وقت کا گم شدہ سیکنڈ
Ovais
عجلت پسند شخص کا مضحکہ خیز سفر

باب ۱: عجلت کا بادشاہ، مسٹر ’جلدی کیجیے‘
نادر علی، عرف 'مسٹر جلدی کیجیے'، اس شہر کا سب سے زیادہ عجلت پسند (Hasty) شخص تھا۔ ان کی زندگی ایک تیز رفتار ریل گاڑی کی طرح تھی جو ہمیشہ اگلی منزل کی طرف بھاگ رہی ہو۔ وہ دفتر میں اپنے فون اٹھانے سے پہلے تین بار "ہیلو" کہہ چکے ہوتے تھے، اور کافی آرڈر کرتے وقت ان کا ہاتھ ہمیشہ بار بار گھڑی کی طرف جاتا تھا۔ ان کی ہر بات میں ایک بے چینی اور ہر کام میں ایک غیر ضروری تیزی شامل تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ ایک سیکنڈ کی بچت زندگی کے ایک سال کی بچت کے برابر ہوتی ہے۔
نادر علی وقت کے معاملے میں تھرمامیٹر کی طرح حساس تھے۔ ان کی گھڑی کبھی ایک لمحے کے لیے بھی ڈھیل نہیں دے سکتی تھی۔ ان کے سونے کا وقت، جاگنے کا وقت، یہاں تک کہ چھینک مارنے کا وقت بھی باقاعدہ منصوبہ بندی (Strictly Planned) کے تحت تھا۔
ایک ٹھنڈی صبح، نادر علی معمول کے مطابق ناشتہ کر رہے تھے – جس کے لیے انہوں نے ٹھیک ۴ منٹ اور ۳۲ سیکنڈ مختص کیے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنا چمچہ اٹھایا، لیکن اس سے پہلے کہ وہ آخری نوالہ حلق سے اتارتے، ان کے اندر ایک شدید جھٹکالگا۔ وہ اپنی کلائی پر بند ڈیجیٹل گھڑی کو دیکھنے لگے، جس پر وقت ۰۸:۰۰:۰۰ سے ۰۸:۰۰:۰۲ میں تبدیل ہو چکا تھا۔
"ایک سیکنڈ! میرا ایک سیکنڈ کہاں گیا؟" نادر علی کے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہوئے۔
انہوں نے فوراً گھڑی کو جھٹکا دیا، اسے دیوار سے ٹکرایا، یہاں تک کہ اسے پانی میں ڈبو کر نکالا (یہ چیک کرنے کے لیے کہ کہیں گھڑی جذباتی دباؤ میں تو نہیں آ گئی؟)۔ مگر نہیں! ہر بار کی طرح آج بھی گھڑی نے بے رحمی سے ۰۸:۰۰:۰۲ دکھایا۔ وہ قائل ہو گئے کہ ان کی زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ، ایک سیکنڈ، چوری ہو چکا ہے!
باب ۲: 'ایک سیکنڈ کا نقصان'
نادر علی کے لیے یہ صرف وقت کا نقصان نہیں تھا؛ یہ ان کی ذاتی فلسفے کی شکستتھی!
انہوں نے فوراً چھٹی لی اور اپنی 'گم شدہ سیکنڈ کی بازیابی مہم' کا آغاز کیا۔ ان کا پہلا شکار ان کا دوست، دانش تھا، جو ہمیشہ سستی اور آرام کا شکار رہتا تھا۔
"دانش! میرے ساتھ کیا ہو گیا، تم سمجھ نہیں سکتے!" نادر علی نے دانش کے چائے کی چسکی لیتے ہی اس پر حملہ بول دیا۔
"اچھا؟ کیا تمہاری زندگی کی ساری فائلیں ایک ساتھ کرپٹ ہو گئیں؟" دانش نے آہستگی سے جواب دیا۔
"اس سے بھی برا! میرے پاس اب ایک سیکنڈ کم ہے۔ مجھے وہ سیکنڈ تلاش کرنا ہے۔ ہو سکتا ہے تم نے اسے کہیں لاپرواہی سے ضائع کر دیا ہو اور وہ میرے علاقے میں آ گیا ہو۔"
دانش نے حیرت سے نادر علی کو دیکھا اور تجویز دی کہ وہ شہر کے سب سے مشہور گھڑی ساز، باباجیسے ملیں۔
باباجی کی دکان:باباجی کی دکان وقت کے جنک فوڈ سے بھری تھی— پرانی گھڑیاں، ٹوٹی ہوئی گھنٹیاں، اور رک چکی سوئیاں۔ باباجی نے نادر علی کی بات بہت غور سے سنی، پھر اپنی سفید داڑھی سہلاتے ہوئے کہا:
"بیٹا! تم وہ شخص ہو جو ہمیشہ وقت سے لڑتا ہے۔ تم وقت کو دیکھتے ہو، اسے محسوس نہیں کرتے۔ تمہارا سیکنڈ گم نہیں ہوا، بلکہ تم نے اسے ضرورت سے زیادہ تیزی میں استعمال کر لیا۔ وہ سیکنڈ پگھل کر تمہارے ماضی میں کہیں ٹھہر گیا ہے۔"
باباجی نے اسے ایک چھوٹا سا خالی بوتل دی اور کہا: "تمہیں وہ سیکنڈ واپس چاہیے؟ تو تمہیں وہ وقت ڈھونڈنا ہو گا جہاں تم 'جلدی کیجیے' نہیں تھے، جہاں تم نے چیزوں کو سچائی سے محسوس کیا تھا۔ تم وہ فراموش شدہ لمحہ اس بوتل میں قید کر کے لاؤ۔"
باب ۳: فراموش شدہ لمحات کی تلاش
نادر علی نے باباجی کے مشورے پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا، اگرچہ یہ مشورہ انہیں انتہائی مضحکہ خیز لگا۔ وہ اب شہر میں ایک مختلف قسم کے مشن پر نکلے تھے: سستی کے لمحے تلاش کرنا۔
1: بس اسٹاپ کا ڈرامہ:
انہیں یاد آیا کہ ایک بار وہ بس کا انتظار کر رہے تھے اور ایک بوڑھی خاتون اپنے بیگ کے ساتھ بہت آہستہ سیڑھیوں پر چڑھ رہی تھی۔ عام طور پر نادر علی چیخ کر بس ڈرائیور کو روکنے کا مطالبہ کرتے، لیکن اس دن انہوں نے غیر ارادی طور پر ایک سیکنڈ کے لیے صبر کیا تھا۔
جگہ کا مشاہدہ: وہ اس بس اسٹاپ پر واپس گئے اور خاموشی سے اس پرانی بینچ پر بیٹھ گئے جہاں انہوں نے انتظار کیا تھا۔ انہوں نے پہلی بار آسمان کا رنگ دیکھا، فٹ پاتھ پر لگے پودوں کی سبزہٹ کو محسوس کیا، اور ایک بچے کی ہنسی سنی۔ جب انہوں نے گہری سانس لی، تو انہیں لگا جیسے ہوا کا ایک چھوٹا سا جھونکا بوتل میں داخل ہو گیا ہو۔
2: ادھوری کافی کا معمہ:
انہیں یاد آیا کہ وہ ہمیشہ اپنی کافی کا آخری گھونٹ یہ سوچ کر چھوڑ دیتے تھے کہ "آخری گھونٹ ٹھنڈا ہو چکا ہو گا، اس پر وقت ضائع مت کرو۔"
جگہ کا مشاہدہ: وہ کافی شاپ پر گئے، وہی کافی آرڈر کی اور جان بوجھ کر آخری ٹھنڈے گھونٹ کو پینے کے لیے وقت لیا۔ اس گھونٹ میں کوئی جادوئی لذت نہیں تھی، لیکن اسے ختم کرنے کا اطمینان تھا۔ انہیں لگا جیسے کافی کی بھاپ کا ایک قطرہ بوتل میں چلا گیا ہے۔
3: گھر کی پرانی دیوار:
سب سے اہم لمحہ وہ تھا جب انہیں یاد آیا کہ ان کی والدہ ہمیشہ انہیں کسی بھی اہم کام سے پہلے سست ہونے اور ایک لمحہ سوچنے کا مشورہ دیتی تھیں۔ وہ ہمیشہ اس مشورے کو بے کار جان کر ٹال دیتے تھے۔
جگہ کا مشاہدہ: وہ گھر کی پرانی دیوار کے پاس کھڑے ہوئے جہاں ان کی والدہ نے آخری بار انہیں یہ بات کہی تھی۔ نادر علی نے پہلی بار کھڑے ہو کر، بغیر کسی مقصد کے، آنکھیں بند کیں۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ان کی والدہ کی بات میں کتنی محبت اور دانشمندی تھی۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں انہوں نے جان بوجھ کر وقت کو اپنی گرفت سے آزاد کر دیا تھا۔
باب ۴: سیکنڈ کی واپسی اور فلسفیانہ گتھی
بوتل اب بھری ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ نادر علی واپس باباجی کی دکان پر گئے۔
"باباجی، یہ لیجیے وہ لمحے جو میں نے ہمیشہ ضائع سمجھے۔ کیا اب میرا سیکنڈ واپس آ جائے گا؟" نادر علی نے اشتیاق سے پوچھا۔
باباجی مسکرائے۔ انہوں نے بوتل پکڑی اور اسے ایک پرانے پینڈولم والی گھڑی کے قریب رکھ دیا۔ گھڑی کی سوئیاں ۰۷:۵۹:۵۹ پر ٹھہر گئیں۔ اور پھر، بوتل سے خاموشی کی ایک لہر اٹھی، اور گھڑی کی سوئیاں جھٹکے سے ۰۸:۰۰:۰۰ پر آ گئیں۔
"دیکھا بیٹا؟" باباجی نے کہا، "تمہارا سیکنڈ واپس آ گیا۔"
"لیکن یہ کیا تھا؟ کیا یہ سچ میں وہ ایک سیکنڈ تھا جو گم ہو گیا تھا؟" نادر علی نے حیرت سے پوچھا۔
باباجی نے سر ہلایا: "گمشدہ سیکنڈ کبھی مادی نہیں تھا۔ تم نے اپنی زندگی میں وہ تمام سیکنڈ ضائع کیے جب تم نے سکون کو اہمیت نہیں دی۔ تم صرف بھاگتے رہے، اور اسی بھاگ دوڑ میں تمہارے دماغ نے اطمینان کے سیکنڈز کو محسوس کرناچھوڑ دیا۔ وہ سیکنڈ جو تم نے واپس لائے، وہ صرف وقت نہیں تھا، وہ مشاہدہ، شکرگزاری اور صبر تھا۔ جب تم نے یہ چیزیں محسوس کیں، تو تمہارے دماغ نے وقت کو دوبارہ مکمل تسلیم کر لیا۔"
باب ۵: سست روی کا ہیرو
نادر علی نے باباجی کے فلسفے کو سمجھ لیا تھا۔ انہوں نے سیکھا کہ زندگی کی رفتار تیز کرنے کا مطلب زندگی کو ضائع کرنا ہے۔
نادر علی اب بھی محنتی تھے، لیکن اب وہ مسٹر جلدی کیجیے نہیں تھے، بلکہ مسٹر رُک جائیے بن گئے تھے۔
اب جب وہ کافی پیتے تو آخری گھونٹ کا مزہ لیتے تھے۔
جب انہیں سڑک پر کوئی رکاوٹ ملتی، تو وہ ہلکا سا مسکرا کر انتظار کر لیتے، اور اپنے بیگ سے وہی خالی بوتل نکال کر ہوا کو سونگھتے۔
وہ اپنے دفتر میں اب بھی کامیاب تھے، لیکن وہ اپنے ماتحتوں کو کام کے بیچ میں لمبی گہری سانس لینے کا مشورہ دیتے تھے۔
انہوں نے وہ ایک سیکنڈ واپس پا لیا تھا، لیکن اس کے بدلے میں انہیں لاکھوں قیمتی لمحات کا تحفہ ملا تھا، جو انہوں نے عجلت کی نذر کر دیے تھے۔ اور یہی گمشدہ سیکنڈ کی کہانی کا سب سے بڑا فلسفیانہ موڑ تھا۔
