت میں ایک وحشیانہ پن کے ساتھ ساتھ ایک بے پناہ نرمی تھی، اور ماہم نے خود کو پوری طرح اس کے حوالے کر دیا تھا۔ پسینے سے شرابور جسم، تیز ہوتی سانسیں اور دھڑکتے دل—اس رات انہوں نے ایک دوسرے کو مکمل طور پر تسخیر کر لیا۔
ایک حیران کن موڑ
اگلی صبح جب سورج کی روشنی پردوں کے درمیان سے چھن کر آئی، تو شارق ابھی نیم خوابی کی کیفیت میں تھا جب اسے نیچے ہال میں کسی کے چلنے کی آواز آئی۔ وہ چونک کر اٹھا۔ اس نے اپنا ٹراؤزر پہنا اور آہستہ سے نیچے کی طرف بڑھا۔
ہال میں ایک بوڑھا شخص بیٹھا تھا جس کے ہاتھ میں ایک پرانی ڈائری تھی۔ شارق کے قدم وہیں جم گئے۔
"بابا؟" اس کی زبان سے بمشکل نکلا۔
وہ بوڑھا شخص مڑا۔ یہ وہی شخص تھا جسے شارق نے وادی میں خواب یا سراب کے طور پر دیکھا تھا۔ "سفر ابھی ختم نہیں ہوا میرے بچے، تم نے جس 'نیلم' کو حاصل کیا ہے، اس کے دشمن اب تمہارے گھر تک پہنچ چکے ہیں۔"
شارق نے پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں ماہم سیڑھیوں پر کھڑی یہ سب سن رہی تھی۔ ان کی پرسکون دنیا میں ایک بار پھر ہلچل مچنے والی تھی، مگر اس بار دشمن باہر نہیں، بلکہ ان کے ماضی کے کسی بند کمرے سے نکل کر سامنے آنے والا تھا۔
تیئیسواں باب: انکشاف اور ٹوٹتا ہوا اعتبار
ماضی کا بھوت
شارق نے کانپتی آواز میں پوچھا، "آپ یہاں کیسے؟ اور آپ کس نیلم کی بات کر رہے ہیں؟"
بوڑھے شخص نے ایک گہری نظر سیڑھیوں پر کھڑی ماہم پر ڈالی، جو حیرت اور خوف کے عالم میں ساکت کھڑی تھی۔ "شارق، تم نے جس لڑکی کے لیے اپنی جان داؤ پر لگائی، کیا تم واقعی اسے جانتے ہو؟ کیا تم نے کبھی سوچا کہ وہ 'اتفاقاً' تمہارے راستے میں کیوں آئی؟"
ماہم کے چہرے کی رنگت اڑ گئی۔ اس نے سیڑھی کا سہارا لیا جیسے اس کے پاؤں جواب دے رہے ہوں۔ شارق نے مڑ کر ماہم کو دیکھا، جس کی خاموشی اسے ڈرانے لگی تھی۔
"یہ کیا کہہ رہے ہیں، ماہم؟" شارق کی آواز میں درد اور شک کی آمیزش تھی۔
بوڑھے نے اپنی ڈائری کھولی اور ایک پرانا ورق نکالا۔ "ماہم اس قبیلے کی آخری وارث ہے جو 'وادیِ نیلم' کے رازوں کا محافظ تھا۔ اسے بچپن میں شہر بھیج دیا گیا تھا تاکہ وہ وقت آنے پر کسی ایسے شخص کو ڈھونڈ کر واپس لائے جس کے پاس 'چابی' ہو۔ سارہ اور ماہم ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں شارق۔ سارہ نے زبردستی چھیننا چاہا، اور اس نے اپنی محبت کے جال میں تمہیں جکڑ کر وہاں تک پہنچایا۔"
تکرار اور جذباتی کرب
"یہ جھوٹ ہے!" ماہم چلائی اور تیزی سے نیچے آئی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر لہجہ جارحانہ تھا۔ "شارق، میری بات سنو! ہاں، میں اس وادی سے تعلق رکھتی ہوں، مگر مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم ہی وہ شخص ہو۔ میں تو خود اپنی شناخت ڈھونڈنے نکلی تھی۔"
شارق نے اپنا سر ہاتھوں میں تھام لیا۔ ابھی چند گھنٹے پہلے وہ اس لڑکی کے جسم کی خوشبو میں گم تھا، اور اب وہی اس کے لیے ایک معمہ بن گئی تھی۔ "تم نے مجھ سے چھپایا کیوں؟ ہم نے موت کو اتنے قریب سے دیکھا، کیا تب بھی تم مجھ پر بھروسہ نہیں کر سکتی تھیں؟"
ماہم نے شارق کا ہاتھ تھامنے کی کوشش کی، مگر شارق نے اسے جھٹک دیا۔ "تو وہ سب ناٹک تھا؟ وہ قربت، وہ راتیں، وہ سسکیاں... کیا وہ سب مجھے اس قلعے تک لے جانے کا ایک راستہ تھا؟"
شدتِ جذبات اور تلخ حقیقت
ماہم ٹوٹ کر رہ گئی۔ اس نے اپنی قمیض کا کالر تھوڑا پیچھے کیا، جہاں اس کے شانے پر وہی نشان بنا ہوا تھا جو شارق کے گلے والے پتھر پر تھا۔ "اگر یہ سب ناٹک ہوتا شارق، تو میں تمہارے لیے اپنی جان خطرے میں نہ ڈالتی۔ میں اس وادی کی بیٹی ہوں، مگر میں تمہاری محبت میں قید ہو چکی ہوں۔"
فضا میں تناؤ اتنا بڑھ گیا کہ سانس لینا مشکل ہو گیا۔ بوڑھا شخص خاموشی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا جیسے اسے اس انجام کا پہلے سے علم ہو۔
شارق کا غصہ اب ایک بے قابو لہر کی طرح تھا، مگر اس کے ساتھ ہی ماہم کے وجود کی وہ کشش جو اسے ابھی تک مسحور کر رہی تھی، اسے دور جانے نہیں دے رہی تھی۔ اس نے ماہم کو بازو سے پکڑا اور اسے دیوار کے ساتھ لگا دیا۔ اس کی آنکھوں میں غصہ اور چاہت ایک ساتھ رقص کر رہے تھے۔
"اگر تم نے مجھے استعمال کیا ہے، ماہم... تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا،" شارق نے اس کے چہرے کے بالکل قریب ہو کر سرگوشی کی۔
ماہم نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور تڑپ کر بولی، "تو پھر مجھے ابھی ختم کر دو شارق، کیونکہ میں اب تمہارے بغیر اور اس سچ کے ساتھ نہیں جی سکتی۔"
ایک پراسرار حملہ
ابھی ان کے درمیان یہ جذباتی جنگ جاری تھی کہ اچانک گھر کی بڑی کھڑکی کا شیشہ ایک زوردار دھماکے سے ٹوٹا۔ باہر سے کالے لباس میں ملبوس مسلح افراد اندر داخل ہونے لگے۔ یہ سارہ کے وہ ساتھی تھے جو قلعے کی تباہی کے بعد اب انتقام کے لیے شہر تک پہنچ گئے تھے۔
"انہیں زندہ پکڑو!" ایک آواز گونجی۔
شارق اور ماہم کو ایک بار پھر اپنی لڑائی چھوڑ کر ایک دوسرے کا ساتھ دینا پڑا۔ شارق نے قریب پڑا ایک لیمپ اٹھایا اور پہلے آنے والے شخص کے سر پر دے مارا، جبکہ ماہم نے اپنی مہم جوئی کی مہارت دکھاتے ہوئے ایک حملہ آور کو کک مار کر زمین پر گرا دیا۔
بوڑھا شخص دھویں میں غائب ہو چکا تھا، مگر اس کی آواز اب بھی ہال میں گونج رہی تھی: "بھاگو شارق! یہ گھر اب تمہاری پناہ گاہ نہیں رہا!"
وہ دونوں ایک بار پھر اپنی زندگیوں کے لیے بھاگ رہے تھے، مگر اب ان کے درمیان وہ پہلے جیسا بھروسہ نہیں تھا، بلکہ ایک گہرا شک اور ادھوری محبت کا بوجھ تھا۔
چوبیسواں باب: شکوک کا اندھیرا اور اعتراف کی آگ
متروکہ گودام اور تنہائی
گودام کے بھاری زنگ آلود دروازے ایک چیخ کے ساتھ کھلے اور شارق نے گاڑی اندر کر کے دروازے مقفل کر دیے۔ اندر گھپ اندھیرا تھا اور ہوا میں پرانی لکڑی اور لوہے کی بو رچی ہوئی تھی۔ چھت کے ایک ٹوٹے ہوئے حصے سے چاند کی مدھم روشنی نیچے فرش پر پڑ رہی تھی، جس سے ماحول مزید بوجھل لگ رہا تھا۔
شارق خاموشی سے گاڑی سے اترا اور ایک کونے میں پڑے لکڑی کے کریٹ پر جا بیٹھا۔ ماہم گاڑی کے پاس ہی کھڑی رہی، اس کی آنکھیں اب بھی آنسوؤں سے بھری تھیں اور اس کا دل اس شک کے بوجھ سے پھٹا جا رہا تھا جو شارق کی آنکھوں میں واضح تھا۔
"تم اب بھی خاموش ہو؟" شارق نے سرد لہجے میں پوچھا۔ "کیا اب بھی کوئی اور کہانی باقی ہے جو تم نے مجھے نہیں سنائی؟"
اعتراف اور سچائی کا کرب
ماہم دھیرے دھیرے چلتی ہوئی اس کے قریب آئی اور اس کے سامنے فرش پر بیٹھ گئی۔ اس نے شارق کا ہاتھ تھامنے کی کوشش کی، مگر شارق نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔
"شارق، میں مانتی ہوں کہ میرا تعلق اس وادی سے ہے،" ماہم نے سسکتے ہوئے کہا۔ "لیکن قسم لے لو اگر مجھے معلوم ہو کہ تم ہی وہ 'چابی' ہو۔ مجھے تو صرف یہ بتایا گیا تھا کہ میری زندگی کا مقصد اس وادی کو سارہ جیسے لوگوں سے بچانا ہے۔ میں نے تمہیں استعمال نہیں کیا، میں نے تم سے محبت کی ہے!"
اس نے اپنے بیگ سے ایک پرانا، بوسیدہ کاغذ نکالا اور شارق کی طرف بڑھایا۔ یہ اس کی ماں کا آخری خط تھا جو اسے برسوں پہلے ملا تھا۔ خط میں لکھا تھا کہ اسے ایک ایسے شخص کا ساتھ دینا ہوگا جس کے پاس 'نیلم کا نشان' ہوگا، مگر اس کے ساتھ یہ بھی لکھا تھا کہ "اپنی جان دے دینا مگر اس شخص کو کبھی ٹوٹنے نہ دینا"۔
"اگر میں تمہیں استعمال کرنا چاہتی تو غار میں تمہیں اکیلا چھوڑ دیتی،" ماہم نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر کہا۔ "وہاں میں تمہاری خاطر موت کے منہ میں گئی تھی۔ کیا وہ سب بھی میرا 'ناٹک' تھا؟"
رنجش اور بڑھتی ہوئی قربت
شارق کی سختی اب پگھلنے لگی تھی۔ اسے وہ تمام لمحات یاد آنے لگے جب ماہم نے اس کی خاطر اپنی زندگی داؤ پر لگائی تھی۔ غصہ اب پچھتاوے میں بدل رہا تھا۔ اس نے ماہم کے چہرے کو غور سے دیکھا، جو چاندنی میں اور بھی اداس اور دلکش لگ رہا تھا۔
"ماہم..." اس نے دھیمی آواز میں پکارا اور اسے کندھوں سے پکڑ کر اپنے قریب کر لیا۔
ماہم نے اپنا سر اس کے سینے پر رکھ دیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ شارق نے اسے اپنی باہوں میں بھر لیا۔ اس گودام کی تنہائی اور رات کے سناٹے میں، ان کی رنجش اب ایک شدید قسم کی تڑپ میں بدل رہی تھی۔ شارق نے محسوس کیا کہ اس کے دل کی دھڑکن ماہم کی دھڑکن کے ساتھ مل رہی ہے۔
اس نے ماہم کی ٹھوڑی اٹھائی اور اس کی نم آنکھوں کو چوما۔ "مجھے ڈر تھا کہ میں نے ایک بار پھر کسی غلط انسان پر بھروسہ کر لیا، مگر تمہاری آنکھیں جھوٹ نہیں بول سکتیں۔"
گودام کی تپش اور والہانہ پن
جذبات کا وہ سیلاب جو شک کی وجہ سے رکا ہوا تھا، اب پوری قوت سے بہہ نکلا۔ شارق نے ماہم کو وہیں فرش پر بچھے پرانے قالین پر گرا دیا اور اس کے لبوں پر اپنے لب رکھ دیے۔ یہ بوسہ پچھلے تمام بوسوں سے الگ تھا, اس میں معافی تھی، اعتراف تھا اور ایک ایسی شدت تھی جو صرف ٹوٹ کر جڑنے والے دلوں میں ہوتی ہے۔
شارق کے ہاتھ ماہم کے وجود پر بے قرار ہو کر گھومنے لگے۔ اس نے ماہم کی قمیض کے بٹن کھولے تو اس کے سفید شانوں پر چاندنی نے ایک جادوئی چمک بکھیر دی۔ ماہم نے بھی شارق کی شرٹ کے بٹن نوچ ڈالے، جیسے وہ اپنے درمیان موجود ہر رکاوٹ کو ختم کر دینا چاہتی ہو۔
اس گودام کی بوسیدہ دیواروں کے بیچ، پرانے فرنیچر اور مٹی کے ڈھیر کے درمیان، ان کی قربت ایک نئے اور انتہائی 'بولڈ' مرحلے میں داخل ہو گئی۔ ان کے جسموں کی حدت نے وہاں کی خنکی کو ختم کر دیا۔ شارق نے ماہم کو اپنی بانہوں کے شکنجے میں لے کر اسے وہ سکون بخشا جس کی وہ تلاشی تھی۔ ماہم کی سسکیاں اور شارق کی بھاری سانسیں اس وسیع ہال میں گونج رہی تھیں۔ یہ ان کا ایک دوسرے پر دوبارہ اعتبار کرنے کا جشن تھا، جہاں جسمانی ملاپ روحوں کے اعتراف کا ذریعہ بن گیا۔
خطرہ ابھی ٹلا نہیں
ابھی وہ اسی سرشاری کی حالت میں ایک دوسرے کی بانہوں میں لیٹے ہوئے تھے کہ اچانک گودام کے باہر گاڑیوں کے ٹائروں کے رگڑنے کی آواز آئی۔ تیز روشنیوں کی لکیریں درزوں سے اندر آنے لگیں۔
"وہ یہاں پہنچ گئے!" شارق نے تیزی سے اپنے کپڑے درست کرتے ہوئے کہا۔
ماہم نے اپنا خنجر سنبھالا، اس کی آنکھوں میں اب کوئی آنسو نہیں تھا، بلکہ ایک جنگجو کی چمک تھی۔ "اس بار وہ ہمیں الگ نہیں کر پائیں گے۔"
دشمن نے گودام کو چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔ اب ان کے پاس چھپنے کی کوئی جگہ نہیں تھی، انہیں صرف لڑ کر یہاں سے نکلنا تھا۔ شارق نے ایک بھاری لوہے کا راڈ اٹھایا اور ماہم کے پاس آ کھڑا ہوا۔ ان کی ادھوری رات اب ایک خونی مقابلے کی طرف مڑ رہی تھی، جہاں ان کا نیا ملنے والا بھروسہ ان کی سب سے بڑی طاقت تھا۔
پچیسواں باب: آخری فریب اور خونِ تمنا
بے نقاب چہرہ
گودام کے باہر گاڑیوں کا شور بڑھتا جا رہا تھا، مگر اندر کی فضا اچانک منجمد ہو گئی۔ شارق، جو لوہے کا راڈ سنبھالے دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا، اچانک رک گیا۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کی پیٹھ پر کسی ٹھنڈی اور نوکیلی چیز کا دباؤ ہے۔
اس نے گردن موڑ کر دیکھا۔ ماہم، جس کی بانہوں میں وہ ابھی چند لمحے پہلے زندگی کی سب سے بڑی سچائی تلاش کر رہا تھا، اب ایک پتھر کے بت کی طرح کھڑی تھی۔ اس کے ہاتھ میں وہی نیلم کا خنجر تھا جو اسے وادی کے بزرگوں نے دیا تھا، اور اس کا رخ شارق کے دل کی طرف تھا۔
"ماہم؟ یہ کیا مذاق ہے؟" شارق کے لہجے میں اب بھی یقین اور بے یقینی کی جنگ جاری تھی۔
ماہم کے لبوں پر وہ معصوم مسکراہٹ اب ایک شیطانی فاتحانہ ہنسی میں بدل چکی تھی۔ "شارق، تم واقعی بہت سادہ ہو۔ سارہ تو صرف ایک مہرہ تھی جسے میں نے تمہارے جذبات ابھارنے کے لیے استعمال کیا۔ میرا مقصد تمہیں اس مقام تک لانا تھا جہاں تم اپنی مرضی سے اپنا خون اس چابی کے لیے دے دو۔"
استعمال اور دھوکا
گودام کے دروازے کھلے اور وہی مسلح افراد اندر داخل ہوئے، مگر اس بار انہوں نے شارق پر حملہ نہیں کیا، بلکہ وہ ماہم کے سامنے سر جھکا کر کھڑے ہو گئے۔ وہ بوڑھا شخص، جسے شارق اپنا باپ سمجھ رہا تھا، وہ بھی ان کے ساتھ تھا۔
"بہترین کام کیا تم نے، شہزادی،" بوڑھے نے ماہم کی تعریف کی۔
شارق کو ایسا لگا جیسے اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ہو۔ وہ تمام رومانس، وہ سسکیاں، وہ غار کی قربت اور ابھی چند منٹ پہلے گودام کے فرش پر کیا گیا وہ اعترافِ محبت, سب ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ تھا۔ ماہم نے اسے وہاں تک پہنچایا جہاں اس کا دفاع ختم ہو چکا تھا۔
"تم نے مجھ سے محبت کا دعویٰ کیا تھا، ماہم..." شارق کی آواز گلے میں پھنس رہی تھی۔
"محبت کمزوروں کا کھیل ہے شارق۔ میں وادیِ نیلم کی وہ وارث ہوں جسے اپنی طاقت واپس لینے کے لیے تمہارے جیسے ایک 'چابی والے' کی ضرورت تھی۔ اور اب، وہ چابی میرے پاس ہے۔" اس نے شارق کے گلے سے وہ قدیم پتھر چھین لیا۔
موت کا رقص اور آخری لمحات
ماہم نے ایک اشارہ کیا اور اس کے آدمیوں نے شارق کو دبوچ لیا۔ "تمہارا کام ختم ہوا، شارق۔ اب تمہارا خون اس زمین کی پیاس بجھائے گا تاکہ قلعے کا آخری تالا کھل سکے۔"
شارق نے مزاحمت کی کوشش کی، مگر وہ ٹوٹ چکا تھا۔ جس عورت کے لیے اس نے دنیا سے جنگ کی، وہی اس کی قاتل بن کر سامنے کھڑی تھی۔ ماہم نے خنجر ہوا میں لہرایا۔ اس کی آنکھوں میں اب وہ محبت نہیں تھی، صرف اقتدار کی ہوس تھی۔
"الوداع، میرے مہم جو..." ماہم نے سرد مہری سے کہا اور خنجر کی نوک شارق کے سینے میں اتار دی۔
شارق کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔ اسے درد سے زیادہ اس دھوکے کا صدمہ تھا جس نے اس کی روح کو چھلنی کر دیا تھا۔ اس نے آخری بار ماہم کے چہرے کو دیکھا، جو اب بھی اتنا ہی خوبصورت تھا، مگر اب وہ اس کے لیے موت کا پیغام تھا۔ شارق کا وجود فرش پر گر گیا، اور اس کا خون اسی قالین پر پھیلنے لگا جہاں ابھی تھوڑی دیر پہلے ان کی محبت کی داستان رقم ہوئی تھی۔
خونیں اختتام
ماہم نے مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔ وہ اپنے آدمیوں کے ساتھ گودام سے باہر نکل گئی، اپنے پیچھے ایک ایسی لاش چھوڑ کر جس نے سچی محبت کی قیمت اپنی جان دے کر چکائی تھی۔
رات کی خاموشی میں گودام کے اندر صرف شارق کی آخری سانسوں کی آواز تھی، جو آہستہ آہستہ ختم ہو رہی تھی۔ مہم جوئی ختم ہو چکی تھی، رومانس لہو میں ڈوب گیا تھا، اور وادیِ نیلم کا راز ہمیشہ کے لیے ایک غدار شہزادی کے قبضے میں چلا گیا تھا۔
{ ختم شد }
